تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 3

  1. وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ﴿3﴾

    1. وَرَبَّكَاور اپنا رب
    2. فَكَبِّرْبڑائی بیان کرو
Translation · Al-Qurtubi
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
Tafseer · Al-Qurtubi
تکبیر کہنے کا حکم اور اس کے اسباب۔ مسئلہ نمبر 4۔ وربک فکبر۔ اپنے سردار، اپنے مالک اور اپنے معاملات کو درست کرنے والے کی عظمت بیان کر اور اس کی یہ صفت بیان کر کہ وہ اسے برتر ہے کہ اس کا کوئی بیٹا یا بیوی ہو، ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ نے پوچھا، نماز کو کیسے شروع کیا جائے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی، وربک فکبر۔ یعنی اس کی اس سے صفت بیان کرو کہ وہ سب سے بڑا ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا، یہ ارشاد اگرچہ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ نماز کی تکبیر کو بھی شامل ہے تاہم اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کی پاکی بیان کرنا ہے اس کے سواتمام شریکوں اور بتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا جائے اور اس کے سوا کسی کو اپنا دوست نہ بنا، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کیا کر، اس کی مژیت کے سوا کسی کے لیے فعل کے ثبوت کو نہ دیکھ اور اس کے سوا کسی کی طرف سے نعمت نہ جان۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ ابوسفیان نے غزوہ احد کے موقع پر کہا تھا، اعل ھبل تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، تم کہو، اللہ اعلی واجل (اللہ سب سے بلند اور عظیم ہے) عرف شرع میں یہ لفظ تمام عبادات (نماز، آذان اور ذکر) میں اللہ اکبر کے ساتھ ادا کیا جانے لگا۔ اس پر اسلفظ کو محمول کیا گیا جو نبی کریم کی زبان سے مختلف مواقع پر وارد ہوا جن میں سے ایک یہ ارشاد ہوا، تحریمھا التکبیر وتحلیھا التسلیم۔ نماز کا وہ عمل جو تمام دوسرے امور کو احرام کردیتا ہے وہ تکبیر ہے اور وہ عمل جو دوسرے امور کو حلال کردیتا ہے وہ سلام ہے۔ شرع اس کے عرف کا اس طرح تقاضا کرتی ہے جس طرح اس کی عمومیت کا تقاضا کرتی ہے وہ مواقع جہاں تکبیر کہی جاتی ہے اور ان میں جانور ذبح کرنے کے وقت تکبیر کہنا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ کوئی اس کا شریک نہیں، قربانی میں اس کے نام کا اعلان اور خون بہانے کا جو حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس امر کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنے کے لیے ہے۔ میں کہتا ہوں : سورة بقرہ کے آغاز میں گزرچکا ہے کہ اللہ اکبر کا لفظ ہی وہ لفظ ہے جس کا نماز میں حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم سے منقول ہے تفسیر میں ہے جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا، وربک فکبر۔ رسول اللہ کھڑے ہوئے کہا، اور کہا اللہ اکبر۔ حضرت خدیجہ نے بھی کہا، اللہ اکبر، حضرت خدیجہ کو بھی علم ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہے۔ کَبّر پر فاء کی لغوی حیثیت۔ مسئلہ نمبر 5۔ وربک فکبر۔ میں فاء جواب جزا کے معنی میں داخل ہوئی ہے جس طرح فانذر میں داخل ہوئی ہے تقدیر کلام یوں ہوگی قم فانذر وقم فکبر ربک۔ یہ زجاج کا نقطہ نظر ہے ابن جنی نے کہا، یہ تیرے قول زیدافاضرب کی طرح ہے یعنی زیدا اضرب۔ یہاں فاء زائدہ ہے۔