تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 22
اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿22﴾
- اِلٰىتک
- قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍوقت معین
Translation · Al-Qurtubi
ایک معین وقت تک
Tafseer · Al-Qurtubi
الی قدر معلوم۔ اتنے عرصہ تک جس میں ہم اس کی تصویر بنادیں لیکن قول یہ کیا گیا ہے، ولادت کے عرصہ تک۔ فقدرنا نافع اور کسائی نے اسے فقدرنا مشدد پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کسائی، فراء اور قتیبی نے یہی کہا ہے قتبی نے کہا، قدرنا بھی قدرناہ کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے، قدرت کذا، قدرتہ، اس معنی میں چاند کے متعلق جو نبی کریم کا ارشاد ہے، اذا غم علیکم فاقدوالہ۔ یعنی اس کی رفتار اور منازل کی اندازہ لگاؤ، محمد بن جہیم نے فراء سے روایت نقل کی ہے، فقدرنا، حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد اور مخفف دونوں طرح روایت کیا ہے۔ کہا، یہ بعید نہیں مشدد اور مخفف ہونے کی صورت میں معنی ایک ہو کیونکہ عرب کہتے ہیں، قدر علیہ الموت، قدر علیہ الموت۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، نحن قدرنا بینکم الموت (الواقعہ 60) ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا، اس میں بھی قدرنا کو مشدد اور مخفف دونوں پڑھا گیا ہے۔ اس طرح قدر علیہ رزقہ وقدر۔ دونوں طرح ہے جنہوں نے اس کو مخفف پڑھا ہے، انہوں نے استدلال کیا ہے اور کہا، اگر یہ مشدد ہوتا تو بعد میں فنعم القادرون ہوتا۔ فراء نے کہا : عرب دو لغتوں کو جمع کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فمھل الکافرین امھلھم رویدا۔ الطارق) کافروں کو مہت دیجئے انہیں کچھ مہلت دیجئے۔ اعشی نے کہا، وانکرتنی وماکان الذی نکرت، من الحوادث الالشیب والصلعا۔ انہوں نے مجھے عجیب جانا اور حوادثات میں سے صرف بڑھاپا اور گنجا پن عجیب جانا جاتا۔ عکرمہ سے مروی ہے فقدرنا معنی یہ قدرت سے مخفف ہے، یہ ابوعبید، ابوحاتم، اور کسائی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔
فنعم القادرون۔ جس نے فعل کو مشدد پڑھا ہے وہ قادرون کو تقدیر سے مشتق مانتا ہے یعنی ہم نے شقی اور سعید کو مقدم کیا ہم کتنے اچھے مقدر کرنے والے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے نبی کریم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے اسے لمبا اور چھوٹا مقدر کیا۔ حضرت ابن عباس سے بھی اسی کی مثل مروی ہے، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے ہم اس کے مالک ہیں مہدوی نے کہا، یہ تفسیر تخفیف کی قرات کے زیادہ مشابہ ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ صحیح ہے کیونکہ عکرمہ نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یا اس کا معنی ہے ہم اس کے مالک ہوتے تو ہم کتنے اچھے مالک ہوتے۔ دونوں کلمات نے مختلف معانی دیے یعنی ہم نے ولادت اور نطفہ کے احوال کو مقدر کیا جب وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ مکمل انسان بن جاتا ہے، یابدبخت اور سعادت مند بن جاتا ہے یالمبا اور چھوٹا ہوجاتا ہے، یہ سب تشدید کے طریقہ پر ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، دونوں کا معنی ایک ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا۔