تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 16

  1. اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿16﴾

    1. اَلَمْکیا نہیں
    2. نُهْلِكِہم نے ہلاک کیا
    3. الْاَوَّلِيْنَپہلے لوگوں کو
Translation · Al-Qurtubi
کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا
Tafseer · Al-Qurtubi
الم نھلک الاولین۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک گزشتہ امتوں میں سے جن کفار کو ہلاک کیا گیا اس کی خبر دی جارہی ہے پھ رہم بعد والوں کو پہلوں کے ساتھ ملادیں گے جس طرح ہم نے پہلے لوگوں کے ساتھ کیا ہم قریش کے مشرکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے یاتوتلوار کا وار کرکے یا ہلاک کرکے۔ عام قراء نے ثم نتبعھم رفع کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے اعرج نے نتبعھم جزم کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نھلک الاولین۔ پر معطوف ہے جس طرح تو کہتا ہے الم تزرنی اکرم۔ مراد اس سے یہ ہے کہ رسولوں کے اوقات کے مختلف ہونے کے ساتھ اس نے مختلف قوموں کو یکے بعد دیگرے، ہلاک کیا پھر اس کلام سے نیا کلام شروع کیا۔ کذالک نفعل بالمجرمین۔ اس سے یہ ارادہ کیا کہ اس کے بعد جنہیں ہلاک کرے گا، یہ بھی جائز ہے، نتبعھم میں پے درپے حرکات کی وجہ سے تخفیف کرتے ہوئے ساکن پڑھا ہو، تخفیف کے لیے اسکان بھی مروی ہے، حضرت ابن مسعود کی قرات میں ثم سنتبھم ہے۔ کذالک میں کاف محل نصب میں ہے، یعنی اس ہلاکت کی طرح ہم ہر مشرک کے ساتھ کریں گے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے دنیا میں ان کی ہلاکت کی ہولناکی بیان کی جارہی ہے۔ تاکہ عبرت دلائی جائے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آخرت میں ان کے عذاب کی خبر دی جارہی ہے۔