تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 36

  1. فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾

    1. فَمَالِ الَّذِيْنَتو کیا ہے ان لوگوں کو
    2. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    3. قِبَلَكَآپ کی طرف۔ آپ کے سامنے
    4. مُهْطِعِيْنَدوڑ کے آنے والے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
فمال الذین کفروا قبلک مھطعین۔ احفش نے کہا (2) مھطعین کا معین ہے جلدی جلدی آتے ہیں۔ ایک شاعر نے کہا : شاعر نے کہا بمکۃ اھلھا ولقد اراھم الیہ مھطعین الی السماع مکہ مکرمہ میں اس کے مکین ہیں، میں انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ بات سننے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ معنی ہے انہیں کیا ہوگیا ہے وہ آپ ﷺ کی طرف جلدی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اردگرد بیٹھتے ہیں اور آپ ﷺ انہیں جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں کیا گیا ہے۔ وہ آپ ﷺ کو جھٹلانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار کو کیا ہوگیا وہ آپ ﷺ کی بات سننے میں جلدی کرتے ہیں تاکہ وہ آپ ﷺ کی عیب جوئی کریں اور آپ ﷺ کا مذاق اڑائیں۔ عطیہ نے کہا : مھطعین کا معنی ہے وہ اعراض کرتے ہیں کلبی نے کہا، وہ تعجب سے آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں۔ قتادہ نے کہا، وہ قصد کرتے ہیں۔ معنی قریب قریب ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے وہ آپ ﷺ کی طرف جلدی کرتے ہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی گردنوں کو لمبا کئے ہوتے ہیں اور لگاتار آپ ﷺ کو دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ دشمن کی نظر ہوتی ہے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ آیت استہزاء کرنے والے منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تو ہوتے مگر ایمان نہ لاتے قبلک کا معنی ہے آپ ﷺ کی طرف۔