تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 5

  1. اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا﴿5﴾

    1. اِنَّا سَنُلْقِيْبیشک ہم عنقریب ڈال دیں گے
    2. عَلَيْكَآپ پر
    3. قَوْلًا ثَقِيْلًاایک کلام بھاری
Translation · Al-Qurtubi
ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے
Tafseer · Al-Qurtubi
انا سنلقی علیک قولا ثقیلا۔ اس آیت کا تعلق اس آیت کے ساتھ ہے جس میں رات کا قیام فرض کیا گیا یعنی رات کی نماز فرض کرنے کے ساتھ ہم آپ پر قول ثقیل القا کریں گے جس کا اٹھانا مشکل ہوگا کیونکہ رات سونے کے لیے ہوتی ہے جس کو رات کے اکثر حصہ میں قیام کا حکم دیا گیا ہو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر اسے نفس پر سختی کرنا پڑتی ہے اور شیطان سے مجاہدہ کرنا پڑھتا ہے یہ چیز بندے پر بڑی بھاری ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہم آپ کی طرف قرآن وحی کریں گے وہ قول ثقیل ہے جس کے شرعی احکام پر عمل ثقیل ہے قتادہ نے کہا، اللہ کی قسم اس کے فرائض اور اس کی حدود ثقیل ہیں، مجاہد نے کہا، اس کا حلال اور حرام ثقیل ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس پر عمل کرنا مشکل ہے، ابوالعالیہ نے کہا، وعدہ، وعید اور حلال و حرام کے اعتبار سے ثقیل ہے محمد بن کعب نے کہا منافقوں پر ثقیل ہے ایک قول یہ کیا گیا کفار پر ثقیل ہے کیونکہ اس میں ان کے خلاف استدلال ہے، ان کی گمراہی کا بیان ہے ان کے معبودوں کے لیے سب وشتم موجود ہے اور اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں جو تحریف کی ہے اس کی وضاحت موجود ہے۔ سدی نے کہا، ثقیل کریم کے معنی میں ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، فلاں ثقیل علی۔ یعنی وہ میرے لیے معزز ہے۔ فراء نے کہا، ثقیل بمعنی باوقار ہے، یہ خفیف نہیں کیونکہ یہ ہمارے رب کا کلام ہے۔ حسین بن فضل نے کہا، یہ ثقیل ہے اس کا حامل وہی دل ہوسکتا ہے جس کو توفیق تائید نصیب ہو وہی نفس اٹھاسکتا ہے جو توحید سے مزین ہو، ابن زید نے کہا، اللہ کی قسم وہ ثقیل اور بابرکت ہے جس طرح قرآن دنیا میں ثقیل ہے اسی طرح قیامت کے روز میزان میں ثقیل ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا یہ ثبت ہے جس طرح بھاری چیز اس جگہ میں ثبت ہوتی ہے اس کا معنی ہوگا اس کا اعجاز ثابت ہے اس کا اعجاز کبھی زائل نہ ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد قرآن ہے جس طرح حدیث میں ہے کہ جب نبی کریم کی طرف وحی کی گئی جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو اس اونٹنی نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا یا وہ حرکت بھی نہ کرسکتی تھی یہاں تک کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا، موطا اور دوسری کتب میں ہے کہ نبی کریم سے سوال کیا گیا آپ کے پاس وحی کس طرح آتی تھی ؟ فرمایا کبھی میرے پاس دوگھنٹی کی آواز کی صورت میں آتی تھی یہ میرے سب سے شدید ہوا کرتی تھی وہ وحی ختم ہوتی جب کہ میں اسے یاد کرچکا ہوتا کبھی فرشتہ میرے لیے انسانی شکل میں آتا وہ مجھ سے گفتگو کرتا اور جو وہ کہتا میں اسے یاد کرلیتا۔ حضڑت عائشہ نے کہا، میں نے آپ کو شدید سردی میں دیکھا آپ پر وحی نازل ہوتی وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی کنپٹی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ ابن عربی نے کہا یہ تعبیر بہت رہے کیونکہ یہی حقیقت ہے جب کہ قرآن حکیم میں یہ بھی ہے، وماجعل علیکم فی الدین من حرج (الحج 78) اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سورت میں قول سے مراد، لا الہ الا اللہ کا قول ہے کیونکہ حدیث طیبہ میں آیا ہے، زبان پر ہلکا اور میزان میں بھاری ہے، یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