تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 15

  1. وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿15﴾

    1. وَيْلٌخرابی ہے
    2. يَّوْمَئِذٍاس دن
    3. لِّلْمُكَذِّبِيْنَجھٹلانے والوں کیلئے
Translation · Al-Qurtubi
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
ویل یومئذ للمکذبین۔ جو اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں، اس کی کتابوں اور یوم قیامت کو جھٹلائے اس کے لیے عذاب ہے اور رسوائی ہے یہ وعید ہے اس سورت میں ہر آیت میں جھٹلانے والوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کے حساب سے ان کے درمیان عذاب کو تقسیم کردیا، کیونکہ ایک شی کو جھٹلانے والے کے ایک عذاب ہے جو دوسری چیز کے جھٹلانے والے کے عذاب سے مختلف ہے کیونکہ بعض چیزوں کی تکذیب جرم میں دوسری شے کی تکذیب سے بڑھ کر ہوتی ہیں کیونکہ وہ تکذیب میں بہت ہی قبیح اور اللہ تعالیٰ کا رد کرنے میں بڑھ جاتی ہیں تو ہلاکت اسی حساب سے ان پر تقسیم کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جزاء وفاقا۔ النباء) موافق جزا۔ حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہا : ویل جہنم میں ایک وادی ہے اس میں کئی قسم کے عذاب ہیں یہی بات حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہی ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، جب جہنم ٹھنڈی ہوجائے گی تو اس کا ایک انگارہ لیاجائے گا اسے اس جہنم پر پھینکا جائے گا تو اس کا بعض بعض کو کھاجائے گا، نبی کریم سے مروی ہے فرمایا، مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو میں نے ویل سے بڑھ کر کوئی وادی نہیں پائی، ایک روایت یہ کی گئی ہے یہ جہنمیوں کی پیپ کے جمع ہونے کی جگہ ہے، دنیا میں بندے جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بری جگہ وہ ہوتی ہیں جہاں مرداروں اور حماموں کے پانیوں میں سے گندگیاں جمع ہوتی ہیں۔ یہ ذکر کیا گیا ہے وہ وادی ایسی ہے جہاں کفار اور مشرکوں کی پیپ جمع ہوجاتی ہے تاکہ دانش مند جان لیں اس سے بڑھ کر کوئی چیز گندی نہیں، اس سے زیادہ کوئی چیز بدبودار نہیں، اس سے بڑھ کر کوئی چیز کر ؤی نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز سیاہ نہیں۔ پھر رسول اللہ نے اس کی صفت اس عذاب سے بیان کی جس کو یہ وادی متضمن ہے کہ وہاں جہنم میں سب سے بڑی وادی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اس وعید کا ذکر کیا ہے۔