تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 28

  1. لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ع﴿28﴾

    1. لِّيَعْلَمَتاکہ وہ معلوم کرلے
    2. اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْاکہ انہوں نے تحقیق پہنچادئیے
    3. رِسٰلٰتِپیغام (جمع)
    4. رَبِّهِمْاپنے رب کے
    5. وَاَحَاطَاور اس نے احاطہ کیا ہوا ہے
    6. بِمَا لَدَيْهِمْجو ان کے پاس
    7. وَاَحْصٰىاور اس نے شمار کر رکھی ہے
    8. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    9. عَدَدًاگنتی میں
Translation · Al-Qurtubi
تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دئیے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
لیعلم ان قدابلغوا۔۔۔ تا۔۔۔ عددا۔ لیعلم سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جان لیں خہ ان سے قبل آنے والے رسولوں نے پیغام حق پہنچایا جس طرح آپ نے یہ پیغام حق پہنچایا ہے اس کلام میں کچھ کلام محذوف ہے، لیعلم کا جار مجرور جس کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہوں گی، اخبرناہ بحفظنا الوحی لیعلم ان الرسل قبلہ کانو علی مثل حالتہ من التبلیغ بالحق والصدق یعنی ہم نے آپ کو اپنی جانب سے وحی کی حفاظت کی خبر دی تاکہ آپ جان لیں کہ ان سے قبل کے رسول بھی حق اور سچائی کی تبلیغ میں آپ کی حالت پر ہی تھے، ایک قول یہ کیا گیا کہ آیت کا معنی یہ ہے تاکہ حضرت محمد ﷺ جان لیں کہ حضڑت جبرائیل امین اور ان کے ساتھ جو فرشتے انہوں نے آپ کے رب کا پیغام پہنچادیا ہے یہ ابن جبیر کا قول ہے کہا، رسول اللہ کی طرف وحی نازل نہیں ہوتی تھی مگر اس کے ساتھ چار فرشتے آتے تھے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول جان لیں کہ فرشتوں نے پہلے رب کا پیغام پہنچادیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول جان لے کہ باقی ماندہ رسولوں نے پیغام حق پہنچادیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تاکہ ابلیس جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات کو کسی آمیزش اور اس میں سے کسی چوری کے بغیر حق پہنچادیا ہے ابن قتیبہ نے کہا، تاکہ جن جان لیں خہ رسولوں نے وہ پیغام حق پہنچادیا ہے جوان پر نازل کیا گیا تھا وہ اس پیغام کو پہنچانے والے نہیں جن میں سے کوئی چیز چوری نہیں کی گئی، مجاہد نے کہا، تاکہ وہ لوگ جان لیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے عام قراء کی قرات تولیعلم ہے یعنی علامت مضارع مفتوح ہے اس کی تاویل وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، حمید اور یعقوب نے اسے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کردے کے رسولوں نے یہ پیغام حق پہنچا دیا ہے۔ زجاج نے کہا، تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کے رسولوں نے اس کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین۔ آل عمران) معنی یہ ہوگا کہ تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بطور علم مشاہدہ جان لے جس طرح اسے بطور غیب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم نے ہر اس چیز کا احاطہ کررکھا ہے جو رسولوں کے پاس ہے اور جو فرشتوں کے پاس ہے۔ ابن جبیر نے کہا، معنی یہ ہے کہ تاکہ رسول جان لیں کہ ان کے رب کے علم نے ہراس چیز کا احاطہ کررکھا ہے جو کچھ ان کے پاس ہے پس وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام حق کو پہنچائیں۔ واحصٰی کل شئی عددا۔ اس نے ہر چیز کے عدد کا احاطہ کررکھا ہے وہ اسے پہچانتا ہے اور اسے جانتا ہے اس پر کوئی خفی چیز نہیں عددا یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی اس نے ہر چیز کا عدد کی حالت میں احاطہ کررکھا ہے چاہے تومفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب قرار دے یعنی اس نے ہر چیز کو شمار کررکھا ہے تو یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر شے کو شمار کرنے والی، عالم، حافظ ہے، ہم نے یہ سب چیزیں الکتاب الاسنی میں جمع کردی ہیں جو اسماء حسنی کی شرح میں ہے۔ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہی حمد ہے۔