تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 9
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا﴿9﴾
- رَبُّرب
- الْمَشْرِقِمشرق کا
- وَالْمَغْرِبِاور مغرب
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
- اِلَّا هُوَاس کے سوا
- فَاتَّخِذْهُپس پکڑ لو (بنالو) اسکو
- وَكِيْلًاکارساز
Translation · Al-Qurtubi
وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ
Tafseer · Al-Qurtubi
رب المشرق والمغرب۔۔۔ تا۔۔۔۔ قلیلا۔
اہل حرمین، ابن محصین، مجاہد، ابوعمرو، ابن اسحاق، اور حفص نے لفظ رب کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر لا الہ الاھو ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ھومضمر ہے، باقی قراء نے لفظ رب کو مجرور پڑھا ہے، کیونکہ یہ واذکر اسم ربک، اور رب المشرق کے لفظ رب کی صفت ہے جو آدمی یہ جان لیتا ہے کہ وہ مشارق اور مغارب کا رب ہے تو اس کا عمل اور آرزو اور اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی، فاتخذوہ وکیلا۔ یعنی تو اسے یوں بنالے کہ وہ تیرے امور کی نگہبانی کرنے والا ہے، اور اسی نے تیرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر اسے ضامن بنالے۔ کفار جو آپ کو اذیت دیتے ہیں سب وشتم کرتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اس پر صبر کیجئے ان کی باتوں سے نہ گھرائیں اور ان کو دعوت دینے سے نہ رکیں، انہیں بدلہ دینے میں مشغول نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کو ترک کرنے والے ہوں گے یہ امر جہاد سے قبل کا تھا اس کے بعد کفار کے ساتھ قتال کا حکم نازل ہوا تو جہاد والی آیت نے ماقبل کو ترک کے حکم کو منسوخ کردیا، قتادہ اور دوسرے علماء کا یہی نقطہ نظر ہے حضرت ابودرداء نے کہا، ہم کچھ لوگوں کے لیے ہنستے ہیں جب کہ ہمارے دل ان پر ناراض ہوتے ہیں اور ان پر لعنت کررہے ہوتے ہیں۔
وذرنی والمکذبین۔ یعنی انہیں سزا دینے کے لیے میری سزا پر راضی ہوجائے یہ قریش کے ان سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی جو استہزاء کیا کرتے تھے مقاتل نے کہا، یہ ان دس افراد کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے غزوہ بدر میں مشرک فوج کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری لی تھی، ان کا ذکر سورة انفال میں ہوچکا ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، وہ بنومغیرہ ہیں، سعید بن جبیر نے کہا، مجھے خبر دی گئی کہ وہ بارہ افراد ہیں، اولی النعمۃ وہ مالدار، خوشحال اور دنیا میں لذتوں کے مالک ہیں، ومھلھم قلیلا، یعنی ان کی وفات کی مدت تک مہلت دیں، حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو تھوڑا وقت ہی گزر تھا کہ واقعہ بدر ہوگیا، ایک قول یہ کیا گیا انہیں دنیا کی مدت تک مہلت دیجئے۔