تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 12

  1. اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ﴿12﴾

    1. اِنَّ لَدَيْنَآبیشک ہمارے ہاں
    2. اَنْكَالًاعذاب
    3. وَّجَحِيْمًااور دہکتی آگ
Translation · Al-Qurtubi
کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
ان لدینا انکالاوجحیما۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مھیلا۔ ان لدینا انکالاوجحیما۔ انکال کا معنی بیڑیاں ہیں یہ حضرت حسن بصری، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، اس کا واحد نکل ہے نکل اسے کہتے ہیں جو انسان کو حرکت سے روک دے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے نکل اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ اس کے ساتھ عبرت حاصل کی جاتی ہے امام شعبی نے کہا، کیا تمہاری یہ رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے پاؤں میں بیڑیاں اس لیے ڈالی ہیں کہ کہیں بھاگ نہ جائیں ؟ نہیں اللہ کی قسم، لیکن جب انہوں نے اوپر آنے کا ارادہ کیا تو ان بیڑیوں نے انہیں نیچے کردیا، کلبی نے کہا، انکال کا معنی طوق ہے، پہلا معنی لغت میں بہت معروف ہے اس معنی میں خنساء کا قول ہے، دعا ک فقطعت انکالہ وقد کن قبلک لاتقطع۔ اس نے تجھے بلایاتوتونے اس کی بیڑیاں توڑ دیں جب کہ تجھ سے قبل انہیں نہیں توڑا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ شدید عذاب کی انواع ہیں، یہ مقاتل کا قول ہے، نبی کریم کا ایک ارشاد ہے، ان اللہ یحب النکل علی النکل، اللہ تعالیٰ ایسے تجربہ کار بہادر سوار کو پسند کرتا ہے جو زورآور آزمودہ گھوڑے پر سوار ہو۔ جوہری نے کہا، نکل کاف کے فتحہ کے ساتھ ہے پوچھا گیا نکل کیا ہوتا ہے جواب دیا، طاقت ور تجربہ کار آدمی، طاقتور تجربہ کار گھوڑے پر، یہ ماوردی نے ذکر کیا کہا، اسی وجہ سے بیٹری کو نکل کہتے ہیں کیونکہ وہ قوی ہوتی ہے اس طرح غل ہے اور ہر سخت عذاب اور جہنم کی آگ۔