تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 13
وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ﴿13﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ
- لَمَّاجب
- سَمِعْنَاہم نے سنی
- الْهُدٰٓىہدایت
- اٰمَنَّاہم ایمان لے آئے
- بِهٖ ۭاس پر
- فَمَنْ يُّؤْمِنْۢسو جو ایمان لائے
- بِرَبِّهٖاپنے رب پر
- فَلَا يَخَافُتو اسے خوف نہ ہوگا
- بَخْسًاکسی نقصان
- وَّلَا رَهَقًااور نہ کسی ظلم
Translation · Al-Qurtubi
اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا
Tafseer · Al-Qurtubi
وانا لما سمعنا الھدی امنابہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ حطبا۔
آیت میں الھدی سے مراد قرآن ہے۔ امنا بہ میں ضمیر مجرور سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہم نے حضرت محمد ﷺ کے رسول ہونے پر آپ کی تصدیق کی۔ رسول اللہ ﷺ انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کو انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے جنوں، بادیہ نشینوں اور عورتوں میں سے کبھی کوئی رسول مبعوث نہیں کیا اس کا معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما ارسلنا من قبلک الارجالانوحی الیھم من اھل القری (یوسف 109) یہ بحث پہلے گزرچکی ہے صحیح میں ہے، بعثت الی الاحمر والاسود۔ یعنی جنوں اور انسانوں کی طرف مجھے مبعوث کیا گیا (جو اپنے رب پر ایمان لاتا ہے تو وہ جزا میں کمی اور ظلم کا خوف نہیں رکھتا) ۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ ہی اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا کیونکہ بخس کا معنی کمی اور رھق کا معنی حد سے تجاوز کرنا اور حرام کردہ چیزوں کو بجالانا ہے۔ اعمش نے کہا :
لاشئی ینفعنی من دون روئتھا ھل یشتفی وامق مالم یصب رھقا۔
اس کے دیدار کے سوا مجھے کوئی چیز نفع نہیں دیتی کیا عاشق جب تک محبوب پر رسائی نہیں پائے گا وہ شفایاب ہوگا۔ وامق کا معنی محب ہے، ومق یمق کا معنی محبت کرنا ہے یہ جنوں کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کی حکایت بیان کی ہے کہ وہ ایمان کے قوی اور صحیح اسلام والے تھے عام قراء کی قرات فلایخاف ہے تقدیر کلام یوں ہے، فانہ لایخاف، اعمش یحییٰ اور ابراہیم نے اسے فلایخف مجزوم پڑھا ہے کیونکہ یہ جواب شرط ہے اور فاء لغو ہے۔