تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 8
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ﴿8﴾
- وَاذْكُرِاور آپ یاد کریں
- اسْمَنام
- رَبِّكَاپنارب
- وَتَبَتَّلْاور چھوٹ جائیں
- اِلَيْهِاس کی طرف
- تَبْتِيْلًا(سب سے) چھوٹ کر
Translation · Al-Qurtubi
تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ
Tafseer · Al-Qurtubi
واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔
اس میں تین مسائل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کرنے سے کیا مراد ہے۔
مسئلہ نمبر 1۔ واذکراسم ربک۔ یعنی اسے اسمائے حسنی سے یاد کرو تاکہ نماز کے ساتھ اچھا انجام حاصل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے عمل کے ساتھ اپنے رب کی ذات کا قصد کر۔ سبیلی نے کہا، اپنی نماز کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھ اس کی قرات کی برکت تجھے تیرے رب تک پہنچا دے گی اور اس کے غیر سے تجھے قطع کردے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے وعدہ اور وعید میں اپنے رب کے نام کا ذکر کیجئے تاکہ تو زیادہ اطاعت کرے اور معصیت سے اعراض کرے۔ کلبی نے کہا، دن کے وقت اپنے رب کی نماز پڑھیے، میں کہتا ہوں یہ بہت اچھی تاویل ہے کیونکہ جب رات کا ذکر کیا تو دن کا بھی ذکر کیا، کیونکہ دن رات کا قسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ لمن ارادان یذکر (فرقان 62 ) ۔
تبتل کا معنی ومفہوم۔
مسئلہ نمبر 2۔ وتبتل الیہ تبتیلا۔ تبتل کا معنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہوکررہ جانا، یعنی اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو یہ جملہ بولا جاتا ہے، بتلت الشئی، یعنی میں نے اس چیز کو کاٹا۔ اس معنی میں ان کا قول ہے۔ طلقھا بتۃ بتلۃ۔ اس نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دی، ھذہ صدقۃ بتتۃ بتلۃ یہ صدقہ بائنہ ہے اپنے مالک سے منقطع ہے یعنی مالک کی صدقہ سے ملکیت ختم ہوچکی ہے۔ اس معنی میں مریم بتول ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہورہی تھیں راہب کو متبتل کہتے ہیں کیو کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہوجاتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
حدیث طیبہ میں تبتل سے نہی کی گئی ہے وہ لوگوں اور جماعتوں سے الگ تھلگ ہونا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے عربوں کے ہاں اس کا اصل معنی الگ تھلگ ہے۔ ابن عرفہ نے یہی کہا ہے جب کہ پہلا معنی ان آثار کی وجہ سے زیادہ قوی ہے جو آثار ہم نے ذکر کیے ہیں یہ سوال کیا جاتا ہے، تبتیلا، کیوں کہا، تبتلا نہیں کہا ؟ تو اسے جواب دیا جائے گا، تبتل کا معنی بتل نفسہ ہے یعنی اپنے نفس کو الگ تھلگ کرنا توآیات کے سروں کی موافقت کی وجہ سے تبتل کی جگہ تبتیلا کا لفظ ذکر کیا ہے۔
رہبانیت اختیار کرنے کی ممانعت۔
مسئلہ نمبر 3۔ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان، یا ایھا الذین آمنوالاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم (86) کی تفسیر میں یہ بات گزرچکی ہے جو آدمی الگ تھلگ ہوتا ہے اور رہبانیت کی راہ اختیار کرتا ہے وہ مکروہ ہے تو وہ بحث کافی ہے۔ ابن عربی نے کہا، جہاں تک اس دور کا تعلق ہے تو لوگوں کے عہدوپیمان فاسد ہوچکے ہیں امانت داری کا جذبہ ضعیف ہوچکا ہے اور حرام، دنیاوی اموال پر غالب آچکا ہے اس لیے تنہائی میل جول سے بہتر ہے، اور مجرد زندگی شادی سے افضل ہے لیکن آیت کا معنی ہے بتوں اور غیر اللہ کی عبادت سے دستکش ہوجاؤ، مجاہد نے اسی طرح کی بات کی ہے جس کا معنی یہ ہے اس کے لیے عبادت کو خالص کرو، تبتل کا ارادہ نہیں کیا، تبتل کا قرآن حکیم میں حکم دیا گیا سنت میں اس سے نہی کی گئی امر کا تعلق، نہی کا متعلق نہیں تو یہ دونوں چیزیں آپس میں متناقض نہیں، کیونکہ نبی کریم کو اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے نازل شدہ احکام کی وضاحت کریں، پس وہ تبتل جس کا قرآن حکیم میں حکم دیا گیا وہ عبادت کو خالص کرتے ہوئے اللہ کے لیے ہوکررہنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما امروا الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الدین (البینہ 5) جس تبتل سے منع کیا گیا ہے وہ نکاح کو ترک کرنے اور عبادت گاہوں میں الگ تھلگ رہنے میں نصاری کا طریقہ اپنانا ہے، لیکن جب زمانہ فساد کا شکار ہوجائے تو مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہیں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں چراتا ہے اور اپنے دین کی حفاظت کی خاطرفتنوں سے دوربھاگتا ہے۔