تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 6
وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ﴿6﴾
- وَلَااور نہ
- تَمْنُنْاحسان رکھو
- تَسْتَكْثِرُزیادہ لینے (کی غرض سے)
Translation · Al-Qurtubi
اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو
Tafseer · Al-Qurtubi
ولاتمنن تستکثر
اس میں تین مسائل ہیں۔
استکثار کے وصف کے ساتھ احسان نہ کرنے کی صورتیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ ولاتمنن تستکثر۔ میں گیارہ تاویلیں ہیں۔
(1) جو آپ ﷺ نبوت کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ پر احسان نہ جتلائیے جس طرح وہ آدمی جو غیر کی وجہ سے کوئی چیز اٹھاتا ہے تو اسے کثیر خیال کرتا ہے۔
(2) غیر کو عطیہ نہ دو کہ اس کے عوض میں زیادہ کے طالب ہو یہ حضرت ابن عباس عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے، ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے رسول اللہ پر حرام کیا کیونکہ رسول اللہ کو آداب میں سب سے شرف والے اور اخلاق میں سب سے جلیل کا حکم دیا گیا ہے جب کہ آپ کی امت کے لیے مباح قرار دیا، یہ مجاہد کا نقطہ نظر ہے۔
(3) یہ بھی مجاہد سے مروی ہے زیادہ بھلائی کرنے سے کمزور نہ ہوجائیے جس طرح تیرا قول ہے، حبل منین یہ ترکیب اس وقت بولتے ہیں جب وہ رسی کمزور ہو اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات ہے۔ ولاتمنن تستکثر من الخیر۔
(4) مجاہد اور ربیع سے مروی ہے، اپنے عمل کو اپنی آنکھ میں عظیم نہ جانو کہ تومزیدبھلائی کرے کیونکہ وہ یہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام کیا ہے، ابن کیسان نے کہا، تو اپنے عمل کو زیادہ خیال نہ کر کہ تو اسے اپنی طرف سے دیکھے بیشک تیرا عمل تجھ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اپنی عبادت کی راہ بنادی ہے۔
(5) حضرت حسن بصری نے کہا، اپنے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر احسان نہ کرو کہ تو اسے زیادہ خیال کرے۔
(6) قرظی نے کہا، تو اپنا مال مصانعہ پر نہ دے (7) نبوت اور قرآن کے ساتھ لوگوں پر احسان نہ جتلاؤ کہ تو ان سے اجر لے جس کے ذریعے تو زیادہ کا خواہش مند ہو۔؎
(8) زید بن اسلم نے کہا، جب تو کسی کو عطیہ دے تو وہ اپنے رب کی رضا کے لیے دے۔ (9) تو یہ نہ کہہ، میں نے دعوت دی تو میری دعوت قبول نہ کی گئی۔
(10) ایسانہ ہونا چاہیے کہ تو طاعت کا عمل کرے اور ثواب کا طالب ہو بلکہ صبر کیجئے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر بدلہ دے۔
(11) تو بھلائی کا کام نہ کر کہ تو اس کے ذریعے لوگوں میں ریاکاری کرے۔
ان مختلف اقوال میں سے صحیح ترین قول اور اس کی وجہ۔
مسئلہ نمبر 2۔ اگر یہ اقوال مراد ہیں تو ان میں سے نمایاں ترین حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تو مال نہ دے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں سے زیادہ مال لے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، مننت فلانا کذا یعنی میں نے اسے عطا کیا، عطیہ کو منہ کہتے ہیں، گویا آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کے عطیات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونے چاہییں نہ کہ مخلوقات کی طرف سے بدلے کا انتظار ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہ دنیا جمع نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطا فرماتا ہے اس میں سے میرے لیے خمس کے سوا کچھ بھی نہیں اور خمس (پانچواں حصہ) بھی تم پرل وٹا دیا جاتا ہے، آپ کے عیال کے نفقہ سے جو مال بچ جاتا ہے اسے مسلمانوں کے مصالح پر صرف کردیا جاتا اسی وجہ سے کوئی آپ کے مال کا وارث نہ ہواکیون کہ آپ اپنے حق میں ذخیرہ اور مال جمع کرنے کا حق نہ رکھتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیاوی اشیاء کی رغبت سے محفوظ رکھا تھا اسی وجہ سے صدقہ آپ پر حرام تھا اور ہدیہ مباح تھا رسول اللہ ہدیہ کو قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ عطا فرماتے تھے اگر مجھے پائے کھانے کی دعوت دی گئی تو میں اسے قبول کروں گا اگر مجھے بازو تحفہ کے طور پر دیا گیا تو میں اسے قبول کروں گا۔
