Tadabbur-e-Quran - Al-Kahf : 55
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا
وَمِنَ : اور کچھ حصہ الَّيْلِ : رات فَتَهَجَّدْ : سو بیدار رہیں بِهٖ : اس (قرآن) کے ساتھ نَافِلَةً : نفل (زائد) لَّكَ : تمہارے لیے عَسٰٓي : قریب اَنْ يَّبْعَثَكَ : کہ تمہیں کھڑا کرے رَبُّكَ : تمہارا رب مَقَامًا مَّحْمُوْدًا : مقام محمود
اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کے پاس خدا کی ہدایت آچکی ہے، ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت مانگنے سے نہیں روکا ہے مگر اس چیز نے کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کا وہی معاملہ ان کے لیے بھی ظاہر ہوجائے جو اگلوں کے لیے ظاہر ہوا یا عذاب الٰہی ان کے سامنے سے نمودار ہوجائے
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الأوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلا ۔ الناس۔ سے مراد یہاں بھی وہی لوگ ہیں جن سے بحث چل رہی ہے اور " قبل " کے معنی سامنے اور رو در رو کے ہیں۔ مائدہ آسمانی کی جگہ قہر آسمانی کی طلب : مطلب یہ ہے کہ قرآن نے تو ہر قسم کی تنبیہا سنا دی ہیں، کوئی چیز مخفی نہیں رہ گئی ہے، لیکن جو لوگ حقیقت سے گریز کرنا چاہتے ہیں وہ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈھ ہی لیتے ہیں۔ اب ان لوگوں کا یہ مطابہ ہے کہ یا تو ان پر اسی طرح کی تباہی آجائے جس طرح کی تباہی پچھلی قوموں پر آئی اور جس سے قرآن ڈرا رہا ہے یا کم از کم یہ کہ عذاب سامنے سے آتا دکھائی دے اور وہ اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ لیں۔ اس کے بغیر وہ اس ہدایت پر ایمان لانے اور توبہ و استغفار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن ان کے آگے مائدہ آسمانی بچھا رہا ہے لیکن یہ قہر آسمانی کے طلب گار ہیں ایسے شامت زدوں کا بھلا کیا علاج ! ان کو معلوم نہیں ہے کہ جب عذاب الٰہی نمودار ہوجائے گا تو وہ دیدار کرکے واپس نہیں چلا جائے گا بلکہ ان کا کچومر نکال کر رکھ دے گا تو اس کے بعد یہ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔
Top