تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 18

  1. اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا﴿18﴾

    1. السَّمَآءُآسمان
    2. مُنْفَطِرٌۢپھٹ جائے گا
    3. بِهٖ ۭاس سے
    4. كَانَہے
    5. وَعْدُهٗاس کا وعدہ
    6. مَفْعُوْلًاپورا ہوکر رہنے والا
Translation · Al-Qurtubi
(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔
Tafseer · Al-Qurtubi
السماء منفطربہ۔ اس دن کی شدت کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، بہ میں باء فی کے معنی میں ہے یعنی اس دن میں اس کی ہولنکای کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، اس کی تعبیر میں جو بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں یہ ان میں سے سب سے اچھا ہے اس کی تاویل میں یہ قول بھی کیا جاتا ہے اس پر ایسا بوجھ ڈالاجائے گا جو اسے شق ہونے کی طرف لے جائے گا کیونکہ وہ اس بوجھ اس پر بہت بھاری ہوگا اور آسمان اس بوجھ کے واقع ہونے کی وجہ سے ڈرجائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثقلت فی السماوات والارض۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ بہ، لہ کے معنی میں ہے یعنی اس دن کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، فعلت کذا بحرمتک ولحرمتک، میں نے اس طرح تیرے احترام کی وجہ سے کیا ہے، بائ، لام اور فی اس جیسی جگہوں میں قریب المعنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ (الانبیاء 47) ہم قیامت کے روز انصاف کے میزان رکھیں گے، یہاں بھی لیوم القیامۃ فی یوم القیامۃ کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، بہ کی ضمیر امر کے معنی میں ہے یعنی آسمان اس امر کی وجہ سے پھٹ جائے گا جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے آسمان اللہ تعالیٰ کے امر سے پھٹ جائے گا۔ ابوعمرو بن علاء نے کہا، منفطر نہیں کہا، کیونکہ سماء کا مجازی معنی، سقف، چھت ہے تو کہتا ہے، ھذا سماء البیت، یہ کمرے کی چھت ہے۔ شاعر نے کہا : فلورفع السماء الیہ قوما لحقنا بالسماء وباالسحاب۔ اگر چھت قوم کو اس کی طرف اٹھاتا تو ہم آسمان اور بادل تک جاپہنچے۔ قرآن حکیم میں ہے، وجعلنا السماء سقفا محفوظا (الانبیاء 32) ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا فراء نے کہا، السماء مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، ابوعلی نے کہا، اس کا استعمال الجراد المنتشر، الشجر الاخضر اور اعجاز نخل منقعر کے باب سے ہے، ابوعلی نے کہا، اس کا معنی ہے آسمان پھٹنے والا ہے جس طرح وہ کہتے ہیں، امراہ مرضع یعنی دودھ پلانے والی عورت، اسم فاعل کا صیغہ نسبت کے معنی میں ہے۔ کان وعدہ مفعولا۔ یعنی قیامت، حساب اور جزا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہوکر رہے گا اس میں کوئی شک اور خلاف ورزی نہ ہوگی، مقاتل نے کہا، اس کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