تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 4

  1. تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾

    1. تَعْرُجُچڑھتے ہیں
    2. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
    3. وَالرُّوْحُاور روح
    4. اِلَيْهِاس کی طرف
    5. فِيْ يَوْمٍایک دن میں
    6. كَانَ مِقْدَارُهٗہے اس کی مقدار
    7. خَمْسِيْنَپچاس
    8. اَلْفَ سَنَةٍہزار سال
Translation · Al-Qurtubi
جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا
Tafseer · Al-Qurtubi
فی یوم کان مقتدارہ خمسین الف سنۃ۔ وہب، کلبی اور محمد بن اسحاق نے کہا، ملائکہ کا عروج اس مکان کی طرف ہوگا جو ان کا محل ہے۔ اتنے وقت میں ہوگا کہ اگر کوئی اور اوپر چڑھے تو اس کو ایک ہزار سال کا عرصہ لگتا۔ وہب نے یہ بھی کہا، زمین کے پست ترین حصہ سے عرش تک پہچ اس ہزار سال کی مسافت ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس آیت اور سورة سجدہ کی آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ : 5) میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آیت میں زمین کی پست ترین جگہ سے اس کے امر کی انتہا اور آسمانوں سے اوپر اس کے امر کی انتہا میں پچاس ہزار سال کا عرصہ حائل ہے اور الم۔ تنزیل میں فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے امر کا نزول آسمان دنیا سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں ہوتا ہے۔ وہ مقدار ایک ہزار سال ہے کیونکہ زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ مجاہد، حکم اور عکرمہ سے مروی ہے، یہ دنیا کی عمر کی مدت ہے جب سے اسے پیدا کیا گیا ہے اس وقت سے لے کر جب تک یہ باقی رہے گی وہ پچاس ہزار سال ہیں (1) کوئی نہیں جانتا کہ کتنا عرصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جاتنی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے یعنی جس میں وہ فیصلہ فرمائے گا۔ اگر مخلقو اس کی ذمہ دار ہوتی تو پچاس ہزار سال لگ جاتے، یہ قول عکرمہ، کلبی اور محمد بن کعب نے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں اسی ساعت فارغ ہوجاتا ہوں۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد یوم قیامت ہے لیکن یوم قیامت ضم نہ ہوگا (2) مراد حساب کے لئے ان کا کھڑا ہونا ہے۔ وہ دنی دنیا کے پچسا ہزار سال کے برابر ہے۔ پھر جنتی اور جہنمی اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا جائیں گے۔ یمان نے کہا : اس سے مراد یوم قیامت ہے (3) اس میں پچسا موطن ہیں۔ ہر موطن ہزار سال کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مراد یوم قیامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اسے پچسا ہزار سال کے برابر کردیا ہے، پھر انہیں ہمیشہ کیلئے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : اس آیت کی تعبیر میں جو اقوال کئے گئے ہیں ان میں سے سب سے اچھا قول ہے، اس کی دلیل وہ روایت ہے جسے قاسم بن اصبغ نے حضرت ابو سعید خدری سے بیان کیا ہے۔ (4) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ “ میں نے پوچھا : یہ کتنا لمبا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ دن مومن پر خفیف ہوگا یہاں تک کہ دنیا میں جتنے وقت میں وہ فرض نماز پڑھا کرتا تھا اس سے زیادہ خفیف ہوگا۔ ‘ نحاس نے اس قول کی صحت پر اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے سہیل نے اپنے باپ سے وہ حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں :” ہر وہ شخص جس نے اپنے مال کی زکوۃ نہ دی اللہ تعالیٰ اسے جہنم کا ساپن بنا دے گا جس کے ساتھ اس کی پیشانی، اس کی پشت اور پہلوئوں کو داغا جائے گا۔ ایسے دن میں جس کی مقدارپ چ اس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائے گا۔ “ (5) کہا : یہ اس امر پر دال ہے کہ مراد یوم قیامت ہے۔ ابراہیم تیمی نے کہا : مومن کے اوپر یہ دن اتنا ہی طویل ہوگا جس قدر ظہر اور عصر کا فاصلہ ہے۔ یہی معنی حضرت معاذ سے مروی ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں :” اللہ تعالیٰ تمہارا محاسبہ اتنے وقت میں کرے گا جتنا وقت دو نمازوں کے درمیان ہوتا ہے۔ “ (6) اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام سریع الحساب۔ (البقرہ) اور اسرع الحسبین۔ (الانعام) رکھا ہے، ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ فراغت نصف دن میں ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقراواحسن مقیلاً ۔ (الفرقان) یہ مخلقوات کے فہم کے حساب سے ہے ورنہ کوئی کام اللہ تعالیٰ کو کسی کام سے غافل نہیں کرتا جس طرح وہ ایک ساعت میں رزق عطا فرماتا ہے اسی طرح ایک ساعت میں حساب بھی کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ماخلقکم ولابعثکم الا کنفس واحدۃ (نعمان : 28 ) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں اور فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ) کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : یہا ی سے دن ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کا نام رکھا ہے وہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی ایسی بات کروں جن کے بارے میں آگاہ نہ ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خمسین الف سنۃ کے الفاظ بطور تمثیل کے ہیں۔ یہ میدان محشر میں مدت کے لمبا ہونے کی پہچان کرائی گئی ہے جو انسان وہاں مشکلات پائے گا۔ عرب شدت کے ایام کی صفت طول سے بیان کرتے اور خوشی کے دنوں کی صفت قصر سے بیان کرتے۔ شاعر نے کہا : ویم کظل الرمع قصر طولہ دم الزق عنا واصطفاق المزاھر کتنے ہی دن ہیں جو نیزے کے سایہ کی طرح ہیں شراب اور بربط کے تاروں کے ہلنے نے ہم پر اس کی طوالت کو مختصر کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے سائل نے ایسے عذاب کا سوال کیا جو کافروں پرو اقع ہونے والا تھا، اس کو روکنے والا کوئی نہیں (1) وہ ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ملائکہ اور روح اس کی طرف عروج کرتے ہیں، یہی وہ قول ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی توفیق دینے والی ہے۔