تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 18
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ﴿18﴾
- اِنَّهٗ فَكَّرَبیشک اس نے سوچا
- وَقَدَّرَاور اس نے اندازہ کیا
Translation · Al-Qurtubi
اس نے فکر کیا اور تجویز کی
Tafseer · Al-Qurtubi
انہ فکر وقدر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ قول البشر۔
انہ فکر وقدر۔ ولید نے نبی کریم اور قرآن کے متعلق غوروفکر کیا اور اپنے دل میں کلام کو سوچا۔ عرب کہتے ہیں، قدرت الشئی۔ جب تو اسیتیار کرے یہ اس وجہ سے ہوا، جب، حم، تنزیل الکتاب من اللہ العزیز۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیہ المصیر۔ (المومن) تک نازل ہوئی۔ ولید نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا اس نے کہا، اللہ کی قسم، میں نے ان سے ایسی کلام سنی ہے جو نہ انسانوں کی کلام ہے اور نہ ہی جنوں کی کلام ہے۔ اس میں مٹھاس ہے، اس کا ظاہر حسین ہے اس کا اوپر والاحصہ پھل دار ہے اس کا نیچے والا حصہ گہرا ہے اور وہ خود بلند ہے اس پر غلبہ نہیں پایاجاسکتا کوئی انسان ایسی کلام نہیں کرسکتا۔ قریش نے کہا، ولید بےدین ہوگیا، تمام قریش اپنا دین چھوڑ جائیں گے، ولید کو ریحانہ قریش کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ابوجہل نے کہا، میں تمہاری جانب سے اسے کافی ہوں وہ اس کے پاس غمگین بن کرگیا ولید نے اسے کہا کیا وجہ ہے میں تجھے غمگین دیکھتا ہوں ؟ ابوجہل نے ولید سے کہا، میں کیوں نہ غمگین نہ ہوں، یہ قریشی تیرے لیے روزانہ جمع کررہے ہیں وہ تیرے بڑھاپے میں تیری مدد کرنا چاہتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں تو نے محمد کے کلام کو زینت والا قرار دیا ہے اور تو ابن ابی کبشہ اور ابن ابی قحافہ کے پاس جاتا ہے۔ تاکہ تو ان کے بچے ہوئے کھانے کو کھائے، ولید غضب ناک ہوگیا اور تکبر کا اظہار کیا، اور کہا میں محمد ﷺ اور اس کے ساتھی کے ٹکروں کا محتاج ہوں جب کہ تم تو میرے مال کی قدرومنزلت کو جانتے ہو، لات وعزی کی قسم مجھے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں، تم گمان کرتے ہو کہ محمد مجنون کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ ان کا گلابند ہو ؟ لوگوں نے کہا، نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا تم گمان کرتے ہو کہ وہ شاعر ہے ؟ کیا تم نے کبھی اسے دیکھا ہو کہ اس نے شعر کہا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ جھوٹا ہے کیا تم نے اسے کبھی جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا، تم گمان کرتے ہو کہ وہ کاہن ہے کیا تم نے اسے کہانت کرتے ہوئے دیکھا ہے ہم نے کاہنوں کو سجع والی گفتگو کرتے ہوئے اور باتوں کو خلط ملط کرتے ہوئے دیکھا ہے کیا تم نے انہیں بھی کبھی ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم۔ نبی کریم کو صادق امین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے قریش نے ولید سے کہا، بتاؤ پھر وہ کیا ہے ؟ اس نے دل میں سوچا پھر غوروفکر کیا پھر چیں بجبیں ہو اور کہا صرف جادوگر ہے (نعوذ باللہ) کیا تم نے اسے نہیں دیکھا کہ وہ میاں بیوی، اس کے بچوں اور اس کے غلاموں میں جدائی ڈال دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے اس نے حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے بارے میں سوچا، اس نے دل میں اندازہ لگایا جو وہ زیادہ سے زیادہ ان دونوں کے متعلق کہہ سکتا تھا، فقتل اس پر لعنت ہو، بعض علماء اس کی تاویل میں کہتے ہیں اس کا معنی وہ مقہور مغلوب ہو کیونکہ ہر وہ شخص جسے مغلوب ومسخر کرلیاجائے وہ قتل کیا گیا ہی ہوتا ہے، شاعر نے کہا : وماذرفت عیناک الالتقدحی، بسھمیک فی اعشار قلب مقتل۔ تیری آنکھیں نہیں بہیں مگر اس لیے کہ تو اپنے دوتیروں سے مغلوب کے دل میں زخم لگا دے۔ زہری نے اس کا معنی کیا ہے اسے عذاب دیا جائے گا تو یہ بددعا ہوگی۔
