Ruh-ul-Quran - An-Nisaa : 155
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا
مَا : نہیں لَهُمْ بِهٖ : ان کو اس کا مِنْ عِلْمٍ : کوئی علم وَّلَا : اور نہ لِاٰبَآئِهِمْ : ان کے باپ دادا كَبُرَتْ : بڑی ہے كَلِمَةً : بات تَخْرُجُ : نکلتی ہے مِنْ : سے اَفْوَاهِهِمْ : ان کے منہ (جمع) اِنْ : نہیں يَّقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں اِلَّا : مگر كَذِبًا : جھوٹ
پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو
فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ اَنِ اعْبُدُ واللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلا تَتَّقُوْنَ ۔ (المومنون : 32) پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو۔ ) قومِ نوح کے بعد دیگر قوموں کی طرف رسولوں کی بعثت قومِ نوح کی تباہی کے بعداللہ بہتر جانتا ہے زمین کی آبادی میں کتنا عرصہ لگا۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) آپ کی اولاد اور آپ پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے نئی دنیا آباد ہوئی۔ ان میں سے ہر مرنے والا شخص اپنے پسماندگان کو یقینا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم جس نے انسانوں کو ازسر نو زندگی بخشی اور وہ طوفان جو اللہ کے نبی کی تکذیب اور اس کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہ لانے کے نتیجے میں تباہی کا سبب بنا، کے بارے میں سب کچھ بتا کرجاتا تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمین کی اس نئی آبادی میں کئی نسلوں تک شیطان کو گمراہی پھیلانے کا موقع نہیں ملا ہوگا۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ انسانوں نے حقیقت سے دور ہٹنا اور شیطان کے پھیلائے ہوئے گمراہی کے جال میں پھنسنا شروع کیا۔ آخر ایک وقت آیا جب حق مغلوب ہونے لگا اور باطل کا چلن دھرتی میں عام ہوگیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں ان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد جس قوم میں اللہ کے رسول آئے وہ قوم عاد تھی اور ان کی تباہی کے بعد پھر قوم ثمود کی طرف رسول مبعوث ہوئے۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف جو رسول آئے وہ یقینا انھیں قوموں سے اپنا جنسی اور نسبی تعلق رکھتے تھے، یعنی نہ وہ جن تھے اور نہ فرشتے بلکہ ان انسانوں میں سے ایسے انسان تھے جنھیں اللہ نے اس دور کی گمراہیوں سے محفوظ رکھا تھا اور وقت آنے پر اللہ نے انھیں پیامبری کے لیے اٹھایا اور لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری ان کے سپرد کی۔ دعوت میں وحدت اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی قوموں کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے پیش کرچکے تھے، یعنی ایک اللہ کی عبادت۔ جس میں کسی اور کے شرکت کا کوئی تصور ممکن نہیں۔ اندازہ کیجیے کہ جو دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) لے کر مبعوث ہوئے وہی دعوت بعد کی قوموں میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام پر نازل کی گئی جبکہ ان رسولوں کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے زمانوں میں طویل فاصلہ ہے۔ وہ ایک دوسرے کی دعوت سے زمینی وسائل کی حد تک بالکل بیخبر ہیں۔ لیکن اس کے باوجودان کی دعوت میں جو انتہا درجے کی وحدت اور یک رنگی پائی جاتی ہے۔ وہ یقینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سب کا سرچشمہ ہدایت ایک ہے اور اسی سرچشمہ ہدایت کا وہ فیضان ہے جو آج نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات سے قریش تک پہنچ رہا ہے۔
Top