تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 18
وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ﴿18﴾
- وَّاَنَّاور یہ کہ
- الْمَسٰجِدَمسجدیں
- لِلّٰهِاللہ کے لئے
- فَلَا تَدْعُوْاتو تم نہ پکارو (بندگی نہ کرو)
- مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Al-Qurtubi
اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو
Tafseer · Al-Qurtubi
وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مساجد سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ اس آیت کا تعلق قل اوحی الی کے ساتھ ہے یعنی کہہ دو ، میری طرف وحی کی گئی ہے کہ مساجد الہ تعالیٰ کے لیے ہیں خلیل نے یوں تقدیر کلام کی ہے، لان المساجد للہ کیونکہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، بیوت سے مراد وہ مقامات ہیں جو ادیان کے حاملین عبادت کے لیے بناتے ہیں سعید بن جبیر نے کہا، ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم مساجد میں آئیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں جب کہ ہم تو آپ سے دور ہوتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت بجالانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد تمام جگہیں ہیں کیونکہ ساری زمین نبی کریم ﷺ کے لیے مسجد ہے۔ آپ فرماتے ہیں تم جہاں بھی ہو نماز پڑھ لو۔ تم جہاں بھی نماز پڑھو گے وہ مسجد ہے۔ صحیح میں ہے میرے لیے زمین مسجد اور پاکیزگی عطا کرنے والی بنادی گئی ہے، سعید بن مسیب اور طلق بن حبیب نے کہا، مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر بندہ سجدہ کرتا ہے وہ دو قدم، دو گھٹنے، دوہاتھ، اور چہر ہے۔ یہ اعضاء ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام کیا ہے تو ان اعضاء کے ساتھ غیر کو سجدہ نہ کر اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرے گا۔ عطاء نے کہا، مساجدک سے مراد تیرے وہ اعضاء ہیں جن کے بارے میں تجھے حکم دیا گیا کہ تو ان پر سجدہ کرے تو انہیں خالق کے سوا کے لیے ذلیل نہ کر۔ صحیح میں حضرت ابن عباس سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، پیشانی اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنے اور دونوں کندھوں کی طرف۔
حضرت عباس نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ سجدہ کرے تو اس کے ساتھ اس کے سات اعضاء سجدہ کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مساجد سے مراد نمازیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے سجدہ۔ حضرت حسن بصری نے بھی یہی قول کیا ہے اگر مساجد سے مراد مواضع لیے جائیں تو اس کی واحد مسجد ہوگی یہ بھی کہا گیا ہے اس کی واحد مسجد ہوگی، قراء نے اس کی حکایت بیان کی ہے اگر تو اس سے مراد اعضاء لے تو اس کی واحد مسجد ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مسجد کی جمع ہے جس کا معنی سجود ہے، یہ قول کیا جاتا ہے، سجدت سجودا مسجدا جس طرح تو کہتا ہے، ضربت فی الارض ضربا ومضربا۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو رزق کی تلاش میں جائے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہاں مساجد سے مراد حکم ہے جو قبلہ ہے مکہ مکرمہ کو مساجد کا نام دیا کیونکہ ہر ایک اس کی طرف منہ کرکے سجدہ کرتا ہے پہلاقول ان تمام اقوال سے زیادہ نمایاں ہیں انشاء اللہ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کی فضیلت۔
