تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 8

  1. فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ﴿8﴾

    1. فَاِذَاپس جب
    2. النُّجُوْمُستارے
    3. طُمِسَتْمٹائے جائیں (بےنور ہوجائیں)
Translation · Al-Qurtubi
جب تاروں کی چمک جاتی رہے
Tafseer · Al-Qurtubi
فاذا النجوم طمست۔ واذالسماء فرجت، واذالجبال نسفت۔ جب ستاروں کی روشنی اور ان کا نور ختم ہوجائے گا جس طرح لکھی ہوئی چیز کو مٹا دیا جائے گا کہا جاتا ہے، طمس الشئی جب وہ اس چیز کو مٹا دے اس سے طمس آتا ہے اس سے اسم مفعول مطموس ہے۔ جب آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور انہیں پھاڑ دیا جائے گا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وفتحت السماء فکانت ابوابا۔ النبائ) اور آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے دروازے ہوجائیں گے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے انہیں لپیٹنے کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑوں کو جلدی سے لے جایاجائے گا کہا جاتا ہے، نسفت الشئی انسفتہ، جب تو نے سب کو تیزی سے لے لیا، حضرت ابن عباس اور کلبی کہا کرتے تھے، سویت بالارض، پہاڑوں کو زمین کے ساتھ برابر کردیا جائے گا عرب کہتے ہیں، فرس نسوف یہ لفظ اس وقت کہتے ہیں جب گھوڑا اپنے تنگ کو پیچھے ہٹائے۔ مبشر نے کہا، نسوف للحزام بمرفقیھا وہ اپنی دونوں کہنیوں کے ساتھ تنگ کو پیچھے ہٹاتا ہے عرب کہتے ہیں نسفت الناقۃ الکلا۔ اونٹنی نے گھاس کو چرا۔ مبرد نے کہا : معنی ہے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ لیاجائے گا، جو آدمی اپنے دونوں پاؤں کو زمین سے اٹھالیتا ہے اسے دوسرا آدمی کہتا ہے، انسفت رجلاہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، نسفت کا معنی اجزاء کو بکھیرنا ہے یہاں تک کہ ہوائیں انہیں اڑادیں اسی سے ایک جملہ بولا جاتا ہے، نسف الطعام وہ کھانے کو حرکت دیتا ہے تاکہ ہوا اس میں موجود تنکے کو ختم کردے۔