تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 2
قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ﴿2﴾
- قُمِ الَّيْلَرات میں قیام کریں
- اِلَّا قَلِيْلًامگر تھوڑا
Translation · Al-Qurtubi
رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات
Tafseer · Al-Qurtubi
قلیلا سے کیا مرا ہے ؟
مسئلہ نمبر 6۔ الاقلیلا۔ یہ اللیل سے مستثنی ہے یعنی ساری رات کھڑے ہوں مگر تھوڑا حصہ کیونکہ ساری رات کا قیام ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے تو تھوڑے حصہ کو قیام سے خارج کرو تاکہ جسم آرام پائے کسی شے کے قلیل سے مراد نصف سے کم ہے۔ وہب بن منبہ سے یہ منقول ہے کہ قلیل دسویں یاچھٹے حصے سے کم کو کہتے ہیں کلبی اور مقاتل نے کہا، ایک تہائی کو قلیل کہتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ یہ تخفیف تھی کیونکہ قیام کا زمانہ محدود نہ تھا لوگوں نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے پھر اسے علم ان لن تحصوہ سے منسوخ کردیا گیا اخفش نے کہا، نصف سے پہلے او کا لفظ محذوف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، اعصاہ درھما درھمین ثلاثہ۔ اس سے متکلم یہ ارادہ کرتا ہے اسے ایک درہم یا دو درہم یا تین درہم دے دو ، زجاج نے کہا، نصفہ یہ اللیل سے بدل ہے الاقلیلا۔ یہ نصف سے مستثنی ہے اور منہ اور علیہ میں جو ضمیر ہے یہ نصف کے لیے ہے معنی یہ ہوگا نصف رات کا قیام کیجئے یا اس سے تھوڑا کم کرلیجئے یعنی ایک تہائی یا اس سے زیادہ کرلیجئے یعنی دو تہائی، گویا یہ حکم ہوارات کا دوتہائی نصف یا ایک تہائی قیام کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا نصفہ یہ قلیلا سے بدل ہے آپ کو تین امور میں اختیار دیا گیا مکمل نصف، اس سے کم اور اور اس سے زیادہ۔ گویا تقدیر کلام یہ ہے قم اللیل الا نصفہ اواقل من نصفہ اواکثر من نصفہ۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں جو مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں جو مجھ سے سوال کرتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے میں اسے بخش دیتا ہوں یہ اسی طرح معاملہ رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے اس کی مثل حضرت ابوہریرہ اور حضڑت ابوسعید سے مروی ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رات کے دوتہائی کا قیام مرغوب ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، رات کا نصف یا دو تہائی جب گزرجاتا ہے، الخ۔ دوسندوں سے حضرت ابوہریرہ سے اسی طرح او کے لفظ کے ساتھ روایت مروی ہے۔ سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت ابوسعید سے رروایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ رات کا پہلانصف گزر جاتا ہے پھر وہ منادی کو حکم دیتا ہے تومنادی کرنے والا کہتا ہے۔ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے ؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے جس کو بخشا جائے ؟ کیا کوئی سائل ہے جس کو عطا کیا جائے ؟ ابو محمد عبدالحق نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہونے کے ساتھ نزول کے معنی کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ نصف رات کو ہوتا ہے۔
ابن ماجہ نے ابن شہاب کی حدیث سے وہ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ اغر سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ہر رات جب رات کا تیسرا حصہ باقی ہوتا ہے تو ہمارا رب نزول اجلال فرماتا ہے وہ فرماتا ہے، کون مجھ سے سوال کرتا ہے، کہ میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں ؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ہمارے علماء نے کہا، قرآن و حدیث میں اسی طریقہ پر تطبیق کی جائے گی کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مشکاۃ سے دیکھتے ہیں موطا اور دوسری کتب میں حضرت ابن عباس سے روایت مروی ہے، میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے ہاں رات گزاری جب رات نصف گزرچکی تھی یا اس سے تھوڑا پہلے یا بعد کا وقت ہوگا رسول اللہ بیدار ہوئے آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف اٹھے آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔
ساری رات کی عبادت کا ناسخ حکم۔
مسئلہ نمبر 7۔ رات کے قیام کے ناسخ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے حضڑت ابن عباس اور حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کے قیام کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، علم ان لن تحصوہ، حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے فرمان، علم ان سیکون منکم مرضی، سے منسوخ ہے، حضرت عائشہ صدیقہ، امام شافعی، مقاتل اور ابن کیسان سے یہ مروی ہے کہ یہ پانچ نمازوں کے ساتھ منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس حکم کا ناسخ، فاقروا ماتیسر منہ۔ ہے۔ ابوعبدالرحمن سلمی نے کہا، جب یا ایھا المزمل، نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیاں سورج گئیں پھر یہ آیت نازل ہوئی، فاقروا ماتیسر منہ۔ بعض علماء نے کہا یہ ایسافرض ہے جس کے ساتھ فرض منسوخ ہوگیا۔ یہ نبی کریم کی فضیلت کی وجہ سے آپ پر خاص طور پر فرض تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک۔ (الاسرائ 79) ۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول ان تمام اقوال کو شامل ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، واقیموالصلاۃ (بقرہ 110) اس میں اس کا قول بھی داخل ہوجاتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ ناسخ پانچ نمازوں کا حکم ہے حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین اس طرف گئے ہیں کہ رات کی نماز ہر مسلمان پر فرض تھی اگرچہ بکری دوہنے کے وقت تک ہو، حضرت حسن بصری سے اس آیت کے بارے میں قول بھی منقول ہے، الحمدللہ، یہ فریضہ کے بعد نفلی نماز ہے انشاء اللہ یہی قول صحیح ہے کیونکہ قرآن وسنت میں رات کے قیام میں ترغیب دلائی گئی ہے اور اس کی فضیلت کا ذکر ہے۔
حضرت عائشہ سے روایت مروی ہے کہ میں نبی کریم کے لیے ایک چٹائی بچھاتی تھی جس پر رسول اللہ رات کے وقت نماز پڑھا کرتے تھے تو لوگوں نے اس بارے میں ایک دوسرے سے سنا جب رسول اللہ نے لوگوں کے اجتماع کو دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور اس امر سے ڈرے کہ ان پر رات کا قیام فرض ہی نہ کردیا جائے تو آپ ناراضگی کے عالم میں گھر میں داخل ہوگئے صحابہ کرام نے کھانسنا شروع کردیا، آپ ان کی طرف نکلے اور فرمایا، اے لوگوں اپنے آپ کو اتنے ہی اعمال کا مکلف بناؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ بدلہ دینے سے نہیں اکتاتا جب کہ تم عمل سے اکتاجاتے ہو کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔ تو اس وقت یا ایھا المزمل نازل ہوئی تورات کا قیام ان پر فرض کردیا گیا اور اسے فریضہ کا درجہ دیا گیا یہاں تک کہ صحابہ میں سے ایک آدمی رسی باندھتا اور اس کے ساتھ لٹک جاتا آٹھ ماہ تک صحابہ اسی طرح رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور یہ حکم نازل کیا، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل، انہیں فرض نماز کی طرف پھیر دیا اور رات کا قیام ان سے ختم کردیا گیا مگر جو وہ نفلی نماز کے طور پر پڑھیں۔
میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ کی اس حدیث کو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس کا معنی (رات تک) صحیح میں بھی ثابت ہے اور اس کا باقی ماندہ حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یا ایھا المزمل مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی وہ آٹھ ماہ تک قیام کرتے رہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں پہلے گزرچکا ہے کہ وہ ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ ماوردی نے حضرت عائشہ سے تیسرا قول بھی نقل کیا ہے کہ صحابہ سولہ ماہ تک قیام کرتے رہے کسی اور نے حضرت عائشہ سے یہ قول ذکر نہیں کیا حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسوہ مزمل کی ابتدا اور انتہا میں ایک سال کا عرصہ حائل ہے، کہا جہاں تک کہ رسول اللہ کا تعلق ہے یہ قیام آپ پر فرض تھا ایک نسخہ میں ان سے دو قول مروی ہیں ایک یہ ہے، رسول اللہ ﷺ کے اس جہان فانی سے پردہ فرمانے تک فرض تھا، دوسرا قول یہ ہے یہ حکم آپ سے بھی منسوخ کردیا گیا ہے جس طرح آپ کی امت سے منسوخ کردیا گیا، منسوخ ہونے تک اس کے فرض ہونے کی مدت میں دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے امت پر فرض رہنے والی مدت میں دو قول گزرچکے ہیں حضرت ابن عباس نے ایک سال ذکر کی ہے اور حضرت عائشہ نے سولہ ماہ ذکر کی ہے۔ دوسراقول یہ ہے یہ دس سال کا عرصہ تھا یہاں تک کہ اسے منسوخ کرکے تخفیف کردی گئی مقصود رسول اللہ کے لیے احکام میں زیادتی تھی تاکہ رسالت کے عمل کے ساتھ آپ ممتاز ہوجائیں ابن جبیر نے یہ بتات کہی۔ میں کہتا ہوں، ثعلبی نے سعید بن جبیر سے جو روایت ذکر کی ہے یہ اس کے خلاف ہے پس اس میں غوروفکر کیجئے، سورت کے آخر میں زیادہ وضاحت آئے گی، ان شاء اللہ۔