تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 4

  1. بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ﴿4﴾

    1. بَلٰىکیوں نہیں
    2. قٰدِرِيْنَہم قادر ہیں
    3. عَلٰٓيپر
    4. اَنْکہ
    5. نُّسَوِّيَہم درست کریں
    6. بَنَانَهٗاس کے پورے پورے
Translation · Al-Qurtubi
ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔
Tafseer · Al-Qurtubi
بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ حضرت حسن بصری نے بلی پر وقف کیا پھر اگلے کلمہ سے ابتدا کی۔ سیبویہ نے کہا، اس کا معنی ہے ہم انہیں جمع کریں گے اس حال میں کہ قادر ہوں گے قادرین یہ فعل میں جو ضمیر مضمر ہے اور فاعل ہے اس سے حال ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی یہ ہے کیوں نہیں ہم قادر ہیں فراء نے کہا، قادرین کو نصب نقد اور نقوی فعل دے رہا ہے جو نجمع فعل سے سمجھا جارہا ہے یہ بھی کہا، تکریر کی وجہ سے نصب دینا بھی مناسب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بلی فلیحسبنا قادرین، ایک قول یہ کیا گیا ہے مضمر فعل کنا ہے معنی یہ ہوگا کہ ہم ابتدا میں ہی قادر تھے مشرکوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ ابن ابی عبلہ اور ابن سمیقع نے قادرون پڑھا ہے اس وقت تقدیر کلام یہ ہوگی، نحن قادرون، عربوں کے ہاں بنان سے مراد انگلیاں ہیں اس کا احد بنانہ ہے، نابغہ نے کہا، بمخضب رخص کان بنانہ، عنم یکاد من اللطافۃ یعقد۔ اس شعر میں شاعر نے بنان سے مراد انگلیاں لی ہیں۔ عشرہ نے کہا، وان الموت طوع یدی اذا ما، وصلت بنانھا بالھندوانی۔ اس شعر میں بنان سے مراد انگلیاں ہیں۔ انگلیاں ذکر کرکے باقی اعضا پر متنبہ کیا ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ چھوٹی ہڈیاں ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کا خصوصی طور پر ذکر کیا قتبی اور زجاج نے کہا، انہوں نے گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا اور ہڈیاں جمع کرنے پر قادر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ ہم انگلیوں کی ہڈیوں کو دوبارہ درست کردیں جب کہ وہ بہت ہی چھوٹی ہیں اور انہیں مرکب کردیں یہاں تک کہ وہ درست ہوجائیں جو ذات اس پر قادر ہے وہ بڑی ہڈیوں کو جمع کرنے پر زیادہ قادر ہے۔ حضرت ابن عباس اور تمام مفسرین نے یہ کہا ہے، اس کا معنی ہے کہ ہم اس کے ہاتھ اورس کے پاؤں کی ہڈیوں میں ایک چیز بنادیں جس طرح اونٹ کا پاؤں ہوتا ہے یاگدھے کا کھریاخنزیر کا کھر تو اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی کام کرسکے، لیکن ہم نے اس کی انگلیوں کو الگ الگ کردیاتا کہ اس کے ساتھ جو چیز چاہے پکڑ لے۔ حضرت بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے انگلیاں بنائیں تو ان کو کھولتا ہے اور انہیں بند کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو ان سب کو جمع کردیتا ہے تو صرف اپنی ہتھیلی کے ساتھ زمین سے بچتا، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم انسان کو چوپاؤں کی صورت میں لوٹائیں تو جس صورت پر وہ ہے ہم کیسے اسے نہیں لوٹاسکتے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، وما نحن بمسبوقین۔ الواقعہ) اور ہم مغلوب نہیں، علی ان نبدل امثالکم وننشئکم فی مالاتعلمون۔ الواقعہ) ہم عاجز نہیں، کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ پیدا کردیں اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے میں کہتا ہوں، سیاق کے حوالے سے پہلی تاویل زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم۔