تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 13
وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ﴿13﴾
- وَّطَعَامًااور کھانا
- ذَا غُصَّةٍگلے میں اٹک جانیوالا
- وَّعَذَابًااور عذاب
- اَلِيْمًادردناک
Translation · Al-Qurtubi
اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
وطعاما ذاغصۃ، جو خوشگوار نہ ہوجوحلق کو پکڑلے نہ نیچے اترے اور نہ ہی باہر نکلے وہ غسلین، زقوم اور ضریع ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، انہیں سے یہ بھی مروی ہے وہ کانٹا ہے جو حلق میں داخل ہوتا ہے نہ وہ نیچے جاتا ہے اور نہ ہی نکلتا ہے۔ زجاج نے کہا، ان کا ٹھکانا ضریع ہوگا جس طرح ارشاد فرمایا، لیس لھم طعام الامن ضریع (غاشیہ) ۔ یہ عوسج جیسا کانٹا ہے۔ مجاہد نے کہا، وہ کھانا زقوم ہے، جس طرح ارشاد فرمایا، ان شجرت الزقوم۔ طعام الاثیم (الدخان) دونوں کا معنی ایک ہے حمران بن اعین نے کہا، نبی کریم ﷺ نے، ان لدینا انکالاوجحیما۔ وطعاما ذاغصۃ۔ کو پڑھا تو آپ بےہوش ہوگئے خلید بن حسان نے کہا، حضرت حسن بصری نے ہمارے ہاں روزے کی حالت میں شام کی تو میں کھانا لایاتوان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی، ان لدینا انکالا وجحیما۔ تو حضرت حسن بصڑی نے کہا، اپناکھانا اٹھالو جب دوسرا دن ہوا تو میں کھانالایاتوان پر یہ آیت پیش کی گئی تو آپ نے کہا، اسے اٹھالو اور تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا، ان کا بیٹا ثابت بنانی، یزید جی اور یحییٰ بکاء کے پاس گیا اور ان سے گفتگو کی وہ ان کے پاس آئے اور ان کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ حضرت حسن بصری نے ستوکا ایک گھونٹ پی لیا۔ غصہ کا معنی شجا (حلق میں اٹک جانے والی ہڈی) ہے یہ وہ چیز ہے جو حلق میں اٹک جاتی ہے وہ ہڈی ہو یا کوئی اور۔ اس کی جمع غصص آتی ہے، غصص فتح کے ساتھ ہوتویہ اس باب سے مصدر ہوگا، غصصت تغص، اسی طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، انت غاص بالطعام، انت غصان، تیرے گلے میں کھانا اٹک گیا ہے۔ اغصصتہ انا (میرے گلے میں کوئی چیز اٹک گئی ہے) المنزل غاص بالقوم، یعنی منزل لوگوں کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