Tafseer-al-Kitaab - Al-Israa : 79
وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا
وَاِنْ : اور تحقیق كَادُوْا : قریب تھا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ : کہ تمہیں پھسلا ہی دیں مِنَ : سے الْاَرْضِ : زمین (مکہ) لِيُخْرِجُوْكَ : تاکہ وہ تمہیں نکال دیں مِنْهَا : یہاں سے وَاِذًا : اور اس صورت میں لَّا يَلْبَثُوْنَ : وہ نہ ٹھہرپاتے خِلٰفَكَ : تمہارے پیچھے اِلَّا : مگر قَلِيْلًا : تھوڑا
اور رات کے کچھ حصے میں (نماز) تہجد بھی پڑھا کرو۔ یہ تمہارے لئے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب (اس کی برکت سے) تمہیں مقام محمود پر فائز کردے۔
[58] تہجد کے معنی ہیں نیند توڑ کر اٹھنا۔ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔ [59] مقام محمود کے معنی پسندیدہ مقام کے ہیں اور مقام محمود پر فائز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے مرتبہ پر پہنچا دے گا کہ آپ محمود خلائق ہو کر رہیں گے۔ کوئی ملک ہو، کوئی نسل ہو لیکن کروڑوں دلوں میں آپ کی ستائش ہوگی۔ یہ مقام انسانی عظمت کی انتہا ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔ مقام محمود سے مراد شفاعت کبُریٰ کا مقام ہے جو محشر میں تمام بنی آدم کے لئے آپ کو عطا ہوگا۔ میدان حشر میں جس وقت تمام انسان جمع ہوں گے اور ہر نبی و پیغمبر سے شفاعت کی درخواست کریں گے تو تمام انبیاء عذر کریں گے۔ صرف نبی ﷺ کو یہ شرف عطا ہوگا کہ وہ بنی آدم کی شفاعت کریں گے۔
Top