تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 5

  1. بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ﴿5﴾

    1. بَلْبلکہ
    2. يُرِيْدُچاہتا ہے
    3. الْاِنْسَانُانسان
    4. لِيَفْجُرَکہ گناہ کرتا رہے
    5. اَمَامَهٗاپنے آگے کو بھی
Translation · Al-Qurtubi
مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے
Tafseer · Al-Qurtubi
بل یرید الانسان لیفجرامامہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، یہاں انسان سے مراد کافر ہے جو آنے والے معاملات یعنی دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کا انکار کرتا ہے یہی عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کی دلیل، یسئل ایان یوم القیامہ، ہے یعنی وہ سوال کرتا ہے وہ کب واقع ہوگی، وہ یہ بات انکار اور جھٹلانے کے انداز میں کرتا ہے وہ جھٹلانے پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوتا ہے، قتیبی اور دوسرے علماء نے جو ذکر کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ فجور جھٹلانا ہے ایک بدو نے حضرت عمر بن خطاب کا قصد کیا اس نے آپ کی خدمت میں اونٹ کے نقب (پہلو زخم) اور دبر (جانور کا زخم) کی شکایت کی اور یہ سوال کیا کہ انہیں ایک اونٹ دے دیاجائے، تو حضرت عمر نے اسے اونٹ نہ دیا تو اس بدو نے کہا، اقسم باللہ ابوحفص عمر، مامسھا من نقب ولادبر۔ فاغفر اللہ اللھم ان کان فجر۔ ابوحفص عمر نے قسم اٹھادی کہ اونٹ کو کوئی زخم نہیں، اے اللہ اسے بخش دے اگر اس نے جھٹلایا ہے یعنی جو میں نے کہا ہے اس کی اس نے تکذیب کی ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : اس کا معنی ہے وہ نافرمانی کرنے میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے ایک حدیث میں انہوں نے یہ کہا وہ کہتا ہے میں عنقریب توبہ کرلوں گا اور وہ توبہ نہیں کرتا پس اس نے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولا، یہ مجاہد، حسن بصری، عکرمہ، سدی، سعید بن جبیر کا قول ہے وہ کہتا ہے، میں عنقری توبہ کرلوں گا میں عنقریب توبہ کرلوں گا یہاں تک کہ انتہائی بری حالت پر اسے موت آجاتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ہمیشہ برائی کا ہی عزم کیے رکھتا ہے اگرچہ وہ تھوڑی مدت تک زندہ رہتا ہے ان تمام اقوال کی صورت میں امامہ کی ضمیر کا مرجع انسان ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ضمیر قیامت کے لیے معنی یہ ہے بلکہ انسان ارادہ رکھتا ہے کہ وہ قیامت سے پہلے حق کا انکار کرے فجور کا اصل معنی حق سے اعراض کرنا ہے، یسئل ایان یوم القیامہ، وہ سوال کرتا ہے قیامت کب برپا ہوگی۔