تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 2

  1. وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ﴿2﴾

    1. وَلَآ اُقْسِمُاور نہیں میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِالنَّفْسِدل کی
    3. اللَّوَّامَةِاپنے اوپر ملامت کرنیوالے
Translation · Al-Qurtubi
اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)
Tafseer · Al-Qurtubi
ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ اس میں قراء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قسم اٹھائی ہے اس کی تعظیم بیان کرنے کے لیے اور نفس کی قسم نہیں اٹھائی، ابن کثیر کی قرات کے مطابق پہلے کی قسم اٹھائی اور دوسری قسم نہیں اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ولا اقسم بالنفس اللوامۃ۔ دوسرارد ہے اور نفس لوامہ سے قسم کی ابتداء ہے۔ ثعلبی نے کہا، صحیح یہ ہے کہ دونوں کے ساتھ اکٹھے قسم اٹھائی، نفس لوامہ سے مراد مومن کا نفس ہے، تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنی ذات کو ملامت کررہا ہوگا، وہ کہے گا میں نے اس سے کس چیز کا ارادہ کیا ؟ تو اسے نہیں دیکھے گا مگر وہ اپنے آپ کو عتاب کررہا ہوگا، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد، حضرت حسن بصری اور دوسرے مفسرین کا قول ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ کی قسم، یہ مومن کا نفس ہے مومن کو نہیں دیکھا جاتا مگر وہ اپنے نفس کو ملامت کررہا ہوتا ہے میں نے اپنی کلام سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے کھانے سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ میں نے ہم کلامی سے کسی چیز کا ارادہ کیا ہے ؟ جب کہ فاجر نفس کا محاسبہ نہیں کرتا۔ مجاہد نے کہا : وہ فوت ہونے والی چیز پر ملامت کرتا ہے اور شرمندہ ہوتا ہے اور برے کام پر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور اچھائی کے بارے میں کہتا ہے تو نے زیادہ عمل کیوں نہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا لوامہ یہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ملامت والا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے نفس کو انہیں چیزوں پر ملامت کرتا ہے جس پر دوسری نفوس کاملامت کرتا ہے ان صورتوں میں لوامہ، لائم کے معنی میں ہوگا، یہ صفت مدح ہے اسی طریقہ پر یہ قسم اچھی ہوجائے گی۔ بعض تفاسیر میں ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) ہمیشہ اس خطا پر اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں جنت سے نکالا گیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے لوامہ سے مراد ملامت کیا گیا، مذمت کیا گیا ہے حضرت ابن عباس سے ایک قول مروی ہے یہ صفت ذامہ ہے یہ اس کا قول ہے جو اس کے قسم ہونے کی نفی کرتا ہے کیونکہ نافرمان کی کوئی عظمت نہیں، جس کی وجہ سے اس کی قسم اٹھائی جائے وہ تو زیادہ ملامت کا مستحق ہوتا ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد کافر کی ذات ہے جو اپنے آپ کو ملامت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں اس سے جو کوتاہی ہوتی ہے آخرت میں اس پر حسرت کا اظہار کرتی ہے فراء نے کہا، کوئی نیک یابدنفس نہیں مگر وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ وہ برائی کرنے سے کیوں نہیں رکا۔