کیف قدر۔ لوگوں نے کہا : کیف تعجب کے اظہار کے لیے ہے جس طرح ایسے آدمی کو کہا جاتا ہے جس کے عمل پر تعجب کا اظہار کیا جائے : کیف فعلت ھذا تو نے یہ کام کیسے کرلیا، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ بھی ہے، انظر کیف ضربوالک الامثال (فرقان 9) دیکھ تو اس نے تیرے بارے میں کیسی مثالیں ذکر کی ہیں، ثم قتل اس پر لعنت کے بعد لعنت ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ایک سزا سے قتل ہو پھر دوسرے عذاب سے قتل ہو، کیف قدر اس نے کس حال پر اندازہ لگایا، ثم نظر۔ کس شے کے ساتھ وہ حق کو لوٹاتا ہے۔ ثم عبس اس نے مومنوں کے سامنے اپنی آنکھوں کے درمیان بل ڈالا اس کی وجہ یہ بنی جب ولید نے حضرت محمد کے بارے میں قریش کو جس قسم کی گفتگو پر ابھارا کہ وہ جادوگر ہے تو ولید مسلمانوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزر انہوں نے ولید کو اسلام کی طرف دعوت دی توچیں بجیں ہوا ایک قول یہ کیا گیا ہے جب نبی کریم ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس پر ناراض ہوا اور چہرے پر درشتگی کے آثار لایا، عبس کو جب تخفیف کے ساتھ پڑھاجائے تو یہ عبس، یغبس، عبسا، عبوسا کا مصدر ہوگا یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ ماتھے پر بل لائے، عبس اس پیشاب اور گوبر کو کہتے ہیں جو اونٹ کی دم کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ ابوالنجم نے کہا : کان فی اذنابھن الشئول، من عمس الصیف قرون الابل۔ گویا ان کی اٹھی ہوئی گردنوں میں موسم گرما کی سختی میں بارہ سنگا کے سینگ ہیں۔ وبسر۔ اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اس کا رنگ بدل گیا، یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے اس معنی میں بشر بن ابی حازم کا قول ہے : صبحنا تمیما غداۃ الجفار بشھباء ملمومۃ باسرہ۔ ہم نے جفار کی صبح بنوتمیم پر حملہ کیا مسلح جماعتوں والے ترش رو لشکروں کے ساتھ۔ ایک اور شاعر نے کہا : وقد رابنی منھا صدود رایتہ، واعراضھا عن حاجتی وبسورھا۔ مجھے شک میں ڈال دیا اس کے رکنے نے جو میں نے دیکھا، میری ضرورت کے اعراض نے اور اس کی ترش روئی نے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے چہرہ میں عبوس کا ظہور گفتگو کے بعد ہوتا ہے اور چہرے میں بسور کا ظہور گفتگو سے پہلے ہوتا ہے یعنی عبوس اور بسور چہرے پر درشتگی کے آثار ہیں۔ ایک قوم نے کہا : بسر وہ رک گیا نہ وہ آگے ہوتا ہے اور نہ پیچھے ہوتا ہے، انہوں نے کہا، اس طرح اہل یمن کہتے ہیں قد بسر المرکب۔ سواری رک گئی نہ آتی ہے نہ جاتی ہے، ابسر کا معنی بھی رکنا ہے، قد ابسرنا ہم رک گئے عرب کہتے ہیں : وجہ باسربین البسور۔ جب وہ متغیر ہوا اور سیاہ ہوجائے۔ ثم ادبر وہ مڑا اور اپنے گھر جانے کے لیے منہ پھیرلیا۔ واستکبر۔ ایمان لانے سے اس نے اپنے آپ کو بڑا جان، ایک قول یہ کیا گیا ہے ایمان سے اس نے رخ پھیرلیا اور جب اسے ایمان کی طرف دعوت دی گئی تو اس نے تکبر کیا، فقال ان ھذا الاسحر یوثر۔ یعنی جو محمد ﷺ یہ نہیں ہے مگر ایسا جادو جو کسی دوسرے سے بیان کرتے ہیں، سحر کا معنی دھوکہ ہے اس کا بیان سورة بقرہ میں گزرچکا ہے ایک قوم نے کہا، سحر کا مطلب ہے حق کی صورت میں باطل کو ظاہر کرنا، اثرہ یہ تیرے اس قول کا مصدر ہے، اثرت الحدیث اثرہ۔ جب تو اس بات کو غیر سے بیان کرے، اس معنی میں حدیث ماثور ہے یعنی جسے بعد میں آنے والا پہلے آنے والوں سے بیان کرتا ہے، امراء القیس نے کہا، لقلت من القول مالایزال یوثر عنی ید المسند۔ میں نے ایسی بات کہی جو مجھ سے ہمیشہ بیان کی جاتی رہے گی، اعشی نے کہا : ان الذی فیہ تماریتما بین للسماع والاثر۔ وہ چیز جس میں تم شک کا اظہار کررہے ہو وہ سامع اور بعد میں آنے والوں کے لیے واضح ہے۔