تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 14
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ﴿14﴾
- بَلِ الْاِنْسَانُبلکہ انسان
- عَلٰيپر
- نَفْسِهٖاپنی جان (حالت)
- بَصِيْرَةٌباخبر
Translation · Al-Qurtubi
بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
بل الانسان علی نفسہ بصیرہ، ولوالقی معاذیرہ۔
بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ اخفش نے کہا، انسان کو خود اپنی ذات پر نظر رکھنے والابنادیا جس طرح تو خود کسی کو کہتا ہے تو اپنی ذات پر دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بصیرہ کا معنی گواہ ہے اس سے مراد ہے کہ اس کے اعضاء اسپر گواہی دیں گے ہاتھ گواہی دیں گے جس کو اس نے ان ہاتھوں سے پکڑا ہوگا پاؤں گواہی دیں گے جن کے ساتھ وہ چل کر گیا تھا آنکھیں گواہی دیں گی جن کے ساتھ اس نے دیکھا ہوگا بصیرہ کا معنی گواہ ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ، بمقعدہ او منظر ھو ناظرہ، یحاذرحتی یحسب الناس کلھم، من الخوف لاتخفی علیھم سرائرہ۔ گویا دانش مند پر آنکھ گواہ ہے جہاں وہ بیٹھا اور جس منظر کو اس نے دیکھا وہ احتیاط کرتا ہے یہاں تک کہ خوف کی وجہ سے وہ تما لوگوں کے بارے میں گمان کرتا ہے کہ ان پر اس کے راز مخفی نہیں۔ اس معنی پر دلیل اللہ تعالیٰ یہ فرمان ہے، یوم یشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلم بماکانو یعلمون۔ النور) جس روز ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے قدم ان پر گواہی دیں گے جو وہ عمل کرتے رہے، بصیرہ کا لفظ مونث آیا ہے کیونکہ انسان سے یہاں اعضاء مراد ہیں کیونکہ اعضاء انسان پر گواہ ہیں گویا یہ فرمایا، اعضاء انسان کی ذات پر گواہ ہیں۔ یہی معنی قتبی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے کچھ علماء کہتے ہیں بصیرہ کے آخر میں جو ھاء ہے عرب اسے تانیث کہتے ہیں جس طرح ان کے اس قول میں ھاء مبالغہ کے اعمال لکھتے ہیں جو اچھا یا برا عمل اس سے واقع ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، ولوالقی معاذیرہ اس آدمی کے بارے میں جو معذرت کو پردہ بناتا ہے یہ سدی کا اور ضحاک کا قول ہے۔ ایک مفسر نے کہا، اس کا معنی ہے بلکہ انسان پر اس کی ذات میں سے ایک گواہ ہے توالانسان سے پہلے حرف جار کو حذف کردیا گیا ہے یہ بھی جائز ہے کہ بصیرہ کا لفظ اسم مونث کی صفت ہوتوتقدیر کلام یوں گی بل الانسان علی نفسہ عین بصیرہ۔ فراء نے یہ بھی شعر پڑھا ہے : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ۔
حضرت حسن بصری نے اللہ کے اس فرمان کا یہ معنی کیا ہے کہ وہ دوسروں کے عیوب دیکھتا ہے اور اپنے عیوب جاہل رہتا ہے، ولوالقی معاذیرہ۔ یعنی اگرچہ اپنے پردے لٹکائے۔ اہل یمن کی لغت میں معذار کا معنی پردہ ہے۔ ضحاک نے یہی کہا، شاعر نے کہا، ولکنھا ضننت بمنزل ساعۃ، علینا واطت فوقھا بالمعاذر۔ لیکن اس نے ہم گھڑی بھرقیام سے بخل کیا اور اپنے اوپر لٹکالیے۔ زجاج نے کہا، معاذر کا معنی پردے ہیں اس کی واحد معذار ہے اگرچہ وہ اپنا پردہ ڈال دے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کو چھپائے تو اس کا نفس اس پر گواہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے اگرچہ وہ معذرت کرے اور کہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا تو اس کے اعضاء اس پر گواہ ہوں گے وہ اگر معذرت کرے اور اپنے بارے میں جھگڑے تو اس پر ایسا گواہ ہوگا جو اس کے عذر کو جھٹلائے گا، یہ مجاہد، قتادہ، سعید بن جبیر، عبدالرحمن بن زید، ابوالعالیہ، عطاء فرائ، اور اسدی کا قول ہے، مقاتل نے کہا، اگر وہ دلیل یا عذر پیش کرے تو وہ اسے کچھ نفع نہ دے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یوم لاینفع الظالمین معذرتھم۔ غافر 52) اس روز ظالمین کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، ولایوذن لھم فیعتذرون۔ انہیں کوئی اجازت نہ دیا جائے گی کہ وہ مذرت پیش کریں اس صورت میں معاذیر، عذر سے ماخوذ ہوگا، شاعر کا قول ہے : وایاک والامر الذی ان توسعت، مواردہ ضاقت علیک المصادر۔ اس امر سے بچ جس پر وارد ہونے کے راستے تو وسیع ہون اور اس سے نکلنے کے راستے تنگ ہوں۔ فماحسن ان یعذر المرء نفسہ، ولیس لہ من سائر الناس عاذر۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان اپنے آپ کو معذور سمجھے اور لوگوں میں سے کوئی بھی اسے معذور نہ جانے۔ ایک آدمی نے حضرت ابراہیم نخعی کی خدمت میں معذرت پیش کی تو حضرت ابراہیم نخعی نے اسے فرمایا، میں نے تجھے معذرت پیش کرنے والے کے بغیر ہی معذور جانا، بیشک معزرتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، ولوالقی معاذیرہ کا معنی ہے اگر وہ وہ کپڑے اتار دے ماوردی نے یہی بیان کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : زیادہ نمایاں معنی دلیل پیش کرنا اور گناہ سے معذرت کرنا ہے، اس معنی میں نابغہ کا قول ہے : ھا ان ذی عذرۃ الاتکن نفعت، فان صاحبھا مشارک النکد۔ لویہ معذرت اگر نفع نہ دے تو معذرت کرنے والا محرومی میں شریک ہے۔ اس پر دلیل کفار کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ الانعام) اس اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہ تھے، اور منافقوں کے بارے میں فرمایا، یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کمایحلفون لکم۔ المجادلہ 18) جس روز اللہ تعالیٰ سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح وہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھاتے ہیں صحیح میں ہے وہ عرض کرے گا اے میرے رب میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا، میں نے نمازیں پڑھیں، میں نے روزے رکھے اور میں نے صدقہ کیا اور جس قدر ہوسکے گا وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے گا، حم سجدہ اور دوسری سورتوں میں گزرچکا ہے، معاذیر اور معاذر، معذرۃ کی جمع ہے اس کا باب اس طرح چلتا ہے عذرتہ، اعذرہ، عذرا اوعذرا۔ اس کا اہم معذرۃ اور عزری آتا ہے، شاعر نے کہا، انی حددت ولاعذری لمحدود۔ مجھے محدود کردیا گیا ہے جب کہ محدود کے لیے کوئی معذرت نہیں ہوتی، اسی طرح عذرۃ کا لفظ ہے یہ رکبۃ اور جلسہ کی طرح ہے۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں۔
آدمی کی گواہی اس کے اپنے خلاف قبول کی جائے گی۔
مسئلہ نمبر 1۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان، بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ ولوالقی معاذیرہ۔ میں اس امر پر دلیل ہے آدمی اپنی ذات کے خلاف قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی جانب سے اپنی ذات پر گواہی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم بماکانو یعلمون۔ النور) اس روز ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ عمل کرتے رہے تھے۔
ایک فقہی مسئلہ کی وضاحت۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایا، واذ اخذاللہ میثاق النبین لما۔۔۔ تا۔۔۔ الشھدین۔ آل عمران) یاد کرو اس وقت کو اجب اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ لیا جو میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی پھر تمہارے پاس ایسا رسول آئے جو اس چیز کی تصدیق کرتا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے فرمایا، کیا تم نے اقرار کرلیا اور اس پر پختہ عہد کرلیا، انہوں نے کہا، ہم نے اقرار کیا فرمایا، گواہ ہوجاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ گواہ ہیں۔ پھر فرمایا، واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخرسیئا۔ توبہ 102) دوسروں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے اچھے اور برے عمل کو ملادیا، احادیث میں اس کی بیشمار مثالیں ہیں نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اے انیس، اس کی بیوی کیطرف اگر وہ اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔ جہاں تک ایک آدمی کا دوسرے کے بارے میں وارث ہونے یا قرض کا اقرار کرنے کا تعلق ہے تو امام مالک نے کہا، ہمارے نزدیک جس امر پر اتفاق ہے کہ ایک آدمی فوت ہوجائے اس کے بیٹے ہوں تو ان بیٹوں میں سے ایک کہے کہ میرے باپ نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ فلاں اس کا بیٹا ہے تو نسب ایک آدمی کی گواہی سے ثابت نہیں ہوگا، اور جس نے اقرار کیا اس کا اقرار صرف اس کے حصہ میں جاری ہوگا جو حصہ اسے اس کے باپ کے مال میں ملے گا، جس کے حق میں اس نے اقرار کیا اسے ہر اقرار کرنے والے مال سے جتنا حصہ مل سکتا تھا وہ دے دے گا۔ امام مالک نے فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی فوت ہوجائے وہ دو بیٹے چھوڑ جاتا ہے اور چھ سو درینار چھوڑتا ہے پھر ان میں سے ایک گواہی دیتا ہے کہ اس کے فوت ہوجانے والے باپ نے اقرار کیا تھا کہ فلاں اس کا بیٹا ہے تو جس کے حق میں اس کا اقرار کرے تو دوسرا سودینار بھی وہ لے گا اس کا حق مکمل ہوجائے گا اور اس کا نسب ثابت ہوجائے گا۔ یہ مسئلہ بھی اسی طرح ہے کہ ایک عورت اپنے والد یا اپنے خاوند پر قرض کا اقرار کرتی ہے جبکہ دوسرے وارث اس کا انکار کرتے ہیں تو اس عورت پر اتنا مال لازم ہوجائے گا جتنا مال اسکے ذمہ لازم ہوتا اگر سب وارث اس قرض کا اقرار کریں اگر بیوی ہو تو وہ آٹھویں حصہ کی وارث ہوگی تو وہ قروض خواہ کو آٹھواں حصہ دے گی، اگر وہ بیٹی ہو تو وہ نصف کی وارث ہوگی، تو وہ قرض خواہ کو نصف قرض دے گی، اسی حساب سے اسے مال دیا جائے گا جن عورتوں نے بھی اس کے قرض کا اقرار کیا۔
اقرار کی مختلف صورتیں۔
مسئلہ نمبر 3۔ اقرار مکلف کا ہی ثابت ہوگا لیکن شرط یہ ہے وہ محجور نہ ہو اگر وہ محجور اپنے حق کا اقرار کرے تو اس کا قول حجر کی وجہ س ساقط ہوجائے گا اگر محجور غیر کے حق کا اقرار کرتا ہے جیسے مریض، ان میں سے کچھ اقرار ساقط ہوجاتے ہیں اور کچھ جائز ہوتے ہیں۔ مسائل فقہ میں اس کی وضاحت یہ ہے، اقرار میں بندے کی دو حالتیں ہیں۔ ایک یہ ابتدائی متقدمہ صورت میں کوئی اختلاف نہیں۔ دوسرے، انتہائی اس کی صورت یہ ہے کہ اقرار مبہم ہے اس کی بہت سی صورتیں ہیں بنیادی طور پر چھ صورتیں ہیں۔
(1) وہ کہے : میرے پاس اس کی امانت ہے۔ امام شافعی نے کہا، اگرچہ وہ ایک کھجور یا ایک ٹکڑے سے اس کی تفسیر بیان کر دے تو اسے قبول کیا جائے گا۔ ہمارے اصول جس چیز کا تقاضا کرتے ہیں کہ و اس کی وضاحت تسلیم نہ کی جائے مگر جس کی قدر ومنزل تہوجب وہ اس کی تفسیر بیان کرے تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اس سے قسم لی جائے گی۔
(2) وہ اقرار کی تفسیر شراب اور خنزیر کی صورت میں کرے یاس اس چیز کے ساتھ تفسیر بیان کرے جو شریعت میں مال ہی نہ ہو تو بالاتفاق اس کو قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ اس کی تائید کرے جس کے حق میں اقرار کیا گیا۔
(3) ایسی چیز کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرے جس میں اختلاف کیا گیا ہو جس طرح مراد کی جلد کھاد، کتا، حاکم اس بارے میں فیصلہ کردے گا جس کو مناسب سمجھے گا رد کرے یا نافذ کرے، اگر وہ حاکم اس کو رد کردے تو کوئی اور حاکم اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ پہلے حاکم کے پاس باطل کرنے سے حکم نافذ ہوچکا ہے۔ امام شافعی کے بعض اصحاب نے فرمایا، شراب اور خنزیر لازم ہوگا۔ یہ باطل قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا جب اس نے کہا مجھ پر کچھ لازم ہے تو اس کی تفسیر کیلی اور وزنی کے بغیر قبول نہ کی جائے گی کیونکہ انسان کے ذمہ میں یہی چیزیں لازم ہوتی ہیں یہ قول ضعیف ہے کیونکہ ذمہ میں ان کے علاوہ بھی چیزیں ثابت ہوجاتی ہیں جب وہ واجب کرے اس پر اجماع ہے۔
