Tadabbur-e-Quran - Al-Israa : 110
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ
فَاِنْ : پھر اگر اَعْرَضُوْا : وہ اعراض برتیں فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو عَلَيْهِمْ : ان پر حَفِيْظًا : نگہبان بنا کر اِنْ عَلَيْكَ : نہیں آپ کے ذمہ اِلَّا الْبَلٰغُ : مگر پہنچا دینا وَاِنَّآ : اور بیشک ہم اِذَآ : جب اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ : چکھاتے ہیں ہم انسان کو مِنَّا : اپنی طرف سے رَحْمَةً : کوئی رحمت فَرِحَ بِهَا : خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر وَاِنْ تُصِبْهُمْ : اور اگر پہنچتی ہے ان کو سَيِّئَةٌۢ : کوئی تکلیف بِمَا قَدَّمَتْ : بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے فَاِنَّ الْاِنْسَانَ : تو بیشک انسان كَفُوْرٌ : سخت، ناشکرا
اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر کوئی داروغہ نہیں مقرر کیا ہے۔ تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور انسان کو جب ہم اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں تو اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو کوئی افتاد پیش آجائے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے
فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظاً ان علیک الا ابلغ وان اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفرور (48) یہ خطاب نبی ﷺ سے ہے کہ اگر یہ لوگ اس دعوت پر لبیک کہتے ہیں تو فبہا، نہیں قبول کرتے تو تم ان کی مطلق پروا نہ کرو۔ ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں مامور کیا ہے کہ تم لازماً ان کو یہ دعوت قبول ہی کرا دو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف دعوت لوگوں تک پہنچا دینے کی ہے۔ بعینہ یہی مضمون پیچھے آیت 6 میں بھی گزر چکا ہے۔ اصل سبب اعراض کی طرف اشارہ وانا اذا اذقنا الانسان …الآیۃ یہ ان لوگوں کے سبب اعراض سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ تنگ ظرف اور ناشکرے لوگ ہیں۔ اس طرح کے انسانوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ جب ہم ان کو اپنی رحمت و نعمت سے نوازتے ہیں تو یہ ہمارے شکر گزار ہونے کے بجائے اتراتے اور اکڑتے ہیں اور اگر ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو ذرا کوئی افتاد پیش آجائے تو مایوس، بےصبر اور ناشکرے بن جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ یہ کبھی صحیح راہ اختیار کریں گے۔ آج نعمت و رفاہیت حاصل ہے تو اس کا غرور ان کے لئے حجاب بن گیا ہے اور اگر ذرا ہم ان کو اس عذاب کا مزہ چکھا دیں جس کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو مایوس ہوجائیں گے۔
Top