تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 5
فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا﴿5﴾
- فَاصْبِرْپس صبر کیجیے
- صَبْرًاصبر
- جَمِيْلًااچھی طرح
Translation · Al-Qurtubi
(تو تم کافروں کی باتوں کو) حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو
Tafseer · Al-Qurtubi
فاصبر صبراً جمیلاً ۔ آپ ﷺ کی قوم جو آپ کو اذیتیں دے رہی ہے اس پر صبر کیجیے۔ صبر جمیل سے مراد یہ ہے ایسا صبر جس میں جزع نہ ہو اور نہ ہی غیر اللہ کے ہاں شکوہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم میں مصیبت والا ہو مگر یہ معلمو نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔
انھم یرونہ بعیداً ۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ جہنم کے عذاب کو بعید خیال کرتے ہیں یعنی وہ ہوگا ہی نہیں۔ ونرہ قریباً ۔ کیونکہ جو عذاب واقع ہونے والا ہوتا ہے وہ قریب ہی ہوتا ہے (2) اعمش نے کہا، وہ بعث کو بعید خیال کترے ہیں کیونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ گویا وہ اسے محال ہونے کے اعتبار سے بعید خیال کرتے ہیں جس طرح تو اس آدمی کو کہتا ہے جس سے بحث کرتا ہے، ھذا بعید لایکون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس دن کو بعید خیال کرتے ہیں اور ہم اسے قریب جانتے ہیں کیونکہ رویۃ موجود کے متعلق ہے۔ تیرے اس قول کی طرح ہے : الشافعی یری فی ھذہ المسئلۃ کذا وکذا۔