تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 17

  1. سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ﴿17﴾

    1. سَاُرْهِقُهٗاب اسے چڑھواؤنگا
    2. صَعُوْدًابڑی چڑھائی
Translation · Al-Qurtubi
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
Tafseer · Al-Qurtubi
سارھقہ صعودا۔ میں اسے صعودا پر چڑھنے کا مکلف بناؤں گا حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے میں اسے مجبور کروں گا کلام عرب میں ارقا سے مراد یہ ہے کہ انسان کو کسی شی پر مجبور کیا جائے، صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے جہنمی ستر سال تک اس پر چڑھتا رہے گا پھر اتنا عرصہ نیچے گرتا رہے گا یہ ہمیشہ اسی طرح ہوگا۔ حضرت ابوسعید نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اس بارے میں انہوں نے کہا، یہ حدیث غریب ہے۔ عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ صعود جہنم میں ایک چٹان ہے جب جہنمی اس پر اپنا ہاتھ رکھیں گے تو ان کے ہاتھ پگھل جائیں گے اور جب اسے اٹھائیں گے تو وہ ہاتھ ٹھیک ہوجائیں گے، کہا جہنمی اس کی بلندی تک چالیس سال تک پہنچے گا اسے سامنے سے زنجیروں سے کھینچا جارہا ہوگا اور پیچھے سے انہیں گرز مارے جارے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جب وہ اس کی بلندی تک پہنچے گا تو اسے اس کی پستی کی طرف پھینک دیا جائے گا، ہمیشہ اس کے ساتھ یہی سلوک جاری رہے گی، یہی بحث سورة قل اوحی میں گزرچکی ہے تفسیر میں ہے یہ ایک ملائم چٹان ہے جس پر چڑھنے کا اسے احکم دیا جائے گا جب وہ اس کی بلندی پر پہنچیگا تو اسے جہنم میں گرا دیا جائے گا تو جہنم کی گہرائی تک پہنچنے تک ہزار سال تک گرتا ہی رہے گا ہر ستر دنوں میں اسے ایک بار جلایاجائے گا پھر اسے نئے سرے سے پیدا کردیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی ہے میں اسے عذاب کی مشقت میں ڈالوں گا جس میں اس کے لیے کوئی راحت نہ ہوگی، اس کی مثل حضرت حسن بصری اور قتادہ سیمروی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی روح نکلنے کے لیے بلند ہوگی اگرچہ اسے موت واقع نہ ہوگی اسے جسم کے اندر سے اسی طرح عذاب دیا جائے گا جس طرح اسے خارج سے عذاب دیا جائے گا۔