تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 26
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ﴿26﴾
- عٰلِمُ الْغَيْبِغیب کا جاننے والا
- فَلَا يُظْهِرُوہ مطلع نہیں کرتا
- عَلٰي غَيْبِهٖٓاپنے غیب پر
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Al-Qurtubi
(وہی) غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا
Tafseer · Al-Qurtubi
عالم الغیب فلایظہر۔۔۔ تا۔۔۔ رصدا۔
اللہ تعالیٰ کس پر غیب کو ظاہر فرماتا ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ عالم الغیب میں عالم کو مرفوع پڑھیں تو یہ ربی کی صفت ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی، ھوعالم الغیب، غیب اسے کہتے ہیں جو بندوں سے غائب ہو اس کا بیان سورة بقرہ کے شروع میں گزرچکا ہے۔ وہ کسی پر اپنا غیب ظاہر نہیں کرتا مگر رسولوں میں سے جس پر راضی ہوتا ہے کیونکہ اس پر غیب میں سے جو چاہتا ہے ظاہر کرتا ہے کیونکہ رسولوں کی معجزات کے ساتھ تائید کی جاتی ہے ان معجزات میں سے بعض غیبت کی خبریں بھی ہوتی ہیں قرآن حکیم میں ہے، وانبئکم بماتاکلون وماتدخرون فی بیوتکم (آل عمران 49) ابن جبیر نے کہا، من رسول سے مراد حضڑت جبرائیل امین ہیں، یہ تعبیر حقیقت سے بہت ہی بعید ہے زیادہ مناسب یہ ہے کہ معنی کیا جائے کہ وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا مگر جسے نبوت کے لیے منتخب کرتا ہے کیونکہ اسے جس غیب پر چاہتا ہے مطلع کرتا ہے تاکہ یہ چیز اس کی نبوت پر دلیل ہو۔
نجومیوں سے غیب جاننے کی نفی۔
مسئلہ نمبر 2۔ علماء نے ارشاد فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے علم غیب کے واسطہ سے اپنی مدح فرمائی مخلوق کی بجائے اسے اپنی ذات کے ساتھ خاص کیا تو اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ پھر ان رسولوں کو اس سے مستثنی کردیا جن پر وہ راضی ہے تو انہیں اپنے غیب میں سے جو چاہا وہ وحی کے ذریعے ودیعت کردیا، ان کے لیے اسے معجزہ بنادیا اور ان کی نبوت پر سچی دلیل بنادیا۔ منجم اور جوان کے مشابہ ہوتے ہیں جو کنکری پھینکتے ہیں، کتابوں میں فال دیکھتے ہیں اور پرندے کو جھڑکتے ہیں ان میں سے نہیں، جو من ارتضی من رسول کا مصداق ہو کہ انہیں اپنے غیب پر مطلع فرمائے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا ہے فکر کی تیزی، ظن وتخمین اور جھوٹ کے ذریعے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا ہے۔ ایک عالم نے کہا، کاش میں جانتا جو منجم ایک کشتی کے بارے میں کہتا ہے کہ ایک ہزار انسان سوار ہوتے ہی جن کے احوال مختلف ہیں اور مراتب مختلف ہیں ان میں کوئی بادشاہ، بازاری، عالم، جاہل، غنی، فقیر، بڑا اور چھوٹا ہے ان کے طالع مختلف ہیں، ولادت کا وقت الگ ہے اور ستاروں کے درجات بھی مختلف ہیں سب پر غرق کا حکم ایک وقت میں ہوسکتا ہے۔ اگر نجومی کہے (اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے) انہیں اس طالع (زائچہ) نے غرق کیا ہے جس میں یہ سوار ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہے اس طالع (زائچہ) نے تمام طوالع (زائچوں) کے احکام کو باطل کردیا ہے جب کہ ہر ایک کی ولادت کا وقت مختلف ہے اور اس کے مخصوص طالع (زائچہ) کا تقاضا بھی مختلف ہے تو ولادت کے اوقات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اس میں شقی اور سعید پر کوئی دلالت نہ ہوگی اور اس میں قرآن عظیم کے ساتھ دشمنی کے سوا کوئی چیز باقی نہ بچے گی اس قسم کا عمل کرنے پر اس کا خون حلال ہوجائے گا جب شاعر نے کہا توکتنا اچھا کہا : حکم المنجم ان طالح مومدی، یقضی علی بمیتۃ الغرق۔ منجم نے فیصلہ کیا کہ میری ولادت کا زائچہ میرے بارے میں غرق ہونے کی موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ قل للمنجم صبحۃ الطوفان ھل، ولد الجمیع بکوکب الغرق۔ طوفان کی صبح منجم سے پوچھا کیا تمام غرق والے ستاروں کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔
