Kashf-ur-Rahman - Al-Waaqia : 14
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے، جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ط کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَـتُـھَا اَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ 5 لا فَکَذَّبْنَا وُقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ صلے ج اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ۔ (الملک : 8، 9) (قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے، جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ وہ جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے پاس ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ ) جہنم کے جوش و غضب کی تعبیر یہ جہنم کے جوش و غضب کی تعبیر ہے، یعنی اس کے غضب سے معلوم ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹی جارہی ہے۔ ہم بھی اپنی زبان میں جب کسی شخص کو بہت غصے کا اظہار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور یا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غصے میں کھول رہا ہے تو ہم اسے اسی طرح تعبیر کرتے ہیں کہ وہ غصے میں پھٹا جارہا ہے۔ جہنم کے غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا ہی سزا کے لیے کیا ہے اور سزا بھی ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے دن کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں زندگی گزار کے آئے ہوں گے اور کسی پیغمبر کی بات پر انھوں نے کان نہ دھرا ہوگا۔ اسی بنیادی صداقت کے اظہار کے لیے جہنم کے داروغے ان شامت زدوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے اعتراف کے لیے دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس کی کمی نہیں۔ جو شخص بھی کھلی آنکھوں اور کھلے دل سے زندگی گزارے اس کے لیے قیامت کا وقوع انسان کے مقصد زندگی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر غور کرتا ہے اس کے لیے قیامت کا انکار اللہ تعالیٰ کے عادل ہونے کے انکار کے مترادف ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہے کہ اس نے ان بنیادی صداقتوں کے اعتراف کے لیے انسانی فطرت اور انسانی عقل کو کافی نہیں ٹھہرایا بلکہ انسانوں کے ہر گروہ کی طرف اس کے رسول آئے اور کتابیں نازل ہوئیں۔ اس لیے جہنم کے داروغے انھیں ملامت کرتے ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ ان سے بنیادی حقائق کا اعتراف کراتے ہوئے یہ پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے تم آج کے ہولناک انجام سے بچ جاتے۔ تو وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ ڈرانے والا تو آیا تھا اور اس نے ہمیں انذار کرنے میں کوئی کمی بھی نہیں کی۔ لیکن یہ ہماری بدنصیبی تھی کہ ہم سے جس کسی نے بھی یہ خیرخواہی کرنے کی کوشش کی، ہم نے ایسے تمام لوگوں کی تکذیب کی اور ہم نے ان سے صاف کہا کہ تم جو بار بار یہ کہتے ہو کہ یہ دین اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، یہ شریعت اس کی طرف سے آئی ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ ہم ایک دن ایسا لائیں گے جب تم سے اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ تم نے ہمارے احکام کے مطابق زندگی گزاری یا اس کی مخالفت میں۔ تم یہ غلط کہتے ہو، اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نازل نہیں کی، اس کی طرف سے نہ کوئی رسول آیا اور نہ کوئی کتاب اتری۔ تم خود ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو اور ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مر کھپ جانے کے بعد ہم سب ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہوگا۔ آیت کے آخری جملے میں ” اَنْتُمْ “ کا لفظ آیا ہے جو جمع کی ضمیر ہے۔ حالانکہ جہنم کے داروغے ان سے سوال صرف ایک نذیر کے بارے میں کریں گے جو واحد ہے۔ اس میں دراصل یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف ایک نذیر ہی کو نہیں جھٹلایا بلکہ جس نے بھی ہمیں قیامت کے دن سے خبردار کرنے کی کوشش کی، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہو یا اس کا کوئی ساتھی، ہم نے سب کو گمراہ ٹھہرایا اور ان کی تکذیب کی۔
Top