تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 17
فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ﴿17﴾
- فَكَيْفَتو کیسے
- تَتَّقُوْنَتم بچوگے
- اِنْاگر
- كَفَرْتُمْتم کفر کروگے
- يَوْمًااس دن
- يَّجْعَلُکردے گا
- الْوِلْدَانَبچوں کو
- شِيْبَۨابوڑھا
Translation · Al-Qurtubi
اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا
Tafseer · Al-Qurtubi
فکیف تتقون ان کفرتم یومایجعل الولدان شیبا۔ یہ توبیخ اور تقریع کے لیے ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم کیسے عذاب سے بچو گے، اس میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دیتا ہے، عبداللہ اور عطیہ کی قرات اسی طرح ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، تم کون سی نماز کے ساتھ عذاب سے بچو گے ؟ کون سے روزے کے ساتھ بچوگے ؟ اس میں اضمار ہے یعنی تم کیسے اس دن کے عذاب سے بچو گے، قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، جس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اس دن کسی بھی چیز کے ساتھ عذاب سے نہیں بچے گا اور یوما تتقون کا مفعول بہ ہے، یہ ظرف نہیں ہے اگر کفر کو انکار کے معنی میں مقدر کیا جائے تو یوم کا لفظ کفرتم کا مفعول ہوگا۔ بعض مفسرین نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان کفرتم پر وقف تام ہے اور یوما سے ابتدا ہورہی ہے تو یہ صورت اس طرف جاتی ہے، کہ یوم یجعل کا مفعول ہے اور یجعل فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے گویا یہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک دن میں بچوں کو بوڑھا کردیتا ہے ابن انباری نے کہا، یہ درست نہیں کیونکہ دن ہی اپنی ہولناکی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ مہدوی نے کہا، یجعل کی ضمیر کے بارے میں یہ جائز ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ یوم کے لیے ہو جب ضمیر یوم کے لیے ہوگی تو یہ صحیح ہوگا کہ جملہ یوم کی صفت ہو اور جب ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتویہ صفت بننے کی صلاحیت نہ رکھے مگر اس صورت میں کلام میں حذف تسلیم کیا جائے، گویا ارشاد فرمایا، یوم یجعل اللہ الولدان فیہ شیبا۔ ابن انباری نے کہا، علماء میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے یوما کو کفرتم فعل سے نصب دی ہے یہ بہت ہی قبیح ہے کیونکہ یوما کو جب کفرتم کے ساتھ متعلق کریں گے تو یہ صفت کا محتاج ہوگا تقدیر کلام یوں ہوگی، کفرتم بیوم۔ اگر کوئی استدلال کرنے والا یہ استدلال کرے کہ صفت بعض اوقاف حذف ہوجاتی ہے اور فعل مابعد کو نصب دیتا ہے تو ہم اس کے خلاف حضرت عبداللہ کی قرات سے استدلال کریں گے۔
میں کہتا ہوں : یہ (حضرت عبداللہ کی) قرات متواتر نہیں یہ تو تفسیر کے طریقہ پر آئی ہے جب کفر جحود (انکار) کے معنی میں ہوتویوما بغیر کسی صفت اور اس کے حذف کے صریح مفعول ہوگا یعنی تم کیسے اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کرو گے اور اس سے ڈرو گے اگر تم قیامت اور جزا کے دن کا انکار کرو گے، ابوسمال قعنب نے فکیف تتقون نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الولدان سے مراد بچے ہیں، سدی نے کہا، اس سے مراد زنا کی اولاد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مشرکین کی اولاد ہے جب کہ عمومی معنی مراد لینا زیادہ صحیح ہے یعنی اس دن میں چھوٹے بچے کے بال بڑھاپے کے بغیر سفید ہوجائیں گے یہ اس وقت ہوگا جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا جائے گا، اے آدم، اٹھیے جہنم کا حصہ نکالیے جس طرح سورة حج کے آغاز میں گزرچکا ہے، قشیری نے کہا، پھر اللہ تعالیٰ جس طرح ارادہ فرمائے گا جنتیوں کے احوال اور اوصاف بدل دے گا ایک قول یہ کیا گیا گیا، یہ اس دن کی شدت کو بیان کرنے والی ضرب المثل ہے یہ مجاز ہے کیونکہ قیامت کے روز کوئی بچہ نہ ہوگا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے اس دن کی ہیبت ایسی حالت میں ہوگی اگر وہاں کوئی بچہ ہوا توہیبت کی وجہ سے اس کے سر کے بال سفید ہوجائیں گے ایک قول یہ کیا جاتا ہے یہ نزع کا وقت ہوگا اور صور پھونکے جانے سے قبل ہوگا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمخشری نے کہا، کسی کتاب میں میری نظروں کی سامنے یہ حکایت گزری ہے کہ ایک آدمی نے شام کی جب کہ اس کے بال کوے کی طرح سیاہ تھے اس نے صبح کی تو اس کا سرسفید ہوچکا تھا اور واڑھی ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہوچکا تھی اس نے کہا مجھے خواب میں قیامت، جنت اور دوزخ دکھائی گئی، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہیں زنجیروں سے جکڑ کر آگ کی طرف لے جایا جارہا ہے تو اس کی ہولناکی کی وجہ سے میں اس طرح ہوگیا جس طرح تم مجھے دیکھتے ہو، یہ بھی جائز ہے کہ دن کی طوالت کے ساتھ صفت بیان کی جائے کہ اس دن میں بچے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