تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ﴿1﴾

    1. يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُاے کپڑوں میں لپٹنے والے (محمد)
Translation · Al-Qurtubi
اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو
Tafseer · Al-Qurtubi
یا ایہا المزمل۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترتیلا۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں۔ مزمل کی لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، یا ایھا المزمل۔ اخفش سعید نے کہا، المزمل اصل میں متزمل تھا تاء کو زاء میں مدغم کیا گیا یہی المدثر ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے اسے اصل پر المتزمل اور المتدثر پڑھا ہے۔ سعید نے المزمل پڑھا ہے، مزمل کی اصل میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اٹھانے والے ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے، زمل الشئین، جب وہ اس چیز کو اٹھائے اس سے الزاملہ ہے کیونکہ وہ گھر کا سامان اٹھاتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ مزمل سے مراد ہے لپٹنے والا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، تزمل وتدثر بثوبہ، جب وہ کپڑے کو لپیٹ لے وریہ جملہ بولا جاتا ہے، زمل غیرہ جب وہ کسی اور چیز کو ڈھانپ دے ہر وہ چیز جسے لپیٹاجائے تو پس اس کے لیے زمل اور دثر سے تعبیر کرنا درست ہوتا ہے۔ امراء القیس نے کہا، کبیرن اس فی بجاد مزمل۔ بڑے لوگ دھاری دار چادروں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ مزمل سے کون سی ذات مراد ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ یا ایھا المزمل، یہ نبی کریم کو خطاب ہے۔ اس میں تین قول ہیں۔ پہلا عکرمہ کا قول ہے : اے نبوت و رسالت کو لازم پکڑنے والے، انہیں سے ایک قول یہ نقل کیا گیا ہے، اے وہ ذات جس پر یہ امر لازم کیا گیا پھر اسے رخصت دی گئی وہ اسے زاء کی تخفیف، میم کے فتحہ کے ساتھ اور اسے مشدد پڑھا کرتے تھے جب کہ اس کا مفعول محذوف ہے اس طرح المدثر ہے معنی یہ ہوگا اپنے آپ کو کپڑے سے لپیٹنے والے یا جسے غیر نے کپڑا اوڑھایا۔ دوسرا قول : اے قرآن کو لازم پکڑنے والے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ تیسراقول : اپنے کپڑے کو لپیٹنے والے، یہ قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے، امام نخعی نے کہا، آپ ایک چادر لپیٹے ہوئے تھے حضرت عائشہ نے کہا، آپ ایک چادر لپیٹے ہوئے تھے جس کی لمبائی چودہ ہاتھ تھی وہ نصف مجھ پر تھی جب کہ میں سوئی ہوئی تھی اور نصف نبی کریم ﷺ پر تھی جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اللہ کی قسم وہ خز (ریشم جس میں اون ملی ہو) قزر (ریشم) مرغرائ (نرم بالوں) ابرایسم (ریشم) اور اون کی نہ تھی اس کا تانا بکری کے بالوں اور پینا اونٹ کے بالوں کا تھا، یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ طیبہ میں ہی حرم میں داخل کیا تھا اور جو یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے درست نہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ضحاک نے کہا : آپ نے سونے کے لیے اپنے کپڑے کو لپیٹا، ایک قول یہ کیا گیا ہے مشرکوں کی جانب سے آپ کو نازیبابات پہنچی تو وہ بات آپ پر شاق گزری تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے لے لیاتویہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا المزمل، یا ایھا المدثر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ وحی کی ابتدا میں ہوا کیونکہ جب رسول اللہ نے فرشتے کی بات سنی اور اسے دیکھاتو آپ ﷺ پر کپکپی طاری ہوگئی آپ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا، مجھے کپڑا اوڑھادو، یہ معنی حضرت ابن عباس سے مروی ہے، حکماء نے کہا، آپ کو ابتدا میں المزمل اور المدثر سے خطاب کیونکہ ابھی آپ نے رسالت کاتبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا تھا۔ ابن عربی نے کہا : یا ایھا المزمل کی تاویل میں اختلاف کیا گیا ہے۔ کچھ علماء نے تو اسے حقیقی معنی پر محمول کیا ہے۔ اے وہ ذات جس نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹا ہوا ہے، اٹھیے یہ ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے، کچھ علماء وہ ہیں جنہوں نے اسے مجاز پر محمول کیا ہے گویا آپ کو کہا گیا، اے وہ ذآت جس نے نبوت کا بار اٹھایا، یہ عکرمہ نے کہا ہے۔ یہ تفسیر اس وقت جائز ہوگی اگر میم مفتوح اور مشدد ہو اور صیغہ اسم مفعول کا ہو، جہاں تک اسے اس فاعل کی صورت میں پڑھنے کا تعلق ہے وہ باطل ہے۔ میں کہتا ہوں : ہم پہلے اس کے مفعول حذف کے اعتبار سے معنی بیان کرچکے ہیں، اسے اس صورت میں پڑھا بھی گیا ہے یہ قرات صحیح المعنی ہے کہا، جس نے یہ کہا کہ آپ نے قرآن کو اوڑھنا بچھونا بنایاتویہ مجازی معنی میں صحیح ہے لیکن ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اسے اس کی ضرورت نہیں۔ مزمل سرکاردوعالم کا اسم نہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ سبیلی نے کہا، مزمل نبی کریم کے اسماء میں سے نہیں اور نہ ہی اس میں یہ معروف ہے جس طرح بعض لوگ اس طرف گئے ہیں اور اسے نبی کریم کے اسماء میں شمار کیا ہے مزمل اسم مشتق ہے جو اس حالت میں اشتقاق کیا گیا جو خطاب کے وقت آپ کی تھی، اسی طرح مدثر ہے اس نام کے ساتھ خطاب کرنے میں دو فائدے ہیں ایک توشفقت و محبت کا اظہار ہے کیونکہ عرب جب مخاطب کے ساتھ شفقت کرنے اور عتاب کے ترک کرنے کا ارادہ کرے تو اسے ایسے نام کے ساتھ پکارتے جو اس حالت میں مشتق ہوتا جس حالت پر وہ ہوتا۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو فرمایا، جب وہ حضرت فاطمہ سے ناراض ہوئے تو رسول اللہ حضرت علی کے پاس آئے جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور ان کے پہلو پر مٹی لگی ہوگئی تھی، رسول اللہ نے حضرت علی سے فرمایا، ابوتراب، اٹھو، مقصود یہ شعور دلانا تھا کہ رسول اللہ ان پر ناراض نہیں اور ان پر شفقت کا اظہار تھا، اس طرح حضرت حذیفہ کے لیے رسول اللہ کا فرمان ہے، اے نومان، اٹھو، جب کہ حضرت حذیفہ سوئے ہوئے تھے مقصود ان پر شفقت ونرمی کا اظہار تھا اور ناراضگی و عتاب کو ترک کرنا مقصود تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کے لیے یہ جو ارشاد فرمایا ہے، یا ایھا المزمل، قم، اس میں بھی انس اور شفقت کا اظہار ہے تاکہ یہ شعور دلایاجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض نہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جو چادر لے کر رات کو سویا ہوا ہو اس کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ رات کے وقت عبادت کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے بیدار ہو کیونکہ فعل سے جو اسم مشتق ہوتا ہے اس میں مخاطب کے ساتھ ہر آدمی شریک ہوتا ہے جو ایسا عمل کررہا ہو اور اس صفت کے ساتھ موصوف ہو۔ قُم کی لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 4۔ قم اللیل عام قراء کی قرات میم کے کسرہ کے ساتھ ہے کیونکہ دو ساکن جمع ہوئے اور اس وجہ سے میم کو نیچے کسرہ دیا ہے، ابوسمال نے میم پر ضمہ پڑھا ہے وجہ قاف کے ضمہ کی اتباع ہے اور میم پر فتحہ بھی پڑھا ہے کیونکہ فتحہ خفیف ترین حرکت ہے۔ عثمان بن جنی نے کہا، میم پر حرکت سے غرض دوساکنوں کے اجتماع سے دور بھاگنا ہے میم پر جو بھی حرکت آئے تو غرض حاصل ہوجاتی ہے یہ فعل لازم ہے اور مفعول بہ کی طرف متعدی نہیں ہوتا جہاں تک اس کے لیے ظرف زمان اور ظرف مکان لانے کا تعلق ہے تو یہ جائز ہے جہاں تک ظرف مکان کا تعلق ہے تعوفعل کے بعد کسی واسطہ کالاناضروری ہوتا ہے تو یہ نہیں کہے گا، قمت الدار، بلکہ تو یہ کہے گا، قمت وسط الدار وخارج الدار، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں قم کا معنی ہے صل یعنی نماز پڑھ۔ صل کو قم سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسے صل سے بطور مجاز ذکر کیا گیا ہے یہاں تک کہ کثرت استعمال کی وجہ سے عرف بن گیا ہے۔ اللیل کی مراد اور رات کی عبادت کن لوگوں پر فرض یامستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ اللیل۔ رات کی حد سورج غروب ہونے سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اس میں اختلاف ہے کیا رات کا قیام رسول اللہ کے لیے فرض تھا یامستحب تھا ؟ دلائل اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں کہ رات کا قیام حتمی اور فرضی تھا اس کی وجہ یہ ہے مستحب رات کے کچھ حصہ پر واقع نہیں ہوتا اور کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہوتا، اس بارے میں حضرت عائشہ اور دوسرے راویوں سے تعیین آئی ہے۔ اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے کہ کیا یہ عبادت صرف نبی کریم پر فرض تھی یا آپ ﷺ پر اور آپ سے قبل انبیاء پر بھی فرض تھی، یا آپ پر اور آپ کی امت پر بھی فرض تھی ؟ اس بارے میں تین قول ہیں۔ (1) سعید بن جبیر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ خطاب صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ (2) حضرت ابن عباس کی رائے یہ ہے کہ رات کی عبادت نبی کریم ﷺ اور آپ سے قبل کے انبیاء پر بھی فرض تھی۔ (3) حضرت عائشہ کی رائے ہے، یہ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے اور یہی صحیح ہے جس طرح حضرت زرارہ بن اوفی سے مروی ہے روایت مسلم شریف میں ہے کہ حضرت سعد بن ہشام نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کیا اس میں ہی وضاحت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام نے کہا، میں نے حضرت عائشہ سے عرض کی مجھے رسول اللہ کی رات کی عبادت کے بارے میں بتائیے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کیا تو سورة المزمل کی قرات نہیں کرتا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں، میں قرات کرتا ہوں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے سورت کے شروع میں رات کا قیام عبادت فرض کیا۔ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا اختتام بارہ ماہ تک آسمانوں میں ہی روکے رکھا یہاں کہ سورت کے آخر میں تخفیف کو نازل فرمایا، اس کے بعد رات کا قیام فرض سے نفل ہوگیا۔ وکیع اور یعلی نے یہ روایت نقل کی ہے ہمیں مسعر نے سماک حنفی سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس کو یہ کہتے ہوئے سنا، جب سورة مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو صحابہ کرام کو اتنا قیام کیا کرتے تھے جتنا قیام وہ رمضان شریف کے مہینے میں کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اس میں سورت کا آخری حصہ نازل ہو اس کے ابتدائی اور آخری حصہ میں سال کا وقفہ ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، نبی کریم اور آپ کے صحابہ دس سال تک راتوں کو قیام کرتے رہے تودس سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل۔ تو اللہ نے ان سے اس امر کو خفیف کردیا۔