تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 1

  1. لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ﴿1﴾

    1. لَآ اُقْسِمُنہیں میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن کی
Translation · Al-Qurtubi
ہم کو روز قیامت کی قسم۔
Tafseer · Al-Qurtubi
لا اقسم بیوم القیامۃ۔۔ تا۔۔۔ یوم القیامۃ لا اقسم بیوم القیامۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ لاصلہ ہے زائد ہے اور سورت کے آغاز میں اس کا آغاز جائز ہے، کیونکہ قرآن حکیم کا بعض، بعض سے متصل ہے، یہ کلام واحد کے حکم میں ہے، اس وجہ سے کسی چیز کا ذکر ایک سورت میں ہوتا اور اس کا جواب دوسری سورت میں ہوتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ الحجر) انہوں نے کہا : اے وہ جس پر ذکر نازل کیا گیا ہے، بیشک تو تو مجنون ہے اس کا جواب ایک اور سورت میں ہے، ماانت بنعمۃ ربک بمجنون۔ القلم) آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں، کلام کا معنی ہے میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں، یہ حضرت ابن عباس، ابن جبیر، اور ابوعبیدہ نے کہا، اسی کی مثل شاعر کا قول ہے : تذکرت لیلی فاعترتنی صبابۃ، فکاد صمیم القلب لایتقطع۔ میں نے لیلی کو یاد کیا تو مجھے عشق لاحق ہوگیا تو قریب تھا کہ صمیم قلب ٹوٹ جاتا۔ ابولیث سمرقندی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ لا اقسم، کا معنی ہے میں قسم اٹھاتا ہوں انہوں نے لا کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے بعض نے کہا، لازینت کے لیے کلام میں زائدہ ہے کلام عرب میں لازائدہ استعمال ہوتا ہے جس طرح دوسری آیت میں ہے، قال مامنعک الاتسجد، اعراف 12) فرمایا کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا ؟ یہاں ان الاتسجد، ان تسجد کے معنی میں ہے بعض نے کہا، لا ان کے کلام کا رد کرنے کے لیے ہے کیونکہ انہوں نے موت کے دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کیا فرمایا، جس طرح تم نے گمان کیا ہے معاملہ اس طرح نہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ فراء کا قول ہے، فراء نے کہا، اکثر نحوی کہتے ہیں لاصلہ ہے، یہ جائز نہیں کہ انکار سے شروع کیا جائے، پھر اسے صلہ بنا دیا جائے گا کیونکہ اگر یہ اس طرح ہو تو کوئی ایسی خبر معروف نہیں جس میں کسی اور خبر کا توانکار ہو اس کا انکار نہ ہو لیکن قرآن حکیم اس اسلوب میں آیا ہے کہ جنہوں نے بعث، جنت اور آگ کا انکار کیا اور اس کا انکار کرتا ہے قسم ان کے رد کرنے کے ساتھ واقع ہوئی ہے بہت سے مقامات میں اس سے کلام کا آغاز ہو اور بہت سے مقامات میں اسے سے آغاز نہیں ہوا، یہ عربوں کے اس قول کی مانند ہے، لاو اللہ افعل، لا کے ساتھ ان کے سابقہ کلام کا ردک ہے یہ تیرے اس قول کی طرح ہے، لا واللہ ان القیامہ، حق گویا تو نے ایسی قوم کو جھٹلایا ہے جنہوں نے اس چیز کا انکار کیا تھا، فراء کے علاوہ دوسرے علماء نے امراء القیس کا یہ شعر پڑھا ہے۔ فلا وابیک ابنۃ العامری لایدعی القوم انی افر۔ اے بنت عامری، تیرے باپ کی قسم قوم اس بات کا دعوی نہیں کرسکتی کہ میں بھاگ جاؤں گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ رد کرنے میں اس قسم کی تاکید کا باعث بتنا ہے، جو اس توجیہ کو نہیں جانتا وہ یوں قرات کرتا ہے، لا اقسم گویا لام تاکید اقسم فعل پر داخل ہے یہ درست ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں، لاقسم بااللہ۔ میں اللہ کے نام کی قسم اٹھاتا ہوں یہ حضرت حسن بصری، ابن کثیر، زہری اور ابن ہرمز کی قرات ہے۔ بیوم القیامۃ۔ یعنی وہ دن جس میں لوگ اپنے رب کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس چیز کی چاہے قسم اٹھائے۔