تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 14
وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا﴿14﴾
- وَّاَنَّا مِنَّااور یہ کہ ہم میں سے
- الْمُسْلِمُوْنَمسلمان (جمع)
- وَمِنَّااور ہم میں سے
- الْقٰسِطُوْنَ ۭگنہگار
- فَمَنْ اَسْلَمَپس جو اسلام لایا
- فَاُولٰٓئِكَتو وہی ہیں
- تَحَرَّوْاانہوں نے قصد کیا
- رَشَدًابھلائی کا
Translation · Al-Qurtubi
اور یہ کہ ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں تو جو فرماں بردار ہوئے وہ سیدھے راستے پر چلے
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منا المسلمون ومناالقاسطون۔ یعنی قرآن کے سننے کے بعد ہم ایک دوسرے سے مختلف تھے ہم میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہوگئے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے۔ قاسط کا معنی ظالم ہے کیونکہ وہ حق سے روگردانی کرنے والا ہوتا ہے۔ مقسط کا معنی عادل ہے کیونکہ وہ حق کی طرف پھرنے والا ہوتا ہے کہا جاتا ہے، قسط یعنی ظلم کیا اور اقسط یعنی اس نے عدل کیا شاعر نے کہا : قوم ھم قتلوا ابن ھند عتوۃ، عمرا وھم قسطوا علی النعمان۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابن ہند یعنی عمرو کو ظلم کے ساتھ قتل کیا اور انہوں نے نعمان پر ظلم کیا۔
فمن اسلم فاو لئک تحرو رشدا۔ (جواسلام لائے انہوں نے ہدایت کا قصد کیا) یعنی حق کے راستہ کا قصد کیا اسی سے تحری القبلہ یعنی قبلہ کو تلاش کیا ہے رہے وہ لوگ جو حق اور ایمان کے راستے سے اعراض کرنے والے ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