تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 17
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ﴿17﴾
- اِنَّبیشک
- عَلَيْنَاہم پر (ہمارے ذمے)
- جَمْعَهٗاس کا جمع کرنا
- وَقُرْاٰنَه ٗاور اس کا پڑھنا
Translation · Al-Qurtubi
اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
ان علینا جمعہ وقرآنہ۔ فاذاقرانہ فاتبع قرانہ۔ یعنی آپ کے سینے میں جمع کرنا ہمارے ذمہ کرم پر ہے پھر آپ اسے پڑھیں جب ہم اسے پڑھیں تو اس کو سنیں اور خاموش رہیں اس کے بعد رسول الہ کا معمول یہ تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے تو آپ سنتے جب وہ چلے جاتے تو نبی کریم اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل امین نے پڑھا ہوتا۔ اسے امام بخاری نے بھی نقل کیا ہے اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ولاتعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ (طہ 114) وحی کے مکمل ہونے سے پہلے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔
عامر شعبی نے کہا : جب قرآن حکیم آپ پر نازل ہوتا تو قرآن کی محبت اور زبان میں اس کی مٹھاس پانے کی وجہ سے جلدی کرتے تو آپ کو اس سے منع کردیا گیا یہاں تک وحی جمع ہوجائے کیونکہ اس کا بعض بعض کے ساتھ مربوط ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے رسول اللہ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کے بھول جانے کے خوف سے آپ اپنی زبان کو حرکت دیتے تو یہ آیت نازل ہوئی، ولاتعجل باالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ۔ طہ 114) سنقرئک فلا تنسی۔ الاعلی) ہم تمہیں پڑھائیں گے تو آپ نہ بھولیں گے اور یہ آیت نازل ہوئی، لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ، آپ اس کو پڑھنے کے لیے زبان کو حرکت نہ دیجئے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، قرانہ کا معنی ہے اس کا تجھ پر پڑھنا۔ فراء کے قول میں قرات اور قرآن دونوں مصدر ہیں قتادہ نے کہا، فاتبع قرانہ، یعنی اس کے شرائع اور احکام کی پیروی کریں۔