Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 59
وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ هُمْ : وہ بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ لَا يُشْرِكُوْنَ : شریک نہیں کرتے
جو اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، 53
سورة الْمُؤْمِنُوْن 53 اگرچہ آیات پر ایمان سے خود ہی یہ لازم آتا ہے کہ انسان توحید کا قائل و معتقد ہو، لیکن اس کے باوجود شرک نہ کرنے کا ذکر الگ اس لیے کیا گیا ہے کہ بسا اوقات انسان آیات کو مان کر بھی کسی نہ کسی طور کے شرک میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاً ریا، کہ وہ بھی ایک طرح کا شرک ہے۔ یا انبیاء اور اولیاء کی تعلیم میں ایسا مبالغہ جو شرک تک پہنچا دے۔ یا غیر اللہ سے دعا اور استعانت۔ یا برضا ورغبت اربابٌ مِن دون اللہ کی بندگی و اطاعت اور غیر الہٰی قوانین کا اتباع۔ پس ایمان بآیات اللہ کے بعد شرک کی نفی کا الگ ذکر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے لیے اپنی بندگی، اطاعت، اور عبودیت کو بالکل خالص کرلیتے ہیں، اس کے ساتھ کسی اور کی بندگی کا شائبہ تک لگا نہیں رکھتے۔
Top