تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 37
عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ﴿37﴾
- عَنِ الْيَمِيْنِدائیں طرف سے
- وَعَنِ الشِّمَالِاور بائیں طرف سے
- عِزِيْنَگرو درگروہ
Translation · Al-Qurtubi
(اور) دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر (جمع ہوجاتے ہیں)
Tafseer · Al-Qurtubi
عن الیمین وعن الشمال عزین۔ وہنبی کریم ﷺ کی دائیں اور بائیں جانب سے حلقے بناتے ہوئے اور جماعت ور جماعت۔ عزین کا معنی ہے مختلف جماعتیں، یہ ابو عبید کا قول ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے، آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا : مالی اراکم عزین الاتصفون کما تصف الملائکۃ عند ربھا، قالوا وکیف تصف اللائ کہ عند ربھا ؟ قال : یتمون الصفوف الائون ویتراضون فی الصف (1) امام مسلم اور دوسرے علماء نے اسے روایت کیا ہے۔
فرمایا : کیا وجہ ہے میں تمہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھتا ہوں کیا تم اس طرح صفیں نہیں بنائو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں صحابہ نے عرض کیا : فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ فرمایا : وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے مل کر بیٹھتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
ترانا عندہ واللیل داج علی ابوابہ حلقاً عزینا (2)
تو ہمیں اس کے ہاں اس کے دروازوں پر مختلف حلقوں کی صورت میں دیکھتا ہے جبکہ رات انتہائی تاریک ہوتی ہے۔
راعی نے کہا :
اخلیفۃ الرحمٰن ان عشیرتی اممی سراتھم الیک عزینا
اے رحمٰن کے خلیفہ ! بیشک میرا خاندان گروہ گروہ تیری طرف راتوں کو چلتے ہوئے آتا ہے۔
کمیت نے کہا۔
ونحن وجندل باغ ترکنا کتائب جندل شتی عزینا
ہم نے جندل کے لشکروں کو مختلف گروہوں کی صورت میں چھوڑا جبکہ جندل بغاوت کرنے والا تھا۔
عزین کا واحد عزۃ ہے۔ وائو، نون کے ساتھ اس کی جمع بنائی گئی تاکہ اس سے جو حرف حذف ہے اس کا یہ عرض بنا جائے۔ اصل میں یہ عزھۃ تھا۔ اسی میں وہی تعلیل جاری ہوگی جو سنۃ میں جاری ہوئی، اس کے نزدیک جس نے اس کی اصل سنھۃ بنائی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی اصل عزوۃ ہے۔ یہ عزاہ، یعزوہ سے مشتق ہے جب وہ اسے کسی اور کی طرف منسوب کرے۔ ان جماعتوں میں سے ہر ایک دوسری کی طرف منسوب ہے۔ یہاں جو حرف حذف ہے وہ واو ہے۔ صحاح میں اس طرح ہے عزۃ سے مراد لوگوں کا ایک فرقہ ہے، ھاء، یاء کا عوض ہے۔ اس کی جمع عزی، فعل کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع عزون اور عزون کے وزن پر آتی ہے۔ انہوں نے اس کی جمع عزات نہیں بنائی جس طرح انہوں نے ثبات کہی۔ اصمعی نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے فی الدارعزون یعنی لوگوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ عن الیمیمن و عن الشمال یہ مھطعین کے متعلق ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عزین کے متعلق ہو جس طرح تیرا قول ہے : اخذتہ عن زید۔
ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم۔ مفسرین نے کہا : مشرک نبی کریم ﷺ کے اردگرد جمع ہوجاتے، آپ ﷺ کی گفتگو سنتے، اس کو جھٹلاتے، آپ پر جھوٹ بولتے اور آپ ﷺ کے صحابہ سے استہزاء کرتے اور کہتے : اگر یہ جنت میں داخل ہوئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، اگر انہیں جنت کی کوئی چیز دی گی تو ہمیں ان سے زیادہ چیز دی جائے گی۔ تو یہ آیت ایطمع نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استہزاء کرنے والوں کے پانچ گروہ تھے۔
حضرت حسن بصری، حضرت طلحہ بن مصرف اور اعرج نے ان یدخل قرأت کی ہے، یاء پر زبر اور خاء پر پیش ہے۔ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ مفضل نے اسے عاصم سے روایت کیا ہے باقی نے اسے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔
کلا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے پھر نئے سرے سے کلام شروع کی اور فرمایا : ان خلقنھم مما یعلمون۔ یعنی وہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑا سے پیدا کیا گیا ہے جس طرح اس کی ساری جنس کو پیدا کیا گیا۔ انہیں کوئی فضیلت نہیں جس کے باعث وہ جنت کے مستحق بنیں، جنت کا مستحق تو ایمان، عمل صالح اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بنا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مسلمان فقراء کا مذاق اڑایا کرتے اور ان پر تکبر کرتے تو فرمایا : انا خلقنھم مما یعلمون۔ انہیں تکبر کرنا مناسب نہیں قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اے انسان ! تو ایک گندے قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے : تو اللہ سے ڈر۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ مطرف بن عبداللہ بن شخیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو خز (ریشم) کی چادر اور جبہ میں اکڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو اسے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! یہ کیسی چال ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ؟ مہلب نے مطرف سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ فرمایا : ہاں تیرا آغاز گندے نطفہ سے ہے اور تیری انتہاء بدبو دار لاشہ ہے، اس کے درمیان تو غلاظت کو اٹھائے ہوئے ہے۔ مہلب چلا گیا اور اس کو ترک کردیا۔ محمود وراق نے اسی مضمون کو اشعار میں بیان کیا ہے :
عجبت من معجب بصورتہ وکان فی الاصل نطفۃ مذرۃ
وھوغذا بعد حسن صورتہ یصیر فی اللحد جیفۃ قذرۃ
وھو علی تیھہ ونخوتہ مابین ثوبیہ یحمل العذرۃ
میں اس آدمی پر متعجب ہوا جس کی صورت پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اصل میں وہ ایک گندا نطفہ ہے۔ وہ کل حسن صورت کے باوجود و لحد میں بدبودار لاشہ ہوگا۔ وہ اپنے تکبر اور نخوت کے باوجود اپنے کپڑوں کے درمیان غلاظت اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے کہا :
ھل فی ابن آدم غیر الراس مکرمۃ وھو بخمس من الاوساخ مضروب
انف یسیل واذن ریحھا سھک والعین مرمصۃ والشغر ملھوب
یابن التراب وما کول التراب غداً قصر فانک ماکول و مشروب
کیا سر کے علاوہ انسان میں عزت والی شی ہے جبکہ اس میں پانچ میل والی چیزیں ہیں۔ ناک بہتی ہے، کان کی بو ناپسندیدہ ہے، آنکھ میں کیچڑ ہوتا ہے اور دانتوں پر میل ہے۔ اے مٹی سے جنم لینے والے ! اور کل جس کو مٹی کھا جائے گی ! اپنے آپ کو پست رکھ تجھے کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس مقصد کے لئے جسے وہ جانتے ہیں۔ وہ امر، نہی، ثواب اور عقاب ہے جس طرح شاعر کے قول میں من اجلیہ ہے، یہ اعشی کا قول ہے : ازمعت من آل لیلی ابتکارا کیا تو نے آل لیلی کے لئے جلدی کا قصد کیا ہے۔