تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 44
خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾
- خَاشِعَةًدبی ہوئی ہوں گی۔ جھکی ہوئی ہوں گی
- اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
- تَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوں گی ان پر
- ذِلَّةٌذلت
- ذٰلِكَیہ ہے
- الْيَوْمُدن
- الَّذِيْجو
- كَانُوْاوہ تھے
- يُوْعَدُوْنَوعدہ کیے گئے
Translation · Al-Qurtubi
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا
Tafseer · Al-Qurtubi
خاشعۃ ابصارھم آنکھیں جھکی ہوئی اور ذلیل ہیں۔ انہیں کیونکہ عذاب کی توقع ہے اس لئے وہ اپنی نظروں کو اوپر نہیں اٹھاتے۔ ترھقھم ذلۃ ان پر ذلت چھا جائے گی (2) قتادہ نے کہا، اس سے مراد چہروں کی سیاہی ہے۔ ھق سے مراد چھا جاتا ہے اسی سے لغام مراھق ہے جب احتلام کا وقت قریب ہوجائے اور چھانے والا۔ ……پر چھا گیا۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا یرھق وجوھھم قتر ولا ذلۃ (یونس : 26) ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون۔ دنیا میں انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ ان کے لئے عذاب ہے۔ فعل ماضی کے ساتھ خبر دی گئی ہے کیونہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا وہ ضرور ہو کر رہے گا۔