امیرالمومنین حضرت علی شیر خدا سے اس وقت کہا گیا جب آپ نے خارجیوں سے جنگ کا ارادہ کیا تھا، کیا آپ ان سے جنگ کریں گے جب چاند برج عقرب میں ہے ؟ تو حضرت علی نے فرمایا، ان کا چاند کہاں ہے ؟ وہ وقت مہینے کے اختتام کا تھا حضرت علی نے جو جواب دیا اس کے اس کلمہ کی طرف دیکھو اور ستارہ شناسی کے علم کے حوالے سے جو قول کرتا ہے اس کو کتنا بلیغ جواب دیا اور جو آدمی ستاروں کی چال کے حوالے سے احکام کو ثابت کرنے کا دعوی کرتا ہے اس کو کس طرح خاموش کردیا۔ مسافر بن عوف نے آپ سے عرض کی اے امیر المومنین اس گھڑی روانہ نہوں جب دن کے تین پہر گزر جائیں اس وقت روانہ ہوں، حضرت علی شیر خدا نے اسے فرمایا کیوں ؟ اس نے عرض کی، اگر آپ اس وقت چلے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بہت بڑی مصیبت پہنچے گی اور اگر آپ اس وقت چلے جس میں چلنے کے لیے میں نے آپ کو کہا ہے تو آپ کامیاب وکامران ہوں گے اور جو آپ کا مطلب ہے اس پالیں گے۔ حضرت علی نے کہا، نہ تو حضور ﷺ کا کوئی منجم تھا اور نہ ہی ہمارا کوئی منجم ہے آپ طویل گفتگو کرتے ہیں جس میں وہ قرآن حکیم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں جو اس بارے میں تیری تصدیق کرے میں اس کے بارے میں بےخوف نہیں کہ وہ اس آدمی کی طرح ہوجائے جس نے اللہ تعالیٰ کا مد مقابل بنالیاہو اسے اللہ کوئی فال نہیں مگر وہ تیرے قبضہ قدرت میں ہے اور تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں پھر آپ نے متکلم سے فرمایا ہم تجھے جھٹلاتے ہیں تیری مخالفت کرتے ہیں اور ہم اسی وقت چلیں گے جس میں چلنے سے تو نے ہمیں منع کیا ہے۔
پھر حضرت علی لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا، اے لوگو علم نجوم حاصل کرنے سے بچو مگر اتنا علم نجوم حاصل کرو جس کے ذریعے تم بحروبر کی تارکیوں میں ہدایت حاصل کرسکو، بیشک منجم جادوگر کی طرح ہے اور جادوگر کافر کی طرح ہے اور کافر جہنم میں ہے اللہ کی قسم اگر مجھے خبر پہنچتی کہ توستاروں کی چال میں نظر رکھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے قید میں ڈال دوں گا جب تک تو اور میں باقی رہیں جب تک میری حکومت ہوگی میں تیرا عطیہ روک لوں گا۔ پھر حضرت علی نے اسی وقت میں سفر کیا جس وقت میں سفر کرنے سے روکا تھا آپ کا دشمنوں سے آمناسامنا ہوا آپ نے دشمنوں کو قتل کیا یہی نہروان والا واقعہ ہے۔ جو صحیح مسلم میں ثابت ہے پھر فرمایا اگر ہم اس گھڑی چلتے جس میں چلنے کا اس منجم نے ہمیں حکم دیاہم کامیاب ہوجاتے اور غالب آجاتے تو کوئی کہنے والا کہتا، حضرت علی اس وقت چلے جب منجم نے حکم دیا، نہ تو رسول اللہ کا کوئی منجم تھا اور نہ ہی ہمارا کوئی منجم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسری اور قیصر اور دوسرے شہروں پر فتح دی پھر فرمایا، اے لوگو اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور اسی پر بھروسہ کروکیون کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیروں کے مقابلہ میں کافی ہے۔ بیشک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے تاڑنے والے نگہبان بھیجتا ہے۔ رصدا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو شیطان کو قریب سے روکتے ہیں، وحی شیطان کے چوری کرنے سے محفوظ رہتی ہے اور کاہنوں کو القا کرنے سے محفوظ رہتی ہے۔
ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اس کے ساتھ فرشتے تھے وہ شیاطین سے اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ وہ فرشتوں کی صورت بناسکیں جب شیطان اس کے پاس فرشتے کی صورت میں آئے تو وہ کہتے اٹھیں یہ شیطان ہے اس سے بچو، اگر فرشتہ آئے تو وہ کہیں یہ تیرے رب کا رسول ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا، رصدا کا معنی نگہبان ہے جو نبی کریم ﷺ کے آگے اور پیچھے جنوں اور شیاطین سے ان کی حفاظٹ کرتے ہیں، قتادہ اور سعید بن مسیب نے کہا، وہ چار فرشتے ہیں، فراء نے کہا، اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں جب جبرائیل امین اللہ تعالیٰ کا پیغام لاتے ہیں تو ان کے ساتھ فرشتے بھی آتے ہیں جوان کی حفاظت کرتے ہیں کہ جن وحی کو سن نہ لیں اور اپنے کاہنوں کو نہ پہنچا دیں اور وہ رسول پر سبقت نہ لے جائیں سدی نے کہا، رصدا سے مراد محافظ ہیں جو وحی کی حفاظت کریں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور جسے شیطان القاء کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے رصدا مفعول ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے صحاح میں ہے، رصدا ان لوگو کو کہتے ہیں جو نگہبانی کرتے ہیں جس طرح حرس کا لفظ ہے اس میں واحد جمع، مذکر اور مونث برابر ہوتے ہیں بعض اوقات وہ جمع کے لیے ارصاد کے لفظ ذکر کرتے ہیں اور کسی شی کے راصد سے مراد اس کا نگہاب ہے یوں باب چلایا جاتا ہے، رصدہ، یرصدہ، ورصدا اور ترصد سے مراد تاڑنا ہے مرصدا سے مراد تاڑنے کی جگہ ہے۔