تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 54

  1. كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ﴿54﴾

    1. كَلَّآہرگز نہیں
    2. اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌبیشک یہ نصیحت
Translation · Al-Qurtubi
کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
کلاانہ تذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔ واھل المغفرہ یہ سچی بات ہے کہ قرآن سراپانصیحت ہے پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت حاصل کرنے پر قادر ہوتے ہیں مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ اسے چاہے، عام قرات یذکرون ہے، ابوعبید نے اسے پسند کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلابل لایخافون الاخرۃ۔ اس میں بھی صیغہ غائب کا ہے، نافع اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ یہ عام ہے، سب اس یذکرون کی تخفیف پر متفق ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک سے روایت مروی ہے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کا حق رکھتا ہوں کہ مجھ سے ڈرایاجائے پس جو مجھ سے ڈرا اور اس نے میرے ساتھ کسی کو الہ نہ بنایا تو میں اس کا مستحق ہوں کہ میں اسے بخش دوں۔ الفاظ ترمذی کے ہیں امام ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا، حدیث حسن غریب، ایک تفسیر میں ہے جو آدمی اس کی بارگاہ میں بڑے بڑے گناہوں سے توبہ تائب ہوا میں اس کے بڑے گناہ بخشنے والا ہوں اور بڑے گناہوں سے اجتناب کے باعث چھوٹے گناہوں کو بخشنے والا ہوں۔ محمد بن نصر نے کہا، معنی ہے میں اس کا اہل ہوں کہ میرا بندہ مجھ سے ڈرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو میں اس کا اہل ہوں کہ میں اسے بخش دوں، میں اس پر رحم کروں میں غفورورحیم ہوں۔