تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 4

  1. وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ﴿4﴾

    1. وَثِيَابَكَاور اپنے کپڑے
    2. فَطَهِّرْسو پاک کرو
Translation · Al-Qurtubi
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو
Tafseer · Al-Qurtubi
ثیاب کی طہارت سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ وثیابک فطھر۔ اس میں آٹھ قول ہیں۔ ثیاب سے مراد عمل ہے۔ دل۔ نفس۔ جسم۔ اہل، خلق، دین، ظاہری لباس۔ جو پہلے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کی تاویل یہ ہے اپنے عمل کو درست کرو، یہ مجاہد اور ابن زید کا قول ہے، منصور نے ابن رزین سے روایت نقل کی ہے، اپنے عمل کو درست کرو۔ کہا، جب ایک آدمی کا عمل خبیث ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں، ان فلانا خبیث الثیاب۔ جب وہ اچھے عمل والا ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں، ان فلانا طاھر الثیاب، سدی سے اسی طرح مروی ہے، اس معنی میں شاعر کا شعر ہے۔ لاھم ان عامر بن جھم اوذم حجا فی ثیاب دسم۔ اے اللہ تعالیٰ عامر بن جہم نے گناہوں سے لت پت ہوکرحج کیا۔ اس معنی میں وہ روایت بھی ہے جو نبی کریم سے مروی ہے، یحشرالمرء فی ثوبیہ الذین مات علیھما۔ یہاں ثوبیہ سے مراد اس کے اچھے اور برے اعمال ہیں ماوردمی نے یہ ذکر کیا ہے جو دوسرے قول کی طرف مائل ہوئے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے دل کو پاک کیجئے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن جبیر کا نقطہ نظر ہے اس کی دلیل امراء القیس کا شعر ہے : فسلی ثیابی من ثیابک تنسل۔ یعنی قلبی من قلبک، اس میں ثیاب دل کے معنی میں ہے، ماوردی نے کہا، اس آیت کی تعبیر میں اس کے دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے اپنے دل کو گناہ اور نافرمانی سے پاک رکھیں یہ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے، دوسراقول یہ ہے، اپنے دل کو دھوکہ سے پاک کر یعنی دھوکہ نہ کر ورنہ تو گدلے دل والاہوجائے گا، یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے غیلان بن سلمہ ثقفی کے قول سے استدلال کیا گیا ہے۔ فانی بحمداللہ لاثوب فاجر، لبست ولامن غدرۃ اتقنع۔ الحمدللہ میں نے فسق وفجور کالباس نہیں پہنا اور نہ ہی دھوکہ سے پردہ کیا ہے۔ جو تیسرے قول کی طرف گیا اس نے کہا، آیت کا معنی یہ ہے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیجئے۔ عرب نفس کو ثیاب سے تعبیر کرتے ہیں یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اس معنی میں عشرہ کا قول ہے۔ فشککت باالزمح الطویل ثیابہ، لیس الکریم علی القنا بمحرم۔ میں نے لمبے نیزے سے اسے پھاڑ دیا معزز نیزے پر حرام نہیں۔ امراء القیس نے کہا، فسلی ثیابی من ثیابک تنسل۔ اس مصرعہ میں بھی ثیابک کا لفظ ذات کے معنی میں ہے۔ شاعر نے کہا : ثیاب بنی عوف طھاری نقیہ، واجھھم بیض المسافر غران بنی عوف کے نفس صاف ستھرے ہیں اور ان کے چہرے روشن سفید ہیں۔ یہاں بھی ثیاب سے مراد نفوس ہیں۔ جو چوتھے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے جسم کو پاک رکھو، یعنی ظاہری نافرمانیوں سے پاک رکھو۔ عربوں سے اقول مروی ہے جن سے جس کو ثیاب سے تعبیر کیا ہے ان میں سے ایک لیلی کا قول ہے اس نے اونٹوں کا ذکر کیا۔ رموھا باثیاب خفاف فلاتری، لھا شبھا الا النعام المنفرائ۔ یعنی ان پر وہ سوار ہوئے اور اپنے ہلکے پھلکے جسموں کو ان پر پھینک دیاتوتیز رفتار اونٹوں کے سوا کوئی جسم نہ دیکھے گا۔ جو پانچویں قول کی طرف گئے ہیں اس نے کہا، آیت کا معنی یہ ہے وعظ وادب کے ذریعے اپنے اہل کو گناہوں سے پاک رکھو، عرب گھروالوں کے لیے ثوب (کپڑا) لباس اور ازار (تہبند) کا لفظ استعمال کرتے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھن لباس لکم وانتم لباس لھن۔ ماوردی نے کہا، ان کے ہاں آیت کی تاویل میں دو صورتیں ہیں، اس کا معنی ہے مومن اور پاک دامن عورتوں کا انتخاب کرکے اپنی بیویوں کو پاک رکھو۔ ان کی دبر سے لطف اندوز نہ ہو ان کی قبل سے لطف اندوز ہوں، ان کے گہر میں ان سے لطف اندوز ہو۔ حیض کے ایام میں ان سے لطف اندوز نہ ہو۔ ابن بحر نے اس کی حکایت بیان کی ہے جو چھٹے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے اخلاق کو حسین بناؤ، یہ حضرت حسن بصری اور قرظی کا قول ہے کیونکہ انسان کے اخلاق اس کے احوال کو اس طرح جامع ہوتے ہیں جس طرح کپڑے انسان کو احاطہ کیے ہوتے ہیں شاعر نے کہا : ویحیٰ لایلام بسوء خلق، ویحی طاھر الاثواب حر۔ یحییٰ پر برے اخلاق کی وجہ سے ملامت نہیں کی جاتی اور یحییٰ اچھے اخلاق والاآزاد ہے۔ جوساتویں قول کی طرف گئے ہیں اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے دین کو پاک کیجئے۔ صحیحین میں سرور دوعالم ﷺ سے روایت مروی ہے فرمایا، میں نے لوگوں کو دیکھا جب کہ ان پر کپڑے تھے ان میں سے کچھ پستان تک پہنچ رہے تھے اور کچھ اس سے نیچے تک پہنچ رہے تھے میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا جب کہ اس کے جسم پر چادر ہے جسے وہ گھسیٹ رہے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اس کی کیا تاویل کی ؟ فرمایا، دین۔ ابن وہب نے حضرت امام مالک سے روایت نقل کی ہے فرمایا مجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ میں قرآن حکیم کو نماز اور مساجد میں پڑھوں نہ کہ راستہ میں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وثیابک فطھر۔ امام مالک نے فرمایا، یہاں ثیاب سے مراد دین ہے حضرت عبداللہ بن نافع نے ابوبکر بن عبدالعزیزبن عبداللہ بن عمربن خطاب سے وہ حضرت امام مالک بن انس سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، وثیابک فطھر سے مراد ہے کہ دھوکہ نہ اپناؤ، اس معنی میں ابوکبشہ کا قول ہے۔ ثیابک بنی عوف طھاری نقیۃ، اوجھھم بیض المسافر غران۔ یہاں طھارۃ ثیابھم سے مراد ان کی کمینی عادات سے سلامت رہنا ہے اور غرۃ وجوھھم سے مراد محرمات سے ان کی پاکی ہیی یا شکل صورت میں ان کا جمال ہے یا دونون صورتوں میں ان کا جمال ہے یہ علامہ ابن عربی کا قول ہے، حضرت سفیان بن عیینہ نے کہا، تو اپنالباس جھوٹ، ظلم، دھوکہ اور گناہ پر نہ پہن، عکرمہ نے کہا، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : او ذم حجا فی ثیاب دسم، یعنی اس نے نافرمانیوں کے ساتھ اسے آلودہ کردیا۔ نابغہ نے کہا : رقاق النعال طیب حجزاتھم، یحبون باالریحان یوم السباسب۔ وہ بادشاہ ہیں پاک دامن ہیں شعانین کے دن انہیں ریحان کے ساتھ سلام کیا جاتا ہے۔ جوآٹھویں قول کی طرف گیا ہے تو اس نے کہا، یہاں ثیاب سے مراد ملبوسات ہیں ان کے نزدیک اس معنی کی چار وجوہ ہیں۔ (1) اس کا معنی ہے اپنے کپڑوں کو پاک رکھو، اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : ثیاب بنی عوف طھاری نقیۃ۔ (2) ۔ اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر رکھ کیونکہ کپڑوں کو سمیٹ کر رکھنا، نجاست سے دوری کا باعث ہوتا ہے۔ جب کپڑے زمین پر گھسیٹیں تو وہ نجاست لگنے سے محفوظ نہیں ہوتے زجاج اور طاؤس نے یہی بات کہی ہے۔ (3) ۔ اپنے کپڑوں کو پانی کے ساتھ پاک کرلو، یہ محمد بن سیرین، ابن زید اور فقہاء کا نقطہ نظر ہے۔ (4) حلال کمائی سے ہی کپڑے پہنوتا کہ وہ حرام سے پاکیزہ ہوں، حضرت ابن عباس سے مروی ہے جو تولباس پہنتا ہے وہ حرام کمائی کا نہ ہو، علامہ ابن عربی نے جو کچھ کہا اور بعض علماء نے جو کچھ کہا جس کا ہم نے ذکر کیا یہ ممتع نہیں کہ آیت کو عموم مراد پر محمول کیا جائے وہ حقیقت ہو یا مجاز ہو۔ جب ہم اسے پاکیزہ، معروف کپڑوں پر محمول کریں گے تو یہ دونوں معنوں کو شامل ہوگا۔ دامنوں کو سمیٹنا کیونکہ جب انہیں ڈھیلا چھوڑاجائے تو وہ آلودہ ہوجاتے ہیں، اس وجہ سے حضرت عمر بن خطاب نے انصار کے ایک نوجوان کو فرمایا جب انہوں نے اس کا دمن ڈھیلا دیکھاتواپنا تہبند اونچا کرلو۔ کیونکہ یہ زیادہ تقوی، زیادہ پاکیزگی اور زیادہ عرصہ باقی رہنے کا باعث ہے۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اسمیں خوئی حرج نہیں اگر وہ پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان اور جو ٹخنوں سے بھی نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔ نبی کریم تہبند کی انتہا لخنہ معین کی ہے اور جو اس سے بھی نیچے ہو اس پر دھمکی دی ہے ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے دامنوں کو نیچے چھوڑے رکھتے ہیں اپنے کپڑوں کو لمبا کرتے ہیں پھر اپنے ہاتھوں سے انہیں اوپر اٹھاتے ہیں یہ تکبر کی حالت ہے اور عجب (اپنے عمل پر خوشی کا اظہار کرنا) کا طریقہ ہے۔ اس معاملہ میں سب سے شدید معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں کپڑوں کو ناپاک کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے ساتھ جاملاتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے غیر کو نہیں ملایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو لاحق کیا ہے۔ نبی کریم کا فرمان ہے : جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ صحیح کے الفاظ یہ ہیں جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے تہبند کو گھسیٹا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا، حضرت ابوبکر نے عرض کی یارسول اللہ میرے تہبند کا ایک پہلوڈھیلارہتا ہے مگر اس میں اس صورت میں اگر میں اس کا خیال رکھوں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تو ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہ نے نہی کو عام رکھا اور حضرت ابوبکر کو مستثنی قرار دیا توکمینے لوگوں نے اپنے آپ کو بلند مرتبہ لوگوں کے ساتھ ملانے کا قصد کیا یہ ان کے لیے جائز نہیں۔ (2) نجاست لگی ہوتوکپڑوں کو دھونا۔ یہ اس کا ظاہر مفہوم ہے اور صحیح ہے مہدوی نے کہا، بعض علماء نے اس آیت کریمہ سے کپڑے کے پاک ہونے کے وجوب پر استدلال کیا ہے ابن سیرین اور ابن زید نے کہا، تو صرف پاک کپڑے میں نماز پڑھ امام شافعی نے اس آیت کریمہ سے کپڑے کے پاک ہونے کے وجوب پر استدلال کیا ہے امام مالک اور اہل مدینہ کے نزدیک فرض نہیں۔ بدن کی طہارت بھی اسی طرح ہے اس چیز پر یہ اجماع دلالت کرتا ہے جب کوئی آدمی قضائے حجات کرتے تو پتھروں کے ساتھ استنجا کی صورت میں نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اس نے پانی کے ساتھ استنجا نہ کیا ہو، سورة برات میں یہ بحث مکمل گزرچکی ہے۔