Ruh-ul-Quran - At-Tawba : 45
ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ
ثُمَّ : پھر اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجا مُوْسٰى : موسیٰ وَاَخَاهُ : اور ان کا بھائی هٰرُوْنَ : ہارون بِاٰيٰتِنَا : ساتھ (ہماری) اپنی نشانیاں وَ سُلْطٰنٍ : اور دلائل مُّبِيْنٍ : کھلے
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر
ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ 5 لا بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا ئِہٖ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا عِالِیْنَ ۔ (المومنون : 46) پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے۔ ) دورسولوں اور ان کی امتوں کی تاریخ سے استدلال ہزاروں سال تک روئے زمین پر مختلف قوموں کی آبادی اور ان کے بگاڑ کے نتیجے میں ہزاروں انبیائے کرام کی بعثت کے اجمالی ذکر کے بعد اب متعین طور پر دو رسولانِ گرامی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جن کے نام لیوائوں اور نسبت کا دعویٰ رکھنے والوں کی ایک قوم جو بنی اسرائیل کے نام سے معروف تھی اور اس وقت آنحضرت ﷺ کی دعوت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ انھیں ان کی تاریخ یا ددلا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کی دعوت کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات بھی یاد دلائی جارہی ہیں اور اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ فرعون اور اس کے عمائدین نے جو رویہ ان اولوالعزم رسولوں کے ساتھ اختیار کیا تو دیکھ لو پھر اس کا انجام کیا ہوا ؟ اور اگر تم بھی وہی رویہ اختیار کرو گے باجود اس کے کہ تمہارے پاس کسی نہ کسی حد تک آسمانی ہدایت اور تمہاری اپنی تاریخ بھی ہے۔ لیکن کسی بھی پیغمبر کی دعوت کے انکار کے نتیجے میں یہ تمام باتیں دھری رہ جاتی ہیں۔ حضرتِ موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا ذکر تاریخِ نبوت کی ایک کڑی کے طور پر فرماتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی طرف ان دونوں بزرگوں کو بھیجا گیا تھا وہ اپنا ایک خاص قومی مزاج رکھتے تھے۔ جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔ اس مزاج کی رعائت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت سے معجزات سے نوازا اور ان میں سے بطور خاص ایک معجزہ عصائے موسیٰ تھا جسے یہاں سلطانِ مبین کہا گیا ہے کیونکہ اس معجزے کو دیکھتے ہوئے دو باتیں بالکل واضح تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ معجزہ ایسی سند ماموریت کی حیثیت رکھتا تھا جس سے بڑھ کر کوئی سند نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اسے دیکھتے ہی یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں رہتا تھا کہ جس کے ہاتھ کی لٹھیا ایسی حیرت انگیز شکل اختیار کرجاتی اور ایسے محیر العقول کمالات رکھتی ہے وہ یقینا اللہ کا نمائندہ ہے اور دوسری یہ بات یہ کہ وہ لٹھیا اپنے اندر وہ قوت رکھتی ہے جس کی موجودگی میں اس لٹھیا بردار پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے معجزے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ فرعون اور اس کے عمائدین انتہائی مغرور لوگ تھے۔ انھوں نے تکبر ہی کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کیا اور تکبر ہی انھیں اس بات پر اکساتا تھا کہ تم ہر ممکن طریق سے اس دعوت سے گریز کرو۔
Top