تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 14
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا﴿14﴾
- يَوْمَجس دن
- تَرْجُفُکانپے گی
- الْاَرْضُزمین
- وَالْجِبَالُاور پہاڑ
- وَكَانَتِاور ہوجائیں گے
- الْجِبَالُپہاڑ
- كَثِيْبًاریت کے تودے
- مَّهِيْلًاریزہ ریزہ
Translation · Al-Qurtubi
جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں
Tafseer · Al-Qurtubi
یوم ترجف الارض والجبال۔ جو کوئی ان پر ہوگا ان کے ساتھ زمین اور پہاڑ مضطرب ہوں گے، یوم کا لفظ ظرف ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوتا ہے یعنی انہیں عذاب دیا جائے گا جس دن زمین کا نپے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے یوم سے پہلے حرف جار تھا، اس کے حذف کی وجہ سے یہ منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، ھذہ العقوبۃ فی یوم ترجف الارض والجبال۔ ایک قول یہ کیا گیا، اس کا عامل ذرنی ہے معنی یہ ہوگا جس روز زمین اور پہاڑ کا نپیں گے اس دن مجھے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دینا۔
وکانت الجبال کثیبا مھیلا۔ کثیب سے مراد جمع شدہ ریت ہے، حضرت حسان نے کہا : عرفت دیار زینب بالکثیب، کخط الوحی فی الورق القشیب۔ میں نے ریت کے ٹیلے پر زینب کے گھروں کو پہچان لیاجس طرح نئے کاغذ پر لکھائی کی لکیریں ہوتی ہیں۔ مھیل اس ریت کو کہتے ہیں جو پاؤں کے نیچے سے نکل جاتی ہے ضحاک اور کلبی نے کہا، مھیل اسے کہتے ہیں جب اس پر قدم رکھے تو وہ نیچے سے سرک جائے اور جب تو اس کا نیچے والاحصہ پکڑے تو وہ گرپڑے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مھیل سے مراد بہنے اور بکھرنے والی ہے اس کی اصل مھیل ہے یہ تیرے اس قول سے اسم مفعول کا صیغہ ہے، ھلت علیہ التراب اھیلہ ھیلا۔ جب تو اسے بہائے جس طرح کہا جاتا ہے، مھیل، مھول، مکیل، مکیول، مدین، مدیون، معین، معیون۔ شاعر نے کہا : قد کان قومک یحسبونک سید، واخال انک سید معیون۔ تیری قوم تجھے سردار گمان کرتی ہے اور میرا خیال ہے تو آنکھوں دیکھاسردار ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ کی بارگاہ میں خشک سالی کی شکایت کی تو فرمایا، اکیلون ام تھیلون۔ کیا تم کیل کرتے ہو یا انڈیلتے ہو ؟ عرض کی ہم انڈیلتے ہیں، فرمایا، اپنے کھانوں کا کیل کیا کرو اس میں تمہارے لیے برکت رکھ دی جائے گی، ھلت میں ایک لغت اھلت الدقیق بھی ہے اسی سے مھال اور مھیل آتا ہے واؤ کو حذف کردیا گیا کیونکہ یاء پر ضمہ ثقیل ہوتا ہے ضمہ کو حذف کیا گیا تو یاء ساکن ہوگئی پھر یاء اور واؤ ساکن ہوگئے تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے واؤ حذف کردیا گیا۔