تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 33

  1. وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ﴿33﴾

    1. وَالَّيْلِاور رات
    2. اِذْ اَدْبَرَجب وہ پیٹھ پھیرے
Translation · Al-Qurtubi
اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے
Tafseer · Al-Qurtubi
والیل اذا ادبر۔ یعنی جب رات پھرے اس طرح دبر کا معنی بھی یہی ہے۔ نافع، حمزہ اور حفص نے اذادبر قرات کی جب کہ باقی قراء نے اذادبر قراءت کی یعنی اذا الف کے ساتھ اور دبرالف کے بغیر ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں کہا جاتا ہے، دَبَر، ادبر اسی طرح قبل اللیل واقبل، عربوں نے کہا، امس الدابر والمدبر۔ صخر بن عمرو بن شرید سلمی نے کہا، ولقد قتلناکم ثناء وموحدا، وترکت مرۃ مثل امس الدابر۔ تحقیق ہم نے تمہیں دو اور ایک ایک قتل کیا اور میں نے مرہ کو گزشتہ کل کی طرح چھوڑا۔ شعر میں دابر کی جگہ مدبر بھی روایت کیا گیا ہے۔ یہ فراء اور اخفش کا قول ہے بعض اہل لغت نے کہا، دبر للیل جب وہ گزرجائے اور ادبر یعنی وہ پلٹنے لگی مجاہد نے کہا، میں نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے فرمان واللیل اذا ادبر کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ وہ پلٹنے لگی، فرمایا، اے مجاہد یہ وہ وقت ہے جب رات پلٹتی ہے محمد بن سمیقع نے واللیل اذا ادبر دونوں الفوں کے ساتھ اسے پڑھا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابی بن کعب کے صحیفوں میں اسی طرح ہے۔ قطرب نے کہا، جس نے دبر پڑھا تو وہ اس کا معنی اقبل لے گا۔ یہ عربوں کے قول دبرفلان سے ماخوذ ہے۔ جب وہ تیرے پیچھے سے آئے، ابوعمرو نے کہا، یہ قریش کی لغت ہے، حضرت ابن عباس سے ایک روایت مروی ہے جس میں ہے، صحیح ادبر ہے کیونکہ وہ اونٹ کی پشت کو زخمی کرتی ہے۔ ابوعبید نے اذا ادبر کو پسند کیا ہے کیونکہ یہ مابعد حروف کے زیادہ موافق ہے کیا تو نے اسے یہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا، والصبح اذا اسفر۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک جگہ اذ ہو اور دوسری جگہ اذا ہو، قرآن حکیم میں کوئی ایسی قسم نہیں جس کے بعد اذ ہو قسم کے بعد اذا ہوتا ہے۔ اسفر کا معنی روشن ہونا ہے عام قرات اسفر الف کے ساتھ ہے ابن سمیقع نے سفر پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں یہ کہا جاتا ہے، سفر وجہ فلان واسفر، یہ اس وقت بولتے ہیں جب چہرہ روشن ہوجائے، حدیث طیبہ میں ہے اسفروابالفجر فجر کو خوب روشن کرو کیونکہ یہ عظیم اجر کا باعث ہوتا ہے، مراد یہ ہے صبح کی نماز خوب روشن کرکے پڑھو، ایک قول یہ کیا جاتا ہے، اسے صبح کے روشن ہونے تک لمبا کرو اسفار کا معنی روشن کرنا ہے، اسفر وجھہ، حسنا اس کا چہرہ حسن کی وجہ سے روشن ہوا، سفرت المراۃ یعنی عورت نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دیا، اس سے اسم فاعل سافر آتا ہے، یہ بھی جائز ہے کہ یہ سفرالظلام سے ماخوذ ہو، یعنی اس نے تاریکی کو دور کیا جس طرح بولتے ہیں سفرالبیت، یعنی گھر میں جھاڑو دیا جاتا ہے، اسی سی سفیر ہے سفیس اسے کہتے ہیں کو درخت کے پتوں میں سے گرے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے، اسے سفیر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہوا اسے اڑا لے جاتی ہے مسفرہ کا معنی جھاڑو ہے۔