تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 30
عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ﴿30﴾
- عَلَيْهَااس پر ہیں
- تِسْعَةَ عَشَرَانیس (داروغہ)
Translation · Al-Qurtubi
اس پر انیس داروغہ ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
علیھا تسعۃ عشر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ذکری للبشر
علیھا تسعۃ عشر۔ یعنی سقر پر انیس فرشتے ہیں جو جہنم میں جہنمیوں سے ملاقات کریں گے پھر کہا گیا، مجموعی جہنم پر انیس فرشتے ہیں وہی اس کے خازن ہیں ایک مالک اور باقی اٹھارہ۔ یہ احتمال ہے انیس نقیب ہوں۔ یہ بھی احتمال ہے انیس فرشتے ہوں، اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے ثعلبی نے کہا، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، جب ایک فرشتہ تمام مخلوق کی ارواح کو قبض کرسکتا ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ انیس فرشتے بعض مخلوق کے عذاب پر متعین ہوں ابن جریج نے کہا، نبی کریم ﷺ نے جہنم کی داروغوں کی صفت بیان کی فرمایا، گویا ان کی آنکھیں بجلیاں ہیں، ان کے منہ قلعے ہیں، وہ اپنے بال کھینچتے ہوں گے ان میں سے ایک میں اتنی طاقت ہوگی جتنی جن وانس میں طاقت ہے، ان میں سے ایک پوری امت کو ہانک لے گا، اس کی گردن پر ایک پہاڑ ہوگا وہ ان سب کو آگ میں پھینک دے گا اور ان پر پہاڑ پھینک دے گا۔ میں نے کہا : ابن مبارک نے ذکر کیا کہا حماد بن سلمہ، ازرق بن قیس سے وہ بنی تمیم کے ایک آدمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم ابوعوام کے پاس تھے انہوں نے اس آیت کو پڑھا، وما ادراک ماسقر، لاتبقی ولاتذر، لواحۃ للبشر، علیھاتسعۃ عشر۔ پوچھا یہ انیس کیا ہیں انیس ہزار فرشتے یا انیس فرشتے ؟ میں نے کہا نہیں بلکہ انیس فرشتے پوچھاتونے یہ کہا سے سیکھا ؟ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے، وماجعلنا عدتھم الافتنۃ اللذین کفروا۔ کہا تو نے سچ کہا وہ انیس فرشتے ہیں ان میں سے ہر ایک فرشتے کے پاس ایک گرز ہوگا جس کی آگے دو شاخیں ہوں گی وہ ایک ضرب لگائے گا تو اس کے ساتھ ستر ہزار افراد کو جہنم میں گرا دے گا۔ حضرت عمر وبن دینار سے مروی ہے، ان میں سے ہر ایک ایک ہی دھکے کے ساتھ ربیعہ اور مضر سے زیادہ افراد کو جہنم میں ڈال دے گا۔
امام ترمذی نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ یہودیوں نے کچھ صحابہ کرام سے کہا، کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کی تعداد کو جانتا ہے ؟ صحابہ نے کہا، جب تک ہم نبی کریم سے نہ پوچھ لیں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے عرض کی اے محمد ﷺ آج آپ کے ساتھ مغلوب ہوگئے پوچھا وہ کیسے مغلوب ہوگئے ؟ اس نے عرض کی یہودیوں نے ان سے سوال کیا، کیا تمہارا نبی جہنم کے داروغوں کو جانتا ہے ؟ رسول اللہ نے پوچھا، صحابہ نے کیا جواب دیا ؟ اس نے عرض کی صحابہ نے کہا ہم کچھ نہیں جانتے یہاں تک کہ ہم اپنے نبی سے سوال کرلیں، فرمایا کیا وہ قوم مغلوب ہوگئی جن سے ایسی بات پوچھی گئی جس کو وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے یہ کہا اسے نہیں جانتے جب تک ہم اس کے بارے میں نبی سے نہ پوچھ لیں ؟ جب کہ انہوں نے تو اپنے نبی سے یہ سوال کیا تھا، ہمیں اللہ تعالیٰ عیاں دکھا، اللہ کے دشمنوں کو میرے پاس لے آؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں، جب کہ وہ میدے کی طرح سفید ہے، جب وہ آگئے تو انہوں نے عرض کی، اے ابالقاسم، جہنم کے داروغوں کی تعداد کتنی ہے ؟ فرمایا اتنی اتنی، ایک دفعہ دس انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور دوسری دفعہ نو کے ساتھ۔ انہوں نے کہا، ہاں اتنی ہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا، جنت کی مٹی کیسی ہے ؟ وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اے اباالقاسم کیا وہ روٹی جیسی ہے ؟ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا روٹی میدے کی ہے۔ امام ابوعیسی ترمذی نے کہا، یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں۔ یعنی مجاہد، شعبی سے وہ حضرت جابر سے روایت نقل کرتے ہیں ابن وہب نے ذکر کیا اس نے کہا، عبدالرحمن بن زید نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے جہنم کے داروغوں کے بارے میں فرمایا، ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان اتنافاصلہ ہوگا جتنا مشرق ومغرب کے درمیان ہوتا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان فاصلہ ایک سال کی مسافت ہوگی، ان میں سے ایک کی قوت یہ ہوگی کہ وہ ایک گرز مارے گا تو ایک ہی دفعہ ستر ہزار انسانوں کو جہنم میں پھینک دے گا۔
میں کہتا ہوں کہ انشاء اللہ صحیح یہ ہے کہ یہ انیس سردار اور نقیب ہیں جہاں تک ان کی کل تعداد کا تعلق ہے عبارت اس کے اظہار سے عاجز ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ومایعلم جنود ربک الاھو (مدثر 31) تیرے رب کے لشکروں کو اس ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ صحیح میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اس دن جہنم کو لایاجائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کیساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور ضحاک نے کہا، جب علیھا تسعۃ عشر۔ آیت نازل ہوئی ابوجہل نے قریش نے کہا، تمہاری مائیں تم پر روئیں میں ابن ابی کبشہ کو سنتا ہوں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جہنم کے انیس داروغے ہیں جب کہ تمہاری اتنی تعداد اور تم اتنے بہادر ہو کیا تم اس بات سے بھی عاجز ہو کہ تم میں سے دس آدمی ایک کو پکڑلیں۔ سدی نے کہا، ابواسود بن کلدہ تیمی نے کہا، انیس تمہیں پریشان نہ کریں میں اپنے دائیں کندھے سے دس فرشتوں اور اپنے بائیں کندھے سے نوکوروک دوں گا پھر تم جنت میں داخل ہوجانا۔ وہ یہ بات بطور مزاق کے کیا کرتا۔ ایک روایت میں ہے حرث بن کلدہ نے کہا، میں سترہ کو تمہاری جانب سے کافی ہوں، تم میری جانب سے دو کو کافی ہوجانا، ایک قول یہ کیا گیا کہ ابوجہل نے کہا تھا، کیا تم میں سے سو عاجز ہیں کہ ان میں سے ایک کو پکڑ لیں پھر تم جہنم سے نکل جاؤ، تو یہ آیت نازل ہوئی، وماجعلنااصحاب النار الاملئکۃ، یعنی ہم نے انہیں انسان نہیں بنایا کہ تم ان پر غلبہ پاسکو، ایک قول یہ کیا گیا ہے انہیں فرشتے اس لیے بنایا کیونکہ وہ جن وانس کے خلاف ہو جنہیں عذاب دیاجانے والا ہے تو انہیں وہ چیز اپنی گرفت میں نہ لے گی جو شفقت اور رحمت ہم جنس کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، وہ داروغے جہنمیوں کے لیے راحت طلب نہیں کریں گے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بجالانے والے اور اس کے لیے غضب ناک ہونے والی سب سے قوی مخلوق ہے کہ ان کی نرمی فائدہ دے۔ ایک اور وجہ یہ ہے وہ پکڑا اور قت کے لحاظ سے سب قوی مخلوق ہے، وماجعلنا عدتھم الافتنۃ، کا معنی آزمائش ہے، حضرت ابن عباس سے کئی سندوں سے مروی ہے، ہم نے اس تعداد کو کافروں کے لیے گمراہی بنادیا ہے، اس سے مراد ابوجہل اور اس کے ساتھی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فتنہ سے مراد عذاب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم ھم علی النار یفتنون، ذوقوا فتنتکم، اس روز انہیں آگ پر عذاب دیا جائے گا، تم اپنے عذاب کو چکھو۔ (الذاریات) یعنی ہم نے اسے ان کے کفر اور عذاب کا سبب بنادیا۔
تسعۃ عشر۔ میں سات قرائتیں ہیں عام قرات تسعۃ عشر ہے، ابوجعفر بن قعقاع اور طلحہ بن سلیمان نے عین کو ساکن کرتے ہوئے تسعۃ عشر پڑھا ہے، حضرت ابن عباس سے تسعۃ عشر منقول ہے تا کے ضمہ کے ساتھ۔ حضرت انس بن مالک سے تسعۃُ وعشرُ ، تا اور شین کے ضمہ کے ساتھ منقول ہے، مہدوی نے اسے ذکر کیا ہے۔ جس نے تسعۃ َعشر پڑھا ہے وہ اسے ترکیب سے قبل اصل پر لایا ہے اور عشر کو تسعۃ پر معطوف کیا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے تنوین کو حذف کردیا ہے اور عشر کی راء کو سکوت کے کے ارادہ سے ساکن پڑھا ہے، جس نے تسعۃُعشر پڑھا ہے گویا یہ تداخل سے ہے گویا اس نے عطف کا ارادہ کیا اور ترکیب کو ترک کردیا۔ تسعۃ اعشر یہ قراءت معروف نہیں۔ ابوحاتم نے اس قرات کا انکار کیا ہے اسی طرح تسعۃ وعشر، عین کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ یہ بھی تسعۃ عشر پر محمول ہے واؤ ہمزہ کا بدل ہے۔ نحویوں کے نزدیک اس کی کوئی وجہ نہیں۔ زمحشری نے کہا، اسے تسعۃ اعشر پڑھا گیا ہے اعشر، عشیر کی جمع ہے جس طرح یمین کی جمع ایمن آتی ہے۔
لیستیقن الذین اوتوالکتاب۔ تاکہ جنہین تورات اور انجیل دی گئی ہے انہیں یقین ہوجائے کہ جہنم کے داروغوں کی جو تعداد ذکر کی گئی ہے وہ اس کے موافق ہے جوان کے پاس تعداد مذکور ہے، یہ حضرت ابن عباس، قتادہ، ضحاک، مجاہد اور دوسرے لوگوں کا قول ہے، پھر یہ احتمال ہے کہ اہل کتاب میں سے مومن مراد ہیں حضرت عبداللہ بن سلما، یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے سب مراد ہیں، ویزدادالذین آمنوا ایمانا۔ اور اس لیے تاکہ اس پر ایمان رکھنے والوں کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ جب بھی انہوں نے کتاب اللہ میں موجود چیزوں کی تصدیق کی وہ ایمان الئے پھر جب انہوں نے جہنم کے دارغوں کی تعداد کی تصدیق کی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ ولایرتاب الذین اوتوالکتاب والمومنون اہل کتاب اور رسول اللہ کے صحابہ اس بات میں شک نہیں کرتے کہ جہنم کے داروغوں کی تعداد انیس ہے، ولیقول الذین فی قلوبھم مرض یعنی اہل مدینہ کے منافقوں کے سینوں میں شک اور نفاق ہے جو ہجرت کے بعد آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والے تھے مکہ مکرمہ میں کوئی نفاق نہیں تھا، مدینہ طیبہ میں ظاہر ہوا تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی یہ ہے تاکہ وہ منافق کہیں جو آئندہ زمانہ میں ہجرت کے بعد ظاہر ہونے والے تھے۔ والکافرون سے مراد یہودونصاری ہیں، ماذا ارادہ اللہ بھذا مثلا، یعنی جہنم کے داروغوں کی تعداد سے اللہ تعالیٰ نے کیا ارادہ کیا ہے۔ حسین بن فضل نے کہا، سورت مکی ہے اور مکہ مکرمہ میں نفاق نہیں تھا، اس آیت میں مرض سے مراد اختلاف ہے اور کفار سے مراد عرب کے مشرک ہیں، اکثر مفسرین کی رائے پہلے قول کے موافق ہے۔ یہ بھی جائز ہے، مرض سے مراد شک اور ارتیاب ہے کیونکہ اہل مکہ میں سے اکثر شک کرنے والے تھے، بعض قطعی طور پر جھٹلاتے تھے اللہ تعالیٰ انہیں کے بارے میں خبردیتا ہے، ماذا اراد اللہ بھذا۔ وہ عدد جو بطور حکایت ذکر کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے یعنی یہ کیسی حکایت ہے۔ لیث نے کہا، مثل کا معنی حکایت ہے اس معنی میں مثل الجنۃ التی وعد المتقون (رعد 35) اس جنت کی کیفیت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے۔
کذالک یضل اللہ من یشاء ویھدی من یشاء۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے داروغوں کے بارے میں جس طرح ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو گمراہ کیا جس کو چاہتا ہے، رسوا کرتا ہے اور اندھا بنا دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے جس طرح حضرت محمد ﷺ نے صحابہ کو ہدایت عطا فرمائی ایک قول یہ کیا گیا ہے جسے چاہتا ہے جنت سے گمراہ کردیتا ہے اور جس کے بارے میں چاہتا ہے اسے راہنمائی کردیتا ہے۔
ومایعلم جنود ربک الاھو۔ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کو عذاب دینے کے لیے جنہیں پیدا کیا اسکے سوا کئی نہیں جانتا۔ یہ ابوجہل کے جواب میں کلام کی گئی جس نے یہ کہا تھا، جہاں تک محمد کے لشکروں کا تعلق ہے وہ انیس ہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم فرما رہے تھے تو حضرت جبرائیل امین حاضر ہوئے اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا، تیرا رب تجھے یہ حکم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خوف ہوا کہ یہ کہیں شیطان ہی نہ ہو فرمایا، اے جربائیل کیا تو اسے پہچانتا ہے ؟ حضرت جبرائیل نے عرض کی، یہ فرشتہ ہے۔ میں تیرے رب کے تمام فرشتوں کو نہیں پہچانتا۔ اوزاعی نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب، آسمان میں کون ہے ؟ فرمایا میرے فرشتے۔ عرض کی، اے میرے رب ان کی تعداد کتنی ہے ؟ فرمایا بارہ سبط۔ عرض کی ہر سبط کی کا تعداد ہے ؟ فرمایا مٹی کے برابر، ثعلبی نے یہ دونوں قول ذکر کیے ہیں۔ ترمذی شریف میں نبی کریم سے مروی ہے، آسمان آواز نکالنے لگا اس کو زیبا یہی ہے کہ وہ آواز نکالے اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی جگہ نہیں مگر ایک فرشتہ سجدہ کی حالت میں اپنی پیشانی رکھے ہوئے ہے۔
وماھی الاذکری للبشر۔ ذکری سے مراد دلائل، حجتیں، اور قرآن ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ماھی سے مراد وہ آگ ہے جو سقر ہے۔ یعنی وہ آگ مخلوقات کے لیے نصیحت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، دنیا کی آگ آخرت کی آگ کو یاد کرانے والی ہے۔ یہ زجاج نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تعداد نہیں مگر انسانوں کے لیے نصیحت ہے، یعنی وہ نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو جانیں وہ اعوان وانصار کا محتاج نہیں۔ اس صورت میں وماھی کی ضمیر جنود کی طرف لوٹے گی کیونکہ قریب وہی مذکور ہے۔