تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 19

  1. وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ع﴿19﴾

    1. وَّاَنَّهٗ لَمَّااور یہ کہ جب
    2. قَامَ عَبْدُ اللّٰهِکھڑا ہوا اللہ کا بندہ
    3. يَدْعُوْهُکہ وہ اس کی عبادت کرے
    4. كَادُوْاقریب تھا
    5. يَكُوْنُوْنَوہ ہوجائیں
    6. عَلَيْهِاس پر
    7. لِبَدًا(حلقہ در حلقہ)
Translation · Al-Qurtubi
اور جب خدا کے بندے (محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے
Tafseer · Al-Qurtubi
وانہ لما قام عبداللہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ رشدا۔ وانہ کے ہمزہ پر فتحہ پڑھنا جائز ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی اور جملہ مستانفہ کے طریقہ پر۔ ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھنا بھی جائز ہے یہاں عبداللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جب کہ آپ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن حکیم پڑھ رہے تھے جیسے سورت کے آغاز میں گزرچکا ہے۔ یدعوہ یعنی اس کی عبادت کرتے ہوئے ابن جریج نے کہا، یدعوہ کا معنی ہے اللہ کا بندہ انہیں اللہ تعالیٰ کی دعوت دینے کے لیے کھڑا ہوا۔ کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کی تعبیر کرتے ہوئے حضرت زبیر بن عوام نے کہا، اس سے مراد جن ہیں جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قرآن سنا، یعنی وہ بھیڑ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سوار ہونے لگے اور گرنے لگے وجہ قرآن حکیم سننے کی حرص تھی، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حرص کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہونے لگے، یہ ضحاک کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، وہ ذکر کے سماع میں رغبت کرنے لگے، برد نے مکحول سے روایت نقل کی ہے اس رات جنوں نے رسول اللہ کے ہاتھوں پر بیعت کی اس وقت ان کی تعداد ستر ہزار تھی اور فجر کے طلوع ہونے کے وقت بیعت سے فارغ ہوئے۔ حضرت ابن عباس کا یہ بھی قول ہے کہ یہ جنوں کا قول ہے جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو وہ کچھ بتایا جو انہوں نے صحابہ کو نبی کریم ﷺ کی اطاعت اور رکوع و سجود میں اقتدا کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا مشرک نبی کریم پر ناراضگی کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہیں۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور ابن زید نے کہا، کب حضرت محمد ﷺ نے دعوت دینا شروع کی تو انسان اور جن سب اس امر پر متفق ہوگئے کہ اس نور کو بجھادیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ارادہ کا انکار کیا اور رسول اللہ کی مدد کی، اور طبری نے یہ معنی اختیار کیا ہے تمام عرب نبی کریم ﷺ پر جمع ہوتے ہیں اور جو نور آپ لاتے ہیں اس کو بجھانے کے لیے باہم تعاون کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : لبد کا معنی جماعتین ہیں یہ تلبد الشئی علی الشئی سے مشتق ہے یعنی جمع ہونا اسی سے لبدہ ہے جسے بچھایا جاتا ہے تاکہ اس کی اون جمع ہوجائے ہر وہ چیز جس کو تو ایک دوسرے کے ساتھ سختی سے ملائے تو تونے اسے لبدہ بنادیا۔ لبدہ کی جمع لبد ہے جس طرح قربہ کی جمع قرب ہے وہ بال جو شیر کی پشت پر ہوتے ہیں اسے لبدہ کہتے ہیں اس کی جمع لبد ہے زہیر نے کہا : لدی اسد شاکی السلاح مقذف لہ لبد اظفارہ لم تقلم۔ شیر کے پاس جو مسلح ہے گوشت پھینکنے والا ہے اس کی گردن پر لمبے بال ہیں اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے۔ بہت زیادہ ٹڈی کو بھی لبد کہتے ہیں اس میں چار لغات ہیں اور قرات ہیں۔ باء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ، یہ عام لوگوں کی قرات ہے۔ 2۔ لام کو ضمہ اور باء کو فتحہ، یہ مجاہد ابن محیصن اور ہشام کی قرات ہے، اس کی واحد لبدۃ ہے۔ 3۔ لام اور باء دونوں مضموم ہوں، یہ ابوحیوۃ محمد بن سمیقع، ابی الاشہب عقیلی، اور جحدری کا نقطہ نظر ہے اس کی واحد لبد ہے جس طرح سقف کی جمع سقفُ اور رھن کی جمع رھن ہے۔ 4۔ لام کو ضمہ اور باء مشددہ مفتوحہ، یہ حسن، ابوالعالیہ، اعرج، اور جحدری کی قرات ہے اس کی واحد لابد ہے جیسے راکع کی جمع رکع، ساجد کی جمع سجد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے لبد لام کے ضمہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ یعنی دائمی چیز۔ اس معنی میں یہ قول ہے کہ لقمان کی گدھ کو لبد کہتے ہیں کیونکہ اس میں دوام اور بقاء کی خصوصیات تھیں۔ نابغہ نے کہا، اخنی علیھا الذی اخنی علی لبد۔ اس کے ساتھ اس نے خیانت کی جس نے لبد کے ساتھ خیانت کی۔ قشیری نے کہا، اسے لبد لام اور یام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ لبید کی جمع ہے جس کا معنی اون کی چھوـٹی گون ہے۔ صحاح میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان، اھلکت مالالبدا۔ (البلد) یعنی میں نے سب کا سب مال خرچ کردیا۔ یہ بھی جملہ بولا جاتا ہے۔ الناس لبد لوگ جمع ہیں۔ اور لبد اس آدمی کو بھی کہتے ہیں جو سفر نہیں کرتا اور ہمیشہ اپنے گھر میں رہتا ہے۔ شاعر نے کہا : من امری ذی سماح لاتزال لہ۔۔۔۔۔۔ بزلاء یعیا بھا الجثامہ للبد۔ سخی آدمی کی جانب سے اس کی رائے ہمیشہ عمدہ ہوتی ہے جس کے ساتھ اپنی جگہ سے نہ ہلنے والا تھک ہارجاتا ہے۔ انی اذا شغلت قوما فروجھم۔۔۔۔ رحب المسالک نھاص ببزلائ۔ جب لوگوں کو ان کے بچے مشغول کردیتے ہیں تو میں کھلے راستوں والا اور عظیم کام کرنے والا ہوتا ہوں۔ لبد لقمان کی گدھوں میں سے آخری ہے یہ منصرف ہے کیونکہ یہ معددل نہیں عربوں کا گمان ہے کہ لقمان وہ ہے جسے عاد نے اپنے وفد میں حرم کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے بارش کی دعا کرے۔ جب وفد کے لوگوں کو ہلاک کردیا گیا تولقمان کو اختیار دیا گیا کہ وہ سات سفید ہر نیوں کے درمیان رہے جو مٹیالے ہر نوں میں سے ہوں اور ایسے پہاڑ میں جو پربیچ ہو، جہاں بارش نہ ہوئی ہو یا ان سات گدھوں کے درمیان کے درمیان رہے جب بھی ایک گدھ ہلاک ہو تو اس کے بعد ایک گدھ نائب ہوگی تو آپ نے گدھوں کو پسند کیا ان کی آخری گدھ کا نام لبد تھا شعراء نے بھی اس کا ذکر کیا ہے نابغہ نے کہا : اخنی علیھا الذی اخنی علی لبد۔ اس شعر میں لبد سے مراد وہی گدھ ہے۔ لبید سے مراد اون کی چھوٹی گون ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، البدت القربہ۔ جب تو اسے گون میں رکھ لے۔ لبید، بنی عامر کے شاعر کا نام بھی ہے۔