علامہ ابن عربی نے کہا : رسول اللہ ہدیہ کو سنت کے طریقہ پر قبول کرتے تھے اور شرعی حکم کے طور پر زیادہ کی خواہش نہیں رکھتے تھے جب وہ زیادہ کی خواہش میں عطیہ نہیں دیتے تھے تو اغنیاء اس سے اجتناب کرنے کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ یہ ذلت ورسوائی کے باب میں سے ہے اس طرح اس آدمی کا قول ہے جو یہ کہتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ عطیہ نہ دیں جس کے ثواب کے آپ منتظر ہوں کیونکہ انتظار طمع کے ساتھ متعلق ہے۔ یہ رسول اللہ کے حق میں ممتنع ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا، ولاتمدن عینک الی۔۔ تا۔۔ خیروابقی۔ (طہ) اور مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے کافروں کے چندگروہوں کو یہ محض زیب وزینت ہے دنیوی زندگی کی اور انہیں اس لیے دی ہے تاکہ ہم آزمائیں انہیں ان سے اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور ہمیشہ رہنے ولی ہے۔ یہ باقی مخلوق کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامان، روزی کی کمائی اور اس کے ذریعے باہم فخر کرنے میں سے ہے رہا وہ شخص جس نے اس کے عمل کا ارادہ کیا یعنی اپنے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر احسان نہ جتلاؤ کہ آپ زیادہ کی خواہش رکھیں تو وہ صحیح ہے کیونکہ انسان اگر زندگی بھر بغیر کسی کوتاہی کے عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر تھوڑے سے شکر کے درجے میں بھی نہیں پہنچے گا۔
تمنن کی قراءت اور معنی۔
مسئلہ نمبر 3۔ ولاتمنن، عام قرات دونوں نونوں کے اظہار کے ساتھ ہے، ابوسمال عدوی، اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے یہ قرات کی، ولاتمنن ان میں ادغام کیا اور اسے مفتوح پڑھا، تستکثر عام قرات تورفع کے ساتھ ہے یہ حال کے معنی میں ہے تو کہتا ہے : جاء زید یرکض یعنی زیددوڑتا ہوا آیا یعنی کسی کو کوئی چیز عطا نہ کیجئے یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ تو اس کے بدلے میں زیادہ چیز لے گا۔ حضرت حسن بصری نے نہی کے جواب میں مجزوم پڑھا ہے، یہ درست نہیں کیونکہ یہ جواب نہیں۔ یہ جائز ہے یہ تمنن سے بدل ہو گویا ارشاد فرمایا، لاتستکثر۔ ابوحاتم نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا کیونکہ احسان کثرت طلب کرنے کے ساتھ نہیں ہوتا کہ اس سے بدل بنایاجائے یہ احتمال موجود ہے کہ اس کو ساکن تخفیف کی وجہ سے پڑھاجائے جس طرح عضد پڑھتے ہیں یا وقف کی حالت میں اعتبار کیا جائے، اعمش اور یحییٰ نے تستکثر نصب کے ساتھ پڑھا ہے ان کے نزدیک لام کی کے معنی میں ہے گویا فرمایا، لاتمنن تستکثر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ان مضمر ہے۔ جیسے الا ایھذا الزاجی احضر الوغی۔ حضرت ابن مسعود کی قرات اس امر کی تائید کرتی ہے ولاتمنن تستکثر۔ کسائی نے کہا، جب ان کو حذف کیا گیا تو فعل مضارع کو رفع دیا گیا معنی ایک ہی ہے کبھی من سے مراد یہ ہوتا ہے جس پر نعمتیں کی گئیں ان پر نعمتوں کا شمار کرنا یہ بھی دوسرے قول کی طرف لوٹتا ہے اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے، لاتبطلواصدقاتکم بالمن والاذی۔ اپنے صدقات احسان جتلانے اور اذیت دینے کے ساتھ باطل نہ کرو۔