(4) جب اس نے کہا : میرے فلاں کی امانت ہے تو اسکی تفسیر اس چیز کے ساتھ بھی قبول کرلی جائے گی جو عادت میں مال نہ ہو جس طرح ایک یا دو درہم، جب تک کوئی ایسا قرینہ نہ پائے جس کی وجہ سے اس کے زیادہ پر حکم لگایاجائے۔
(5) وہ کہے : میرے پاس فلاں کا کثیر مال ہے یا عظیم مال ہے امام شافعی نے فرمایا، اس کی تفسیر حبہ کے ساتھ کرے تو اس کی بات مانی جائے گی امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا، زکوۃ کے نصاب سے کم میں اس کی تفسیر قبول نہ کی جائے گی۔ ہمارے علماء نے اس بارے میں دو مختلف قول کیے ہیں ان میں چوری کا نصاب، زکوۃ کا نصاب اور دیت کا نصاب۔ میرے نزدیک سب سے کم چوری کا نصاب ہے کیونکہ مسلمان کا عضو عظیم مال میں ہی جدا کیا جاسکتا ہے احناف میں سے کثیر کی رائے یہی ہے جو تعجب کرسکتا ہے تو وہ لیث بن سعد پر تعجب کا اظہار کرے وہ کہتے ہیں کہ بہتر درہم سے کم میں اس کی تفسیر قبول نہ کی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا یہ مقدار آپ نے کہاں سے اخذ کی ؟ تو انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیر ویوم حنین۔ توبہ 25) اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات اور غزوہ حنین کے موقع پر مدد فرمائی، رسول اللہ کے غزوات اور سرایا کی تعداد بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، اذکرواللہ ذکر کثیرا۔ الاحزاب) ارشاد فرمایا، لاخیر فی کثیر من نجواھم۔ نساء 114) ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں اور فرمایا، والعنھم لعنا کبیرا۔ الاحزاب) اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی لعنت کی۔
(6) جب اقرار کرنے والا کہے : میرے پاس دس، سو اور ہزار ہیں تو وہ جو چاہے تفسیر بیان کرے اس کا قول قبول کیا جائے گا، امام شافعی کا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا، اگر مبہم عدد پر کیلی یا وزنی چیز کا عطف کیا تو یہ اس کی تفسیر ہوگا جس طرح وہ کہے، مائۃ وخمسون درھما۔ ڈیڑھ سودرہم۔ کیونکہ درہم پچاس کی تفسیر ہے اور پچاس سو کی تفسیر ہے۔ ابن خیران اصطخری جو امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں نے کہا، درہم صرف پچاس کی تفسیر ہے اور سو کی جس چیز کے ساتھ چاہے تفسیر بیان کرے۔
زانی کے زنا کے اقرار کرنے کے بعد معذرت کرنا۔
مسئلہ نمبر 4۔ ولوالقی معاذیرہ۔ اس کا معنی ہے اگر اقرار کے بعد مذرت کرے تو اس کی معذرت قبول نہ کی جائے گی علماء نے اس آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس نے ایسی حد میں اقرار کے بعد رجوع کیا جو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اکثر نے کہا، جن میں امام شافعی اور امام ابوحنیفہ بھی ہیں اقرار کے بعد اس کا رجوع قبول کیا جائے گا امام مالک کے دو قولوں میں سے ایک قول یہی ہے امام مالک کا دوسرا قول ہے اس کا رجوع قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ رجوع کی صحیح وجہ بیان کرے۔ صحیح یہ ہے کہ رجوع مطلق جائز ہے کیونکہ ائمہ نے روایت کیا ہے جن میں امام بخاری اور امام مسلم بھی ہیں کہ نبی کریم نے چار دفعہ زنا کے اقرار کرنے والے کا رد کیا ہر دفعہ آپ اس سے اعراض کرلیتے تھے جب اس نے چار دفعہ اقرار کرلیاتو آپ نے اسے بلایا فرمایا تو مجنون ہے عرض کی، نہیں فرمایا کہ تو شادی شدہ ہے عرض کی جی ہاں۔ بخاری شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں، شاید تو نے بوسہ لیا ہو، اشارہ کیا یا نظربازی کی ہو ؟ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد میں ہے یہاں تک کہ رسول اللہ نے اسے پانچویں دفعہ فرمایا، کیا تو نے اس عورت سے جماع کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا یہاں تک کہ تیری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں غائب ہوگئی ؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔ جس طرح سرمچوسرمہ دانی میں اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے۔ اس نے عرض کی جی ہاں پھر پوچھاکیاتوجانتا ہے زنا کیا ہے ؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔ میں نے اس کے حرام فعل کا ارتکاب کیا جس طرح ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ حلال فعل کرتا ہے پوچھا تو مجھ سے کس چیز کا ارادہ رکھتا ہے ؟ اس نے عرض کی میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، تو رسول اللہ نے حکم دیاتو اس کو رجم کردیا گیا۔
امام ترمذی اور امام ابوداؤد نے یہ ذکر کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ دوڑ پڑا تو ایک آدمی نے اسے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ماری تو لوگوں نے اسے پتھر مارے تو وہ مرگیا۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے کہا، تاکہ رسول اللہ خوب چھان کرلیتے جہاں تک کہ حد کے ترک کرنے کا معاملہ ہے وہ مقصود نہ تھا، یہ سب رجوع کے طریقے اور اس کے رجوع کو قبول کرنے کی وضاحت ہے۔ رسول اللہ کے ارشاد میں، شایدتو نے بوسہ لیا ہوگا یا اشارہ کیا ہو۔ امام مالک کے قول کی طرف اشارہ ہے کہ وہ رجوع کو قبول کرلیتے جب وہ کوئی وجہ ذکر کرتا۔
غلام کے اقرار کی صورت حال۔
مسئلہ نمبر 5۔ یہ آزاد اور اپنی ذات کے مالک کا معاملہ ہے جہاں تک غلام کا تعلق ہے تو اس کا اقرار دو قسموں میں سے ایک قسم سے خالی نہیں ہوتا وہ اس چیز کا اقرار کرے جس کی سزا اس کی ذات پر واقع ہو یا ایسی چیز کا اقرار کرے جس کا اثر اس چیز پر واقع ہو جو اس کے ہاتھ میں ہے یا اس کے ذمہ میں ہے۔ اگر وہ ایسی چیز کا اقرار کرے جس کا اثر اس کی ذات پر پڑتا ہوں جس میں اس کا قتل لازم ہوتاہو یا اس سے کم سزا واقع ہوتی ہو تو اس پر نافذ ہوجائے گی امام محمد بن حسن نے کہا، یہ اقرار اس سے قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ اس کا بدن آقا کے حق میں مستغرق ہے اس کے اقرار میں ان کے حقوق کا اتلاف ہے جو آقا کے اس کے بدن میں واقع ہیں ہماری دلیل سروردوعالم کا ارشاد ہے جس نے ان گندی چیزوں میں کوئی چیز پائی تو وہ اس پر پردہ ڈالے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈالا ہے جس نے ہمارے لیے اس امر کو ظاہر کیا تو ہم اس پر حد قائم کردیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے عقوبت کا محل انسان کی ذات ہے وہ انسان کے زمہ ہے آقا کا اس میں خوئی حق نہیں آقا کا حق وصف اور تبع میں ہے وہ مالی حق ہے جو اس پر لازم ہوتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا اگر غلام کسی مال کا اقرار کرتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، یہاں تک کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا اگر غلام یہ اقرار کرے میں نے یہ مال چوری کیا ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مال وہ آدمی لے لے گا جس کے حق میں غلام نے اقرار کیا، ہمارے علماء نے فرمایا، سامان آقا کا ہوگا اور جب غلام آزاد ہوگا تو اس کی قیمت کا مطالبہ غلام سے کیا جائے گا، کیونکہ غلام کا مال آقا کا ہوتا ہے اس پر اجماع ہے اس میں غلام کا قول اور اقرار قبول نہ کیا جائے گا خصوصا حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں غلام کی کوئی ملکیت نہیں اس کا مالک بننا صحیح نہیں وہ مالک نہیں بنے گا ہم اگرچہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مالک بنا صحیح ہے لیکن اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ آقا کا ہوتا ہے دونوں قولوں کے اعتبار سے یہی اجماع ہے۔