مسئلہ نمبر 2۔ للہ میں اضافت شرف اور رتبہ کے اظہار کے لیے ہے، پھر ان مساجد میں سے بیت عتیق کو خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا میرے گھر کو پاک کرو، اور رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، سواریوں کو تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کے لیے کام میں نہ لایاجائے۔ اس حدیث کو ائمہ نے تخریج کیا ہے اس بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، میری اس مسجد میں پڑھی جانے والی ایک نماز مسجد حرام کے سوا باقی تمام مسجدوں میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔ ابن عربی نے کہا، ایک سند سے یہ روایت مری ہے جس میں خوئی کجی نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، میر اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے سوا باقی مساجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے کیونکہ مسجد حرام میں پڑھی جانے والی ایک نماز میری مسجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے اگر یہ صحیح ہوتومسجد حرام کی فضیلت میں یہ ایک نص ہوگی۔ میں کہتا ہوں : یہ روایت صحیح ہے جو ایک عادل سے دوسرے عادل سے منقول ہے جس طرح ہم نے سورة ابراہیم میں بیان کیا ہے۔
مساجد کی اضافت غیر کی طرف کرنے کا جواز۔
مسئلہ نمبر 3۔ مساجد اگرچہ ملک اور شرافت کے اظہار کے لی اللہ کی ہیں تاہم علامت کے طور پر غیر کی طرف بھی منسوب ہوتی ہیں تو کہا جاتا ہے، مسجد فلاں، صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم نے ضامر گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی اور جن گھوڑوں کو ضامر نہیں بنایا جاتا تھا اس کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ یہ اضافت محلیت کے اعتبار سے ہے گویا وہ محل ان کے قبلہ میں ہے بعض اوقات ان کے وقف کرنے کے اعتبار سے ہوتی ہے پل اور قبرستانوں کے خاص کرنے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں اگرچہ دوسری چیزوں کی تخصیص میں اختلاف ہے۔
مسجد میں کون سے کام جائز ہیںَ
مسئلہ نمبر 4۔ مساجد اللہ کے لی ان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی کا ذکر نہیں کیا جاسکتا تاہم ان میں اموال کی تقسیم جائز ہے ان میں صدقات رکھنا بھی جائز ہے یہ سب مساکین میں مشترک ہے اور ان میں جوائے وہ اس سے کھا لیے، اس میں مقروض کو روک لینا بھی جائز ہے اس میں قیدی کو باندھ دینا بھی جائز ہے اس میں سو جائز ہے مریض کا رہنا جائز ہے، پڑوسی کا اس میں دروازہ کھولنا جائز ہے شعر جب باطل سے پاک ہو تو اس کا پڑھنا جائز ہے یہ سب باتیں سورة براءت سورة نور دوسری سورتوں میں گزرچکی ہیں۔
اس آیت کے نزول کا سبب۔
مسئلہ نمبر 5۔ فلاتدعوامع اللہ احدا۔ مسجد حرام میں مشرک جو غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اس پر انہیں شرمندہ کرنا ہے مجاہد نے کہا، یہودی اور نصرانی اپنی عبادت گاہوں میں داخل ہوتے تو اللہ کے ساتھ شرک کرتے اللہ نے اپنے نبی کو اور مومنوں کو حکم دیا کہ وہ جب مساجد میں داخل ہوں تو عبادت کو اللہ کی ذات کے لیے خالص کریں، اسے ہنسی مذاق کی جگہ، تجارتی منڈی، بیٹھنے کی جگہ اور راستہ نہ بنائیں اور ان مساجد میں غیر اللہ کے لی حصہ نہ بنائیں۔ صحیح میں ہے جو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرے تو تم یہ کہو، اللہ تعالیٰ اسے تم پر نہ لوٹائے کیونکہ مساجد اس کے لیے نہیں بنائی گئیں سورة نور میں ایسی بحث گزرچکی ہے جو مساجد کے احکام کے لیے کافی ہے۔
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی دعا۔
مسئلہ نمبر 6۔ ضحاک نے ابن عباس سے روایت نقل کی انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے جب نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو اپنا دایاں پاؤں آگے رکھتے اور یہ آیت پڑھتے، وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ اور دعامانگتے، اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں تیرا زائر ہوں، ہر زیارت کیے جانے والے پر حق ہے اور توبہترین زیارت کیے جانے والوں میں سے ہے۔ میں تیری رحمت کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری گردن کو آگ سے آزاد کردے اور جب مسجد سے باہرنکلتے تو اپنادایاں پاؤں آگے رکھتے اور یہ دعا کرتے، اے اللہ۔ مجھ پر بھلائی کو انڈیل، جو تو نے مجھے اچھائی عطا کی ہے کبھی بھی مجھ سے نہ چین میری زندگی کو مخصوص مشقت نہ بنادے اور زمین میں میرے لیے غنامقدر کردے۔