تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 29

  1. لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ﴿29﴾

    1. لَوَّاحَةٌجھلس دینے والی
    2. لِّلْبَشَرِآدمی کو
Translation · Al-Qurtubi
(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی
Tafseer · Al-Qurtubi
لواحۃ للبشر۔ چمڑے کو بدل دے گی، یہ لاحہ سے مشتق ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے تبدیل کرے۔ عام قراء کی قرات لواحۃ رفع کے ساتھ ہے یہ سقر کی صفت ہے جو وما ادراک ماسقر۔ میں ہے عطیہ عونی، نصر بن عاصم اور عیسیٰ بن عمر نے لواحۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے یہ اختصاص کے طریقہ پ منصوب ہے مقصود ہولناکی بیان کرنا ہے۔ ابورزین نے کہا، ان کے چہروں پر ایک لپک پڑے گی جوان کے چہروں کو رات سے بھی زیادہ سیاہ کرکے چھورے گی یہ مجاہد کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، لاحہ البرد والحر، والسقم والحزن۔ سردی، گرمی، بیماری اور غم نے اسے سیاہ کردیا، اور اس کے چہرے کو بدل دیا، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : تقول مالاحک یا مسافر، یابنۃ عمی لاحنی الھواجر۔ وہ کہتی ہے : اے مسافر ! کس چیز نے تیرے چہرے کی رنگ کو بدل دیا ہے اے چچازاد بہن، دوپہر کی لپکوں نے میرے چہرے کو سیاہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوح کا معنی سخت پیاس ہے کہا جاتا ہے، لاحۃ العش ولوحہ۔ پیاس نے اس کے چہرے کے رنگ کو بدل دیا، معنی یہ ہوگا کہ وہ انسانوں یا جہنمیوں کے لیے پیاس ہوگی، یہ اخفش کا قول ہے، اس نے یہ شعر پڑھا ہے : سقتنی علی لوح من الماء شربۃ، سقاھا بھا اللہ الرھام الغوادیا۔ اس نے مجھے شدیدپیاس میں پانی کا ایک گھونٹ پلایا اللہ تعالیٰ اسے ہلکی بارش سے سیراب کرے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، لواحۃ یعنی وہ انسان کے لیے پانچ سو سال کی مسافت سے ظاہر ہوجائے گی۔ حضرت حسن بصری اور ابن کیسان نے کہا : جہنم ان کے لیے ظاہر ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، وبرزت الجحیم للغوین۔ الشعرائ) جہنم سرکشوں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ بشر کی دو توج ہیں ہیں۔ اس سے مراد جہنمی انسان ہیں، یہ اخفش اور اکثر لوگوں کا خیال ہے۔ یہ بشرہ کی جمع ہے یہ انسان کی ظاہری جلد ہے، یہ مجاہد کا قول ہے، بشر کی جمع ابشار ہے پہلی تفسری کی بنا پر درست ہوسکتا ہے، جہاں تک کہ حضرت ابن عباس کی تفسیر کا تعلق ہے اس میں لوگ ہی درست ہوسکتے ہیں جلدیں درست نہیں ہوسکتے، یہ لاح الشئی یلوح سے مشتق ہے جس کا معنی چمکنا ہے۔