تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 15
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ﴿15﴾
- اِنَّآ اَرْسَلْنَآبیشک ہم نے بھیجا
- اِلَيْكُمْتمہاری طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
- شَاهِدًاگواہی دینے والا
- عَلَيْكُمْتم پر
- كَمَآ اَرْسَلْنَآجیسے ہم نے بھیجا
- اِلٰى فِرْعَوْنَفرعون کی طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
Translation · Al-Qurtubi
(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے
Tafseer · Al-Qurtubi
انا ارسلنا الیکم رسولا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربہ سبیلا۔
اناارسلناالیکم رسولا، یہاں رسولا سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف بھیجا، کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ اس میں رسولا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فعصٰی فرعون الرسول۔ یعنی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہ لایا۔ مقاتل نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر کیا کہا، کیونکہ اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کی شان کا لحاظ نہ کیا اور آپ کی تحقیر کی کیونکہ آپ کی ولادت ان میں ہوئی تھی جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کی شان کا لحاظ نہ کیا کیونکہ فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اور حضر تموسی انہیں میں پروان چڑھے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے قول کی حکایت بیان کی ہے۔ الم نربک فینا ولیدا (شعراء 18) مہدوی نے کہا، الرسول میں الف لام اس لیے آیا ہے کیونکہ رسول کا پہلے ذکر ہوچکا تھا، اس وجہ سے خطوط کے آغاز میں سلام علیکم اور ان کے اختتام میں، السلام علیکم کو اختیار کیا جاتا ہے، وبیلا سخت بوجھل، اس معنی میں ضرب وبیلا و عذاب وبیل بمعنی شدید بولا جاتا ہے، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے، اس سے مطرد ابل کہتے ہیں یعنی سخت بارش، یہ اخفش کا قول ہے، زجاج نے اس کا معنی ثقیلا غلیظا کیا ہے بھاری بھرکم۔ اس معنی میں بارش کے لیے وبیل کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی مھلکا ہے معنی یہ ہے ہم نے اسے تباہ کن سزا دی۔ شاعر نے کہا : اکلت بنیک اکل الضب حتی، وجدت مرارۃ الکلا الوبیل۔ تو نے اپنی اولاد کو گوہ کے کھانے کی طرح کھالیا یہاں تک کہ تو نے ہلاک کردینے والی گھاس کی کڑواہٹ کو پالیا۔ استوبل فلان کذا، اس کے انجام کی تعریف نہ کی، ماء وبیل ایسا پانی جو خوشگوار نہ ہو، کلا مستوبل وطعام وبیل ومستوبل۔ جب وہ گھاس کھانا خوشگوار نہ ہو اور ہضم نہ ہو، زہیر نے کہا، فقضوا منایا بینھم ثم اصدورا، الی کلا مستوبل متوخیم۔ انہوں نے آپس میں موتوں کا فیصلہ کیا پھر وہ ایسی گھاس کی طرف گئے جو ناخوشگوار تھی۔ خنساء نے کہا : لقد اکلت بجیلۃ یوم لاقت فوارس مالک اکلا وبیلا۔ بجیلہ نے اس روز نامناسب کھانا کھایا جس روز وہ مالک کے شہسواروں سے ملی۔ وبیل کا معنی موٹا ڈنڈا بھی ہے، شاعر کا شعر ہے : لواصبح فی یمنی یدی زمامھا، وفی کفی الاخری وبیل تحاذرہ کاش، میرے دائیں ہاتھ میں اس کی نکیل ہوتی اور دوسرے ہاتھ میں موٹا ڈنڈا ہوتاجوا سے ڈراتا۔ اسی طرح موبل کا لفظ ہے اور موبلہ بھی اسی طرح ہے اس کا معنی لکڑیوں کا گھٹا ہے اسی طرح وبیل بھی اسی معنی میں ہے جس طرح اس شعر میں ہے، طرفہ نے کہا : عقیلۃ الشیخ کالوبیل یلتندد۔