تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 4
اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ﴿4﴾
- اَوْ زِدْیا زیادہ کرلیں
- عَلَيْهِاس پر، سے
- وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَاور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں قرآن
- تَرْتِيْلًاترتیل کے ساتھ
Translation · Al-Qurtubi
یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو
Tafseer · Al-Qurtubi
ترتیل سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 8۔ ورتل القرآن ترتیلا۔ قرآن کی قرات میں جلدی نہ کرو بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اور معانی میں تدبر کرتے ہوئے پڑھو، ضحاک نے کہا، اسے حرف حرف کرکے پڑھو، مجاہد نے کہا، اللہ تعالیٰ کے ہاں قرات قرآن میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ سمجھ کر پڑھتا ہے ترتیل سے مراد بڑی خوبصورتی سے منظم ومرتب کرنا اس سے، ثغر رتل ورتل یعنی عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ اور فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جب کہ دانت خوبصورت اور نمایاں ہوں۔ اس کا بیان کتاب کے مقدمہ میں گزرچکا ہے، حضرت حسن بصری نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک آیت کی تلاوت کررہا تھا اور رو رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کیا تم نی اللہ تعالیٰ کے فرمان کو نہیں سنا، ورتل القرآن ترتیلا، یہ ترتیل ہے۔ علقمہ نے ایک آدمی کو اچھی طرح قرات کرتے ہوئے سناتو انہوں نے کہا اس نے قران حکیم ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں ابوبکر بن طاہر نے ان الفاظ کی یہ تعبیر بیان کی ہے اس کے خطاب کے لطائف میں غوروفکر کیجئے، نفس سے اس کے احکام بجالانے کا مطالبہ کیجئے اپنے دل سے اس کے معانی کے فہم کا مطالبہ کیجئے اور اس کی طرف توجہ کرنے کا مطالبہ کیجئے حضرت عبداللہ بن عمرو نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، قیامت کے روز قرآن کے قاری کو لایاجائے گا اسے جنت کے پہلے زینہ پر کھڑا کیا جائے گا اور اسے کہا جائے گا، پڑھتا جا اور اوپر چڑھتاجا اور اس طرح ٹھہرٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں پڑھا کرتا تھا، بیشک تیرا ٹھکانہ اس آخری آیت کے پڑھنے پر ہوگا جسکوتو پڑھے گا۔ اے ابوداود نے نقل کیا ہے کتاب کے آغاز میں اس کا ذکر ہوچکا ہے حضرت انس نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم قرآن پڑھتے وقت اپنی آواز کو لمبا کیا کرتے تھے۔