تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 26
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ﴿26﴾
- كَلَّآہاں ہاں
- اِذَا بَلَغَتِجب پہنچ جائے
- التَّرَاقِيَہنسلی تک
Translation · Al-Qurtubi
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
Tafseer · Al-Qurtubi
کلا اذا بلغت التراقی۔۔ تا۔۔۔ المساق
کلا اذا بلغت التراقی۔ کلاجھڑکنے کے لیے ہے۔ یعنی یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے کہ کافر روز قیامت پر ایمان لائے پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا اور فرمایا، جب نفس یا روح ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے جس نفس کا ذکر جاری نہیں تھا اس کی خبر دی کیونکہ مخاطب کو اس کا علم تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ حتی توارت بالحجاب۔ ص) یہاں تک کہ وہ حجاب میں چھپ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلولا اذا بلغت الحلقوم۔ الواقعہ) پس تم کیوں نہیں لوٹا دیتے جب روح حلق تک پہنچ جاتی ہے ؟ یہ پہلے بھی گزرچکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا کا معنی حقا ہے معنی یہ بات ثابت کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جانا ہے، یعنی نفس جب ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے جب کافر کا نفس ہنسلی کی ہڈی تک جاپہنچے۔ تراقی، ترقوہ کی جمع ہے ان ہڈیوں کو کہت ہیں جو اونٹ ذبح کرنے کی جگہ جمع ہوتی ہیں یہ سینہ سے اوپر اور حلق کے ابتدائی حصہ میں ہوتی ہیں، یہی گھنگرو کی جگہ ہے، درید بن صمہ نے کہا : ورب عظیمۃ دافعت عنھم، وقد بلغت نفوسھم التراقی۔ کتنی ہی عظیم مصیبتیں ہیں جن کو تو نے ان سے دور کیا جب کہ ان کے نفوس ہنسلی کی ہڈی کو پہنچے ہوئے تھے۔ جو آدمی موت کے وقت کو پہنچ چکا ہو اس کے لیے کنایہ کے طور پر نفس کے ہنسلی کی ہڈی تک پہنچنے سے تعبیر کرتے ہیں مقصود یہ ہے کہ انہیں موت کے آنے کے وقت سختی کو یاد کرایاجائے۔